جمعہ کے دن کے مسنون آداب اور ممنوع امور صحیح احادیث کی روشنی میں

یہ اقتباس مکتبہ دارالاندلس کی جانب سے شائع کردہ کتاب صحیح نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے جو الشیخ عبدالرحمٰن عزیز کی تالیف ہے۔
مضمون کے اہم نکات

جمعہ کے آداب

جمعہ کے لیے طہارت :

❀ جو شخص جمعہ پڑھنے کے لیے جائے اسے غسل کرنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إذا جاء أحدكم الجمعة فليغتسل
”جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لیے آئے تو اسے غسل کرنا چاہیے۔“
[ بخارى، كتاب الجمعة، باب فضل الغسل يوم الجمعة …… الخ : 877 – مسلم : 844]
❀ بوجہ مجبوری کوئی شخص غسل کی بجائے صرف وضو کر لے تو بھی جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من توضأ فبها ونعمت ، ومن اغتسل فهو أفضل
”جو شخص (جمعہ کے دن ) وضو کرے تو یہ اچھا اور نعمت ہے اور جو غسل کرے تو یہ افضل ہے۔”
[ أبو داؤد، كتاب الطهارة، باب في الرخصة في ترك الغسل يوم الجمعة : 354 – ترمذی : 497 – نسائی : 1381 – حسن ]
❀ محض سستی کی وجہ سے جمعہ کا غسل ترک نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا اور اسے افضل قرار دیا ہے ۔
❀مسواک کرنی چاہیے اور خوشبو میسر ہو تو لگانی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الغسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم وأن يستن ، وأن يمس طيبا إن وجد
”جمعہ کے دن غسل کرنا ہر بالغ مسلمان پر فرض ہے اور یہ کہ وہ مسواک کرے اور اگر خوشبو میسر ہو تو لگائے ۔“
[ بخارى كتاب الجمعة، باب الطيب للجمعة : 880 – مسلم : 846]
❀جمعہ کے روز خوبصورت لباس پہنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر ممکن ہو تو جمعہ کے لیے اپنے کام کاج کے کپڑوں کے علاوہ دو کپڑے (یعنی ایک سوٹ ) اور بنا رکھنے میں کیا حرج ہے؟
[ أبو داؤد، كتاب الجمعة، باب اللباس للجمعة : 1078 – ابن ماجه : 1096/1095 – صحيح]

مسجد کی طرف جانے کے آداب:

❀ یہ مسجد کی طرف جانے کے آداب اور جماعت کی طرف جانے کے ”آداب“ کے عناوین کے تحت مسجد اور جماعت کے ابواب میں ملاحظہ فرمائیں ۔

مسجد میں بیٹھنے کے آداب :

❀ مسجد میں بیٹھنے کے آداب اس عنوان کے تحت مساجد کا بیان میں ملاحظہ فرمائیں۔

جمعہ کے لیے جلدی اور پیدل جانا:

❀رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور خوب اچھی طرح غسل کرے، جلدی مسجد جائے ، پیدل چلے اور سوار نہ ہو ، امام کے نزدیک بیٹھے، دل جمعی سے خطبہ سنے اور کوئی بے ہودہ کام نہ کرے، تو اسے ہر قدم پر ایک سال کے روزوں کا اور اس کی راتوں کے قیام کا ثواب ہو گا ۔“
[ ابو داؤد، كتاب الطهارة، باب في الغسل للجمعة : 345 – ترمذی: 496 – نسائی : 1399 – ابن ماجه : 1087 – صحیح ]

امام کے قریب بیٹھنے کا ثواب :

جس قدر ممکن ہو امام کے قریب بیٹھنا چاہیے، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث میں مذکور ہے۔ مزید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
تقدموا فالتمسوا بي ، وليأتم بكم من بعدكم ، لا يزال قوم يتأخرون حتى يؤخرهم الله فى النار
”آگے آکر میرے قریب بیٹھا کرو اور جو لوگ تمھارے بعد آئیں وہ تمھارے قریب بیٹھیں، جو لوگ پچھلی صفوں میں رہنا پسند کرتے ہیں، اللہ انھیں ہر معاملے میں پیچھے کر دے گا حتی کہ جہنم سے نکالنے میں بھی۔“
[ مسلم، كتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف الخ : 438 – أبو داود : 679 – صحيح ]

خطبہ کے دوران میں تحیۃ المسجد ادا کرنا :

❀خطبہ شروع ہو تو بھی تحیۃ المسجد ادا کر کے بیٹھنا چاہیے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ اتنے میں سلیک غطفانی رضی اللہ عنہ آئے اور بیٹھ گئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا : ”اے سلیک! کھڑا ہو اور مختصری دو رکعات ادا کر ،“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”جب تم جمعہ کے روز آؤ اور امام خطبہ دے رہا ہو تو (بیٹھنے سے پہلے لازمی طور پر مختصری دو رکعات ادا کیا کرو )۔“
[ مسلم، کتاب الجمعة، باب التحية و الإمام يخطب : 875/59]
❀بعض لوگ خطبہ شروع ہو جائے تو دو رکعات تحیۃ المسجد نہیں پڑھتے ، وہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں : ”جب امام منبر پر چڑھ جائے تو نماز جائز ہے نہ بات چیت ۔“ لیکن یہ روایت باطل اور بے اصل ہے۔
[ موضوع اور منکر روایات : 49]

خطبہ سننے کے آداب :

❀رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من توضأ فأحسن الوضوء ، ثم أتى الجمعة فاستمع وأنصت ، غفر له ما بينه وبين الجمعة ، وزيادة ثلاثة أيام ، ومن مس الحصى فقد لغا
”جو شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر جمعہ کے لیے آئے ، غور سے خطبہ سنے اور خاموش رہے، تو اس کے اگلے جمعہ تک کے اور مزید تین دن کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور جو کنکری (یا تنکے ) وغیرہ سے کھیلا اس نے فضول کام کیا۔“
[مسلم، كتاب الجمعة، باب فضل من استمع و أنصت في الخطبة : 857/27]
❀دوران خطبہ میں بولنے والے کو زبان سے خاموش کروانا بھی لغو (لا یعنی ) کام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إذا قلت لصاحبك يوم الجمعة انصت ، والإمام يخطب فقد لغوت
”خطبہ جمعہ کے دوران میں اگر تو نے اپنے ساتھی سے کہا ”خاموش ہو جا !“ تو تو نے بھی لغو کام کیا۔“
[ بخارى، كتاب الجمعة، باب إنصات يوم الجمعة : 934 – مسلم : 851]
❀ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من لغا وتخطى رقاب الناس كانت له ظهرا
”جس نے لغو کام کیا یا لوگوں کی گردنیں پھلانگیں، اسے صرف نماز ظہر کا ثواب ملے گا (جمعہ کے ثواب سے محروم رہے گا )۔“
[ أبو داود، كتاب الطهارة، باب في الغسل للجمعة : 347 – حسن ]
❀جب خطبہ شروع ہو جائے تو نماز اور تلاوت ختم کر دینی چاہیے۔
❀بعض جگہ دیکھا گیا ہے کہ خطبہ کے دوران میں نعرے بازی ہوتی ہے، یہ خطبہ کے منافی ہے۔ بعض لوگ خطبہ کے دوران میں آتے ہیں اور ساتھ والے سے خیر خیریت دریافت کرنے لگتے ہیں، یہ خطبہ کے منافی ہے۔
❀بعض لوگ خطبہ کے دوران میں مسواک کرنے لگتے ہیں۔ یہ بھی خطبہ کے منافی ہے۔ خطبہ کے دوران میں گوٹھ مار کر بیٹھنا منع ہے۔
❀سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ کے دوران میں رانوں کو پیٹ سے جوڑ کر اور بازوؤں سے گھٹنے پکڑ کر بیٹھنے سے منع فرمایا۔“
[ ترمذی، کتاب الجمعة، باب ما جاء في كراهية الاحتباء والإمام يخطب : 514 – حسن ]
❀سامعین کو خطیب کی طرف رخ کر کے بیٹھنا چاہیے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم وصعد المنبر وجلسنا حوله
”ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر چڑھ کر ہمیں خطبہ دیا اور ہم آپ کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے۔“
[ مسند أحمد : 21/3، ح : 11174]

خطیب سے بات کرنا جائز ہے :

خطبہ کے دوران میں کسی ضرورت سے مقتدی امام سے مخاطب ہو سکتا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
بينما النبى صلى الله عليه وسلم يخطب يوم جمعة إذ قام رجل فقال يا رسول الله ! هلك الكراع وهلك الشاء فادع الله أن يسقينا ، فمد يديه ودعا
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا : ”اے اللہ کے رسول ! گھوڑے اور بکریاں ہلاک ہو گئیں، آپ اللہ سے بارش کی دعا کریں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھا کر دعا کی۔“
[ بخارى كتاب الجمعة، باب رفع اليدين في الخطبة : 932 – مسلم : 897]

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️