جمعہ کے دن کے فضائل اور مسائل صحیح احادیث کی روشنی میں

یہ اقتباس مکتبہ دارالاندلس کی جانب سے شائع کردہ کتاب صحیح نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے جو الشیخ عبدالرحمٰن عزیز کی تالیف ہے۔
مضمون کے اہم نکات

نماز جمعہ کا بیان

یوم جمعہ کی فضیلت:

❀رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خير يوم طلعت عليه الشمس يوم الجمعة، فيه خلق آدم وفيه أدخل الجنة وفيه أخرج منها ولا تقوم الساعة إلا فى يوم الجمعة
بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے، اس دن آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، اسی دن انھیں جنت میں داخل کیا گیا اور اسی دن انھیں جنت سے نکالا گیا اور قیامت بھی اسی دن قائم ہوگی۔
[مسلم، کتاب الجمعة، باب فضل يوم الجمعة: 854/18]
❀جمعہ مسلمانوں کے لیے عید ہے۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے جمعہ والے دن عید آنے پر فرمایا:
عيدان اجتمعا فى يوم واحد
بلاشبہ ایک دن میں دو عیدیں جمع ہو گئی ہیں۔
[ابو داؤد، کتاب الجمعة، باب إذا وافق يوم الجمعة يوم عيد: 1072۔ صحیح]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سيد الأيام يوم الجمعة
جمعہ تمام دنوں کا سردار ہے۔
[مستدرک حاکم: 277/1، حدیث: 1026۔ إسناده حسن لذاته، ابن أبي الزناد صدوق حسن الحديث]

جمعہ کے دن قبولیت دعا کی گھڑی:

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
في يوم الجمعة ساعة لا يوافقها مسلم وهو قائم يصلي يسأل الله تعالى خيرا إلا أعطاه
جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے کہ اگر کوئی مسلمان اسے حالت نماز میں پالے تو اس میں وہ جو بھی اللہ سے دعائے خیر کرے گا، وہ پوری ہوگی۔
[بخاری، کتاب الدعوات، باب الدعاء في الساعة التي في يوم الجمعة: 6400۔ مسلم: 852/14]
اور ایک دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
هي ما بين أن يجلس الإمام إلى أن تقضى الصلاة
دعا کی قبولیت کا یہ وقت امام کے (منبر پر) بیٹھنے سے نماز کے اختتام تک ہوتا ہے۔
[مسلم، کتاب الجمعة، باب في الساعة التي في يوم الجمعة: 853]
اس گھڑی سے متعلق دو احادیث اور بھی ہیں، ابن ماجه (1139) اور مسند احمد (351/5، حدیث: 23843) کی صحیح حدیث میں ہے:
هي آخر ساعات النهار
یہ دن کی آخری گھڑی ہے۔
❀ اور ابو داؤد (1048) کی صحیح حدیث میں ہے:
فالتمسوها آخر ساعة بعد العصر
اسے عصر کے بعد کی آخری گھڑی میں تلاش کرو۔
تو ان مختلف احادیث سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ گھڑی زوال آفتاب سے لے کر غروب آفتاب کی گھڑیوں میں سے کوئی گھڑی ہے۔ (واللہ اعلم)

نماز جمعہ کی فضیلت:

❀رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من اغتسل ثم أتى الجمعة فصلى ما قدر له ثم أنصت حتى يفرغ من خطبته ثم يصلي معه غفر له ما بينه وبين الجمعة الأخرى وفضل ثلاثة أيام
جو شخص غسل کرے، پھر جمعہ کے لیے آئے اور توفیق کے مطابق نماز پڑھے، پھر خطبہ ختم ہونے تک خاموش رہے، پھر امام کے ساتھ نماز ادا کرے، تو اس کے گزشتہ جمعہ سے اس جمعہ تک کے اور مزید تین دنوں کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
[مسلم، کتاب الجمعة، باب فضل من استمع وأنصت في الخطبة: 857]
❀اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من غسل يوم الجمعة واغتسل ثم بكر وابكر ومشى ولم يركب ودنا من الإمام فاستمع ولم يلغ كان له بكل خطوة عمل سنة أجر صيامها وقيامها
جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور خوب اچھی طرح غسل کرے، پھر وہ جلدی مسجد جائے، پیدل چلے اور سوار نہ ہو، امام کے نزدیک بیٹھے، دل جمعی سے خطبہ سنے اور کوئی بے ہودہ کام نہ کرے تو اسے ہر قدم پر ایک سال کے روزوں کا اور اس کی راتوں کے قیام کا ثواب ہوگا۔
[ابو داؤد، کتاب الطهارة، باب في الغسل للجمعة: 345۔ ترمذی: 496۔ ابن ماجه: 1087۔ صحیح]
❀اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص جمعہ کے دن غسل جنابت کرے، پھر مسجد کی طرف جائے، تو گویا اس نے ایک اونٹ صدقہ کیا، پھر جو دوسری گھڑی میں جائے تو اس نے گویا گائے صدقہ دی، جو تیسری گھڑی میں جائے تو اس نے گویا سینگوں والا مینڈھا صدقہ کیا، جو چوتھی گھڑی میں جائے تو اس نے گویا ایک مرغی صدقہ دی اور جو پانچویں گھڑی میں جائے تو اس نے گویا ایک انڈہ صدقہ کیا، پھر جب امام منبر پر آ جائے تو فرشتے اپنے رجسٹر بند کر کے مسجد میں آ کر خطبہ سننے لگتے ہیں۔
[بخاری، کتاب الجمعة، باب فضل الجمعة: 881، 929۔ مسلم: 850]

نماز جمعہ کی فرضیت:

❀ارشاد باری تعالی ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
(الجمعة: 9)
اے اہل ایمان! جب جمعہ کے دن نماز (جمعہ) کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر (خطبہ و نماز) کی طرف دوڑ پڑو اور کاروبار چھوڑ دو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو۔
❀ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
على كل محتلم رواح الجمعة
ہر بالغ شخص پر جمعہ کے لیے جانا فرض ہے۔
[ابو داؤد، کتاب الطهارة، باب في الغسل للجمعة: 342۔ صحیح]

فرضیت جمعہ سے مستثنیٰ لوگ:

❀غلام، عورت، بچہ اور مریض پر جمعہ فرض نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الجمعة حق واجب على كل مسلم فى جماعة إلا أربعة: عبد مملوك، أو امرأة، أو صبي، أو مريض
جمعہ واجب ہے ہر مسلمان پر جماعت کے ساتھ، سوائے چار قسم کے لوگوں کے: غلام، عورت، بچہ اور مریض۔
[ابو داؤد، کتاب الجمعة، باب الجمعة للمملوك والمرأة: 1067۔ صحیح۔ مستدرک حاکم: 288/1، حدیث: 1062]
❀مندرجہ بالا تمام لوگوں کو جمعہ پڑھنے کی اجازت ہے، بلکہ اگر ان کے لیے جمعہ ادا کرنا ممکن ہو تو انھیں جمعہ ادا کرنا چاہیے، تاکہ ان کی بھی تربیت ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور میں یہ سب لوگ جمعہ میں حاضر ہوتے تھے۔
جمعہ میں عورتوں کے جانے کی وہی شرائط ہیں جو عام نماز کے لیے مسجد میں جانے کی ہیں۔
نماز جمعہ کے ساتھ ظہر احتیاطی پڑھنے کا ثبوت کسی صحیح حدیث سے نہیں ملتا، یہ ناجائز ہے۔

جمعہ کی رخصت:

❀ مندرجہ ذیل حالتوں میں جمعہ چھوڑنے کی رخصت ہے:
➊ حالت سفر میں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران حج میں میدان عرفات میں جمعہ ادا نہیں کیا، بلکہ نماز ظہر پڑھی تھی۔
[مسلم، کتاب الحج، باب حج النبي صلى الله عليه وسلم: 1218]
➋ خوف کی حالت میں۔
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب في التشديد في ترك الجماعة: 1001]
➌ بارش کی وجہ سے مسجد میں جانا مشکل ہو۔
[بخاری، کتاب الجمعة، باب الرخصة إن لم يحضر الجمعة في المطر: 901۔ مسلم: 699]
➍ عید اور جمعہ ایک ہی دن اکٹھے ہو جائیں تو عید پڑھنے والوں کے لیے جمعہ کی رخصت ہے۔ البتہ امام کو جمعہ پڑھانا چاہیے، تاکہ جو جمعہ پڑھنا چاہتے ہیں وہ محروم نہ رہ جائیں۔
[ابو داؤد، کتاب الجمعة، باب إذا وافق يوم الجمعة يوم عيد: 1070۔ نسائی: 1592۔ صحیح]
❀ جو لوگ نماز جمعہ میں شریک نہ ہو سکیں، انھیں نماز ظہر ادا کرنی چاہیے۔

شرعی عذر کے بغیر جمعہ ترک کرنا:

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لينتهين أقوام عن ودعهم الجمعات أو ليختمن الله على قلوبهم ثم ليكونن من الغافلين
لوگ جمعہ چھوڑنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر وہ غافل ہو جائیں گے۔
[مسلم، کتاب الجمعة، باب التغليظ في ترك الجمعة: 865]
❀ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من ترك ثلاث جمع تهاونا بها طبع الله على قلبه
جس شخص نے محض سستی کی وجہ سے تین جمعے چھوڑ دیے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔
[ابو داؤد، کتاب الجمعة، باب التشديد في ترك الجمعة: 1052۔ ترمذی: 500۔ نسائی: 1370۔ ابن ماجه: 1125۔ صحیح]
❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لقد هممت أن آمر رجلا يصلي بالناس ثم أحرق على رجال يتخلفون عن الجمعة بيوتهم
یقیناً میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں کسی شخص کو نماز پڑھانے کا حکم دوں، پھر جا کر ان لوگوں کے گھر جلا دوں جو بلا عذر جمعہ سے پیچھے رہ گئے ہیں۔
[مسلم، کتاب المساجد، باب فضل صلاة الجماعة وبيان التشديد في تركها: 652]

جمعہ کے دن نماز فجر کی قراءت:

❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نماز فجر میں سورۃ السجدہ اور سورۃ الإنسان کی تلاوت کیا کرتے تھے۔
[بخاری، کتاب الجمعة، باب ما يقرأ في صلاة الفجر يوم الجمعة: 891۔ مسلم: 880]

جمعہ کے دن سورۃ الکہف کی تلاوت:

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن من قرأ سورة الكهف يوم الجمعة أضاء له من النور ما بين الجمعتين
جو شخص جمعہ کے دن سورۃ الکہف تلاوت کرے، تو اسے آئندہ جمعہ تک نور میں سے روشنی نصیب ہوگی۔
[مستدرک حاکم: 368/2، حدیث: 3392۔ إرواء الغلیل: 626۔ صحیح]

یوم جمعہ کے ممنوعات :

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لا يصوم أحدكم يوم الجمعة إلا يوما قبله أو بعده
”تم میں سے کوئی جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھے، ہاں اگر وہ اس سے پہلے دن کا ، یا بعد والے دن کا روزہ ساتھ ملا لے (تو پھر ٹھیک ہے )۔“
[ بخاری، کتاب الصوم، باب صوم يوم الجمعة …… الخ : 1985 – مسلم : 1144 ]
❀ جمعہ کی رات کو عبادت کے لیے خاص نہیں کرنا چاہیے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لا تختصوا ليلة الجمعة بقيام من بين الليالي
”جمعہ کی رات کو قیام کے لیے مخصوص نہ کرو۔“
[ مسلم، کتاب الصيام، باب كراهة إفراد يوم ……. الخ : 1144/148]

نماز جمعہ کہاں ادا ہو سکتی ہے؟:

نماز جمعہ کی فرضیت کے لیے کوئی شرط نہیں، بس استطاعت رکھنے والے مسلمانوں پر جمعہ ادا کرنا فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی تخصیص کے فرمایا :
”اے اہل ایمان ! جب جمعہ کے دن نماز (جمعہ ) کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر (خطبہ و نماز ) کی طرف دوڑ پڑو اور کاروبار چھوڑ دو ۔“
(62-الجمعة:9)
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کسی شرط کا ذکر کیے بغیر فرمایا :
على كل محتلم رواح الجمعة
”ہر بالغ شخص پر نماز جمعہ کے لیے جانا فرض ہے۔“
[ أبو داود، كتاب الطهارة، باب في الغسل للجمعة : 342 – صحيح ]
بعض لوگوں نے نماز جمعہ کے لیے کئی شرائط لگا رکھی ہیں، مثلاً اسلامی حکومت ہو شہر ہو ، کم سے کم چالیس آدمی جمعہ پڑھنے والے ہوں۔ اگر ان میں سے ایک بھی شرط مفقود ہوگی تو نماز جمعہ نہیں ہو گا۔ یہ تمام شرائط خود ساختہ ہیں، ان کا کتاب وسنت سے کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ یہ شرعی دلائل کے خلاف ہیں۔ آئیے ! ہم ان شرائط کا تحقیقی جائزہ لیتے ہیں۔

کافرممالک میں جمعہ:

جمعہ کے انعقاد کے لیے اسلامی حکومت کا ہونا شرط نہیں ہے، بلکہ جمعہ ہر اس جگہ ہو سکتا ہے جہاں مسلمان موجود ہوں اور جمعہ پڑھنے کی استطاعت رکھتے ہوں، خواہ وہ اسلامی ملک ہو یا غیر اسلامی۔ مندرجہ ذیل روایات اس بات پر شاہد ہیں:
➊ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت سے پہلے (مکہ میں ) جمعہ پڑھنے کی اجازت دی گئی ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (کفار کی شدید مخالفت کی وجہ سے ) مکہ میں جمعہ کی ادائیگی ممکن نہ تھی ، لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو ، جو مدینہ میں نمائندہ رسول کی حیثیت سے تھے ، خط لکھ کر جمعہ ادا کرنے کا حکم دیا، تو سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں جمعہ کا آغاز کر دیا۔“
[ إرواء الغليل : 68/3، تحت الحديث : 601 – حسن ]
➋ مدینہ سے ایک میل کے فاصلے پر بستی بنی بیاضہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے سے قبل ہی سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ نے جمعہ شروع کر دیا تھا۔
[ ابن ماجہ، کتاب إقامة الصلوات، باب في فرض الجمعة : 1082 – أبو داود : 1069 – حسن۔ المنتقى : 4/1 25 : 21 – مستدرك حاكم : 280/1 ، 281، ح : 1038 ]
➌ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا جمعہ بنو سالم کی بستی میں پڑھایا تھا۔
[ أخبار المدينة النبوية : 68/1 ]
مندرجہ بالا تینوں روایات اس بات پر شاہد ہیں کہ جمعہ کی ادائیگی کے لیے اسلامی حکومت کی موجودگی لازمی نہیں، کیونکہ اس وقت مدینہ میں اسلامی حکومت کے ابتدائی خدوخال بھی نہیں تھے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ مکہ میں اسلامی حکومت نہ ہونے کی وجہ سے جمعہ ادا نہیں کیا گیا ، تو اس کا جواب حدیث میں موجود ہے کہ مکہ میں جمعہ ادا نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کی قوت و استطاعت نہ تھی ، نہ کہ اس کی وجہ اسلامی حکومت کا عدم قیام تھی ۔

دیہات وغیرہ میں جمعہ:

جمعہ کے انعقاد کے لیے شہر کا ہونا شرط نہیں، بلکہ جمعہ ہر اس جگہ ہو سکتا ہے جہاں مسلمان موجود ہوں اور جمعہ پڑھنے کی استطاعت رکھتے ہوں، خواہ وہ شہر ہو یا چند گھروں پر مشتمل بستی ہو ۔ بنی بیاضہ اور بنو سالم میں جمعہ کا ذکر گزر چکا، مزید دلائل حسب ذیل ہیں:
➊ مسجد نبوی کے بعد سب سے پہلے بحرین کے گاؤں ”جواثی“ میں مسجد عبد القیس میں جمعہ شروع ہوا۔
[ بخاری، کتاب الجمعة، باب الجمعة في القرى والمدن : 4371،892 – أبو داود : 1068 ]
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی بنیاد پر رزيق بن حکیم رضی اللہ عنہ نے ابن شہاب کو اپنے کھیت میں کام کرنے والے ملازموں کو جمعہ پڑھانے کا حکم دیا۔
[ بخاري، كتاب الجمعة، باب الجمعة فى القرى والمدن : 893]
➌ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بحرین سے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر جمعہ کے متعلق پوچھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
جمعوا حيثما كنتم
”تم جہاں کہیں بھی رہ رہے ہو ، وہیں جمعہ پڑھو۔“
[مصنف ابن أبي شيبة : 440/1، ح : 5068 – علامہ الالبانی نے اسے بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے ]
➍ ثقہ و متقن محدث امام لیث بن سعد رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”ہر شہر اور گاؤں کہ جہاں نماز کی جماعت ہو، وہاں کے رہنے والوں کو جمعہ کا حکم دیا گیا اور اہل شہر اور اس کے ساحلی علاقوں کے لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں جمعہ پڑھا کرتے تھے اور (شہر اور ساحلی دیہات) دونوں جگہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے۔“
[ السنن الكبرى للبيهقي : 254/3، ح : 5612]
لہذا مندرجہ بالا روایات سے ثابت ہوا کہ دیہات و کھیت وغیرہ جس جگہ بھی مسلمان ہوں اور وہ جمعہ پڑھ سکتے ہوں تو انھیں جمعہ ادا کرنا چاہیے۔ اس کے برعکس بعض لوگوں کا نظریہ ہے کہ دیہاتوں میں جمعہ پڑھنا جائز نہیں، جمعہ کے لیے شہر کا ہونا ضروری ہے اور ان کے نزدیک شہر وہ ہے کہ جس کی بڑی مسجد میں وہ سب لوگ نہ سما سکیں جن پر جمعہ واجب ہو، اگرچہ فعلاً وہ مسجد نہ آئیں۔
[ الفقه على المذاهب الأربعة : 379/1]
ان کی دلیل سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان ہے :
لا جمعة ولا تشريق إلا فى مصر جامع
”جمعہ اور عید صرف شہر میں ہو سکتے ہیں۔“
[ عبد الرزاق: 5175 – مصنف ابن أبي شيبة : 439/1، ح : 5059]
یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے ، جو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ، سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے قول کے مخالف ہے، بلکہ مذکورہ مرفوع روایات کے بھی خلاف ہے۔ لہذا مرفوع روایات کے مقابلے میں کیونکر اسے تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ ان دلائل کے نا درست ہونے کی یہی دلیل کافی ہے کہ ان دلائل کو ماننے والے آج خود دیہاتوں میں جمعہ پڑھا رہے ہیں۔

میدان میں جمعہ:

❀ نماز جمعہ پڑھنے کے لیے مسجد کا ہونا ضروری نہیں ہے، کسی بھی ایسی جگہ نماز جمعہ ادا کی جا سکتی ہے جہاں لوگ جمع ہو سکتے ہوں۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا جمعہ بنو سالم کی بستی میں پڑھایا تھا۔
[ أخبار المدينة النبوية : 68/1 ]

بحری جہاز میں جمعہ:

❀ مسافر ہونے کی بنا پر بحری جہاز والوں کے لیے جمعہ ضروری نہیں ہے، لیکن اگر وہ جمعہ ادا کرنا چاہیں تو پڑھ سکتے ہیں، اس لیے کہ اگر وہاں دیگر نمازیں ادا ہو سکتی ہیں تو جمعہ بھی ادا ہو سکتا ہے۔

فوجی چھاؤنیوں میں جمعہ:

❀ فوجی چھاؤنیوں میں نماز جمعہ پڑھنا جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ جمعہ میں تمام مسلمانوں کو جمعہ پڑھنے کا حکم دیا ہے۔
”اے اہل ایمان ! جب جمعہ کے دن نماز (جمعہ ) کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر (خطبہ و نماز ) کی طرف دوڑ پڑو اور کاروبار چھوڑ دو ۔“
(62-الجمعة:9)
حدیث میں چند لوگوں (عورت، بچے ، غلام، مریض ) کو جمعہ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، اس میں فوجی چھاؤنیوں کا ذکر نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے جمعہ کے لیے یہ شرط لگائی ہے کہ جمعہ ایسی جگہ ہو سکتا ہے جہاں عام لوگوں کو آنے کی اجازت ہو۔ یہ شرط قرآن وسنت میں کہیں موجود نہیں ہے، لہذا اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

نماز جمعہ کے لیے نمازیوں کی تعداد:

بعض علماء نے جمعہ کے انعقاد کے لیے نمازیوں کی تعداد کا تعین کیا ہے، پھر ان کا آپس میں بھی اختلاف ہے۔ بعض چالیس کی شرط لگاتے ہیں، بعض بارہ اور بعض کے نزدیک تین اور بعض کے نزدیک ایک مقتدی کا ہونا ضروری ہے۔ علامہ الالبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”جمعہ کے انعقاد کے لیے قرآن وسنت نے کوئی عدد متعین نہیں کیا۔ اگر کسی حدیث میں عدد کی شرط عائد کی گئی ہے تو وہ ضعیف ہے ۔“
[ إرواء الغلیل : 69/3 ]
❀ امام شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جمعہ عام نماز کی طرح ہے، جس طرح عام نماز کے لیے تعداد کی شرط نہیں اسی طرح جمعہ کے لیے بھی کوئی شرط نہیں۔ بس خطبہ دینے والا اور سننے والا موجود ہو تو جمعہ منعقد ہو جائے گا۔“
[ نيل الأوطار : 276/3، بعد الحديث : 1188 ]

خطبہ جمعہ کے لیے حاکم وقت کا ہونا:

❀ بعض لوگوں نے یہ شرط لگائی ہے کہ جمعہ کے لیے ضروری ہے کہ حاکم وقت پڑھائے، یا اس کا مقرر کردہ خطیب ہو، یا اس نے اجازت دی ہو۔ یہ شرط بھی قرآن وسنت سے ثابت نہیں اور جو لوگ یہ شرط لگاتے ہیں آج وہ خود اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

نماز جمعہ کا وقت :

❀ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كان النبى صلى الله عليه وسلم إذا اشتد البرد بكر بالصلاة ، وإذا اشتد الحر أبرد بالصلاة يعني الجمعة
”اگر سردی زیادہ پڑتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ جلدی پڑھا دیتے لیکن جب گرمی زیادہ ہوتی تو تھوڑے وقت نماز پڑھتے ۔“
[ بخارى، كتاب الجمعة، باب إذا اشتد الحر يوم الجمعة : 906]
❀ سیدنا سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كنا نجمع مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا زالت الشمس
”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زوال شمس ہوتے ہی جمعہ ادا کرتے تھے۔“
[ مسلم، كتاب الجمعة، باب صلاة الجمعة حين تزول الشمس : 859]
❀ اور سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ یہی فرماتے ہیں: ” ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز جمعہ پڑھتے ، پھر واپس جاتے تو دیواروں کا سایہ اتنا نہیں ہوتا تھا کہ ہم اس میں آرام کر سکتے ۔“
[بخاری کتاب المغازی، باب غزوة الحديبية : 4168 – مسلم : 860/32]

جمعہ کی اذان کا مسئلہ:

❀ دور نبوت میں جمعہ کی ایک ہی اذان ہوتی تھی۔ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
أن الآذان يوم الجمعة كان أوله حين يجلس الإمام يوم الجمعة على المنبر فى عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر رضي الله عنهما، فلما كان فى خلافة عثمان وكثروا أمر عثمان يوم الجمعة بالآذان الثالث فأذن به على الزوراء فثبت الأمر على ذلك
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے اور سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور خلافت میں جمعہ کے دن جمعہ کی پہلی اذان (اور دوسری اذان اقامت ہے) اس وقت دی جاتی تھی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا تھا، پھر خلافت عثمان رضی اللہ عنہ میں جب مدینہ کی آبادی بڑھ گئی تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے حکم سے (جمعہ کی اذان سے پہلے ) مقام زوراء میں ایک اذان دی جانے لگی اور بعد میں یہی دستور جاری رہا۔“
[ بخاری، کتاب الجمعة، باب التأذين عند الخطبة : 916 ]
اس اذان کا مقصد لوگوں کو متنبہ کرنا تھا کہ جمعہ کا وقت قریب آ گیا ہے، تا کہ لوگ اپنے کاروبار سمیٹ لیں اور تیار ہو جائیں۔ اسے بدعت نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ یہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا ایک انتظامی معاملہ تھا، اگر آج بھی ایسی صورت بن جاتی ہے تو ایک اذان مسجد سے باہر کسی جگہ دی جا سکتی ہے، لیکن مسجد ہی میں دو اذانوں سے بچنا چاہیے۔ (واللہ اعلم )

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️