جمعۃ المبارک کی 31 اہم خصوصیات کا بیان

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف (بانی دارالحدیث جامعہ کمالیہ) کی کتاب تحفہ جمعہ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

خصوصیات جمعۃ المبارک

رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ المبارک کے شرف مقام اور خصوصیات و عظمت کا بھرپور تذکرہ فرمایا کرتے تھے۔ جمعۃ المبارک کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں۔
① جمعہ المبارک کے دن نماز فجر میں امام کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ السجدہ اور سورۃ الدھر پڑھا کرتے تھے جو کہ جمعہ کے خواص میں سے ایک خاصہ ہے۔
② جمعۃ المبارک کے دن کثرت سے درود شریف پڑھنا مستحب عمل ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: أكثروا من الصلاة على يوم الجمعة وليلة الجمعة ”کہ جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات مجھ پر کثرت سے درود بھیجو۔“
چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام جہانوں کے سردار ہیں اور جمعہ تمام ایام کا سردار دن ہے اس دن درود کا اس سے خصوصی تعلق ہے جو باقی ایام سے نہیں ہو سکتا۔
③ فرائض اسلام میں سب سے اہم فریضہ نماز جمعہ ہے اور اجتماعات اسلامیہ میں بڑا ہی عظیم اجتماع ہے جو کہ حج کے دن اجتماع کے بعد سب سے عظیم اور اہمیت کا حامل اجتماع ہے۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان گرامی ہے: من تركها تهاونا بها طبع الله على قلبه

④ غسل جمعہ کا حکم:

جمعہ کے دن غسل کرنا تا کیدی سنت ہے۔

⑤ خوشبو لگانا:

جمعتہ المبارک کے دن خوشبو لگانا مستحسن عمل ہے۔ اور وہ خوشبو بھی ہفتہ کے باقی ایام سے عمدہ قسم کی ہو۔

⑥ مسواک کرنا:

جمعہ کے دن مسواک کرنا جمعہ کی اہم خصوصیات میں شامل ہے۔ (جب کہ مسواک کی بذات خود ایک بڑی اہمیت ہے۔)

⑦ نماز کے لیے تکبیر کہنا:

یہ بھی جمعہ کی اہم خصوصیات میں سے ایک ہے۔

⑧ ہر نمازی کا نماز از کار اور تلاوت قرآن میں مشغول رہنا:

یہاں تک کہ خطبہ شروع ہو جائے۔

⑨ خطبہ جمعہ مکمل خاموشی سے سنا:

صحیح بات تو یہ ہے کہ خاموش رہنا واجب ہے۔ اگر سامع خاموشی اختیار نہ کرے گا تو گویا وہ لغو کا مرتکب ہوا ہے۔ اور جس نے لغو کام کیا اس کا جمعہ نہیں ہے۔

⑩ جمعہ کے دن سورۃ الکہف کی تلاوت کرنا:

(اور سورۃ ہود کی تلاوت)
من قرأ سورة الكهف يوم الجمعة سطع له نور من تحت قدمه إلى عنان السماء يضيء به يوم القيامة وغفر له ما بين الجمعتين
”جو بھی جمعہ کے دن سورۃ الکہف کی تلاوت کرے گا تو اس کے پاؤں سے لے کر آسمان تک اس کے لیے ایک نور اور روشنی ہوگی اور دو جمعوں کے درمیانے وقفہ کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ “
(اخرجه حاکم و بیہقی حدیث صحیح)

⑪ جمعہ والے دن زوال نہیں:

امام شافعی اور ان کے اصحاب کے نزدیک جمعہ کے دن نماز کے لیے مکروہ وقت نہیں ہے اور ابن تیمیہ رحمہ اللہ بھی اس کے قائل ہیں۔ اور یہی موقف صحیح ہے۔

⑫ نماز جمعہ مسنون قرآت:

جمعہ کا یہ بھی عظیم خاصہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز میں سورۃ جمعہ، منافقین، اعلیٰ اور غاشیہ کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
لیکن یاد رہے کہ سورتوں کے اجزاء پڑھنا سنت کے خلاف ہے۔

⑬ ہفتہ کی مگر عید:

کیونکہ یہ ہر ہفتہ میں آنے والی عید ہے۔ ابن ماجه میں ابی لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إن يوم الجمعة سيد الأيام وأعظمها عند الله وهو أعظم عند الله من يوم الأضحى ويوم الفطر
”جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑی عظمت کا حامل ہے۔ قربانی اور عید الفطر سے بھی زیادہ شان والا ہے۔“
(اخرجه ابن ماجه باب فضل الجمعة)

⑭ صاف لباس پہننا:

جمعہ کے دن جو سب سے اچھا لباس میسر ہو پہننا مستحب ہے۔

⑮ جمعہ کے دن سفر نہ کرنا:

جس پر جمعہ فرض ہے وہ جمعہ کے دن سفر نہ کرے۔

⑯ اجر عظیم کی بشارت:

جمعہ کے لیے جانے والے کے لیے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے اعمال کا اجر عظیم لکھا جاتا ہے۔

⑰ گناہوں کے کفارہ کا دن ہے:

وقت پر جمعہ ادا کرنے، صاف لباس اور خوشبو میسر ہو تو استعمال کرنا اور امام کے قریب بیٹھ کر خطبہ سننے سے گیارہ دن کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔

⑱ جمعہ کے علاوہ ہر روز جہنم کو دہکایا جاتا ہے:

کیونکہ افضل الایام ہے اس میں عام دنوں کی بنسبت عبادات، دعائیں اور تسبیحات اور اذکار جو جہنم کے تیز ہونے میں رکاوٹ بنتی ہیں اسی وجہ سے اہل ایمان کے گناہ دوسرے ایام کی بنسبت بہت کم ہوتے ہیں۔

⑲ جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی:

اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ سے کی ہوئی ہر دعا قبول ہوتی ہے۔
⑳ جمعہ کے لیے مسجد میں لوگوں کا جمع ہونا۔

㉑ نماز جمعہ:

جمعہ کے دن کی بڑی اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس میں نماز جمعہ ہوتی ہے: جو تمام نمازوں سے ممتاز ہے جس کی چند خصوصیات ہیں مثلاً رکعات کی مخصوص تعداد، جمعہ کا اجتماع، جہری قراءت۔ نماز عصر کے بعد جتنی تاکید نماز جمعہ کی ہے کسی نماز کی نہیں۔ جیسا کہ سنن اربعہ میں ابو جعد ضمری رضی اللہ عنہ کی روایت سے تاکید ثابت ہوتی ہے۔
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من ترك ثلاث جمع تهاونا بها طبع الله على قلبه
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے تین جمعے سستی سے چھوڑ دیے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔“

㉒ خطبہ جمعۃ :

جمعۃ المبارک کا ایک عظیم الشان خاصہ یہ بھی ہے: کہ اس میں خطبہ ہوتا ہے جس میں اللہ رب العزت کی حمد وثنا ہوتی ہے۔
اور توحید ورسالت کی گواہی ہوتی ہے اور اس میں تذکیر با ایام اللہ ہوتی اور اس سے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور انجام آخرت کا خوف دلایا جاتا ہے۔ اس میں اللہ کے قرب اور حصول جنت کے اعمال کی ترغیب ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور دخول جہنم کا سبب بننے والے اعمال سے روکا جاتا ہے۔

㉓ عبادت کے لیے فراغت:

جمعتہ المبارک ہی ایسا دن ہے جس میں عبادت کے لیے فراغت مستحب ہے باقی ایام کی نسبت اس دن کو مستحب اور واجب عبادات کی وجہ سے فوقیت حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر امت کے لیے ایک دن خاص کر رکھا ہے کہ اس دن میں تمام دنیاوی امور سے فراغت حاصل کر کے اللہ تعالیٰ کی عبادت کر سکیں۔ اہل اسلام کے لیے جمعہ کا دن خاص کیا گیا ہے۔ دنوں میں جمعہ کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے مہینوں میں رمضان کو فضیلت حاصل ہے۔ اور قبولیت کی گھڑی کی مثال ایسے ہی ہے جیسے رمضان میں لیلۃ القدر کو فضیلت حاصل ہے۔ اس لیے جس کا جمعہ سلامت رہا اس کے ہفتہ کے تمام دن سلامت رہیں گے اور جس کا رمضان سلامت رہا اس کا پورا سال پر امن اور سلامت رہے گا۔ اور جس کا حج صحیح رہا اس کی پوری عمر ہی صحیح اور سلامت گزرے گی۔
㉔ جمعۃ المبارک کی حیثیت ہفتہ کے دنوں میں اس طرح ہے جس طرح پورے سال کے ایام میں عید کے دن کی اہمیت ہے کیونکہ عید نماز اور قربانی پر مشتمل ہوتی ہے۔ اور جمعہ کا دن نماز کا دن ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے لیے جلدی آنے کو قربانی کا قائم مقام بنا دیا ہے۔ گویا کہ قربانی اور نماز کو جمع کر دیا ہے۔

㉕ صدقہ کی خصوصی اہمیت:

جمعہ کے دن صدقہ کرنا باقی دنوں کی نسبت زیادہ فضیلت اور اجر کا باعث ہے۔ جمعہ کے دن صدقہ دینا ایسے ہی ہے جیسے تمام مہینوں میں سے رمضان میں صدقہ کرنا افضل ہوتا ہے۔ (شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ پہلے جمعہ کو پوشیدہ صدقہ کرتے تھے۔)

㉖ یوم دیدار الہی:

جمعہ والے دن جنت میں دیدار الہی نصیب ہوگا۔ جمعہ کے دن اللہ رب العزت اپنے مومن بندوں کو جنت میں اپنی زیارت کرائے گا۔
جمعہ کے لیے جتنا کوئی امام کے قریب ہو کر جمعہ ادا کرے گا اتنا ہی زیادہ وہ اپنے رب کے قریب ہوگا اور جتنا وہ جمعہ کے لیے جلد آئے گا اپنے رب کا دیدار بھی جلد حاصل کرے گا۔

㉗ یوم شاہد:

جمعہ کا دن یوم شاہد ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
یوم موعود قیامت کے دن کو کہا جاتا ہے۔ اور یوم مشہود یوم عرفہ ہے اور جمعہ کو یوم شاہد کہا جاتا ہے۔ جمعہ کے دن سے کوئی ان بھی افضل نہیں جس میں سورج طلوع ہوا ہو یا غروب ہوا ہو اس دن میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس میں مومن اپنے رب سے جو بھی بھلائی کی دعا کرتا ہے تو ضرور قبول ہوتی یا کسی شر سے پناہ مانگتا ہے تو اس کو پناہ مل جاتی ہے۔

㉘ یوم الفرع:

جن و انس کے علاوہ تمام مخلوقات جمعہ کے دن گھبراہٹ کے عالم میں ہوتی ہیں۔ کیونکہ قیامت اسی دن قائم ہوگی تمام جہانوں کو لپیٹا جائے گا۔ اس دن لوگوں کو ان کی منزلوں (یعنی جنت اور جہنم) میں بھیجا جائے گا۔
عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم: لا تطلع الشمس ولا تغرب على يوم أفضل من يوم الجمعة وما من دابة إلا وهى تفزع ليوم الجمعة إلا هذين الثقلين من الجن والإنس
(زاد المعاد)

㉙ جمعہ کے دن مسلمانوں کے اجتماع کا دن ہے:

امت مسلمہ کے لیے اللہ تعالیٰ اس دن کو اجتماع کے لیے بنایا ہے۔ اور اہل کتاب کو گمراہ کر دیا جیسا کہ صحیح حدیث ہے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما طلعت الشمس ولا غربت على يوم خير من يوم الجمعة هدانا الله له وضل الناس عنه فالناس لنا فيه تبع هو لنا ولليهود يوم السبت وللنصارى يوم الأحد
جمعۃ المبارک سے زیادہ فضیلت والا دن جس میں سورج طلوع و غروب ہوتا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے ہمیں راہنمائی فرمائی اور لوگ اس سے گمراہ ہو گئے اسی طرح یہ لوگ بعد میں ہیں کیونکہ جمعتہ المبارک ہمارے لیے ہے اور یہودیوں کے لیے ہفتہ اور عیسائیوں کے لیے اتوار کا دن ہے۔

㉚ جمعہ کا انتخاب اللہ نے فرمایا:

ہفتہ کے دنوں میں جمعہ کا انتخاب ہمارے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس طرح سال کے مہینوں میں سے رمضان کا انتخاب فرمایا اور راتوں میں لیلۃ القدر کا انتخاب فرمایا اور زمین کے حصوں میں سے مکہ المکرمہ کا انتخاب فرمایا اور اپنی مخلوقات میں سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب فرمایا۔

㉛ جمعہ کے دن کا روزہ:

جمعہ کے دن کا روزہ رکھنا مکروہ ہے۔ بعض اہل علم کے ہاں مباح ہے۔
صحیحین میں ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:
سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا يصومن أحدكم يوم الجمعة إلا أن يصوم يوما قبله أو يوما بعده
”ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے کوئی ایک صرف جمعہ کا روزہ نہ رکھے البتہ اس سے پہلے یا بعد میں روزہ رکھ رہا ہو۔“
جمعرات اور جمعہ کو شب بیداری کے لیے خاص کرنا بھی منع ہے۔
صحیح مسلم میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
لا تخصوا ليلة الجمعة بقيام من بين الليالي ولا تخصوا يوم الجمعة بصيام من بين سائر الأيام إلا أن يكون فى صوم يصومه أحدكم
”امام کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کی رات کو قیام کے لیے خاص نہ کرو اور جمعہ کے دن کو روزہ کے لیے خاص نہ کرو۔ البتہ تم میں سے کوئی روزہ رکھ رہا ہو اور (جمعہ) درمیان میں آجائے۔“
(درج بالا خصوصیات کی تفصیل و توضیح کے لیے دیکھیئے: زاد المعاد، ابن قیم ص 149 تا 172)