جمعہ کے خطیب کے لیئے 25 اہم ہدایات قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف (بانی دارالحدیث جامعہ کمالیہ) کی کتاب تحفہ جمعہ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

خطیب کے لیے چند ہدایات

خطیب کی شان :

خطیب اسلام کا ایک ایسا پیغام رساں ہے جس کے اس مقام میں اس کا کوئی ہمسر نہیں۔ تمام انبیاء کرام بنیادی طور پر اپنی امت کے خطیب ہوتے تھے۔ لہذا ہر خطیب کو اس منصب کا پاس رکھنا چاہیے۔
اسلامی شریعت نے اسے ایک قسم کی تقدیس سے نواز رکھا ہے اس پر یہ واجب ہے کہ ان سامعین کا اس پر حسن ظن قائم رہے جو اس کی طرف جوق در جوق بلا جبر کشاں کشاں آتے رہتے ہیں۔

خطیب کی صفات:

اسے درج ذیل صفات کا حامل ہونا چاہیے۔
① بلند اخلاق اور آداب فاضلہ سے موصوف ہو۔
② علم میں راسخ اور وسیع اسلامی معلومات رکھنے والا ہو۔
③ بہتر سے بہتر موضوع کا چناؤ کرے۔
④ تہمت اور شبہات کے مقامات سے کنارہ کش رہے۔
⑤ سامعین کے احوال و واقعات سے حتی الوسع باخبر ہو۔
⑥ قرآن پاک، احادیث مبارکہ اور دیگر حکمت بھرے اقوال وافر مقدار میں حفظ ہوں۔
⑦ لوگوں میں مذہبی اختلافات بڑھانے سے اجتناب کرے۔
⑧ خطبہ میں سامعین کے شوق و جذبہ کو قائم رکھے ایسا نہ ہو کہ سامعین فرض ادا کرنے کیلئے خطبہ کے آخر میں آنے کی عادت اپنانے پر مجبور ہوں۔
⑨ آواز کا اتار چڑھاؤ، تسلسل، وقف کے مقامات سے باخبر ہو۔
⑩ شکل و شباہت، لباس اور جسمانی حرکات پیغام کا مظہر ہوں۔

خطیب دنیا بدل سکتا ہے:

دنیا میں اگر ایسی مساجد جن میں ہفتہ وار خطبہ جمعہ ہوتا ہے شمار کرنے لگیں تو ان کی تعداد لاکھوں میں ہو گی ان میں سامعین کی تعداد کا بھی اندازہ لگائیں کس قدر ہوگی۔ اتنی تعداد میں لوگ کسی بھی اہم سے اہم معاملہ پر جمع نہیں کئے جاسکتے اور نہ کسی وسیلہ سے جمع ہو سکتے ہیں۔
اشاعت کے وسائل تمام اختیاری ہوتے ہیں کسی کو ان سے استفادہ پر مجبور نہیں کیا جاسکتا نہ اخبار پڑھنے پر نہ ریڈیو سننے پر نہ ٹی وی دیکھنے پر جبکہ یہاں لوگ ایک فریضہ کی ادائیگی کے طور پر طوعا حاضر ہوتے ہیں اور ان حاضرین میں عام اجتماعات و مجالس کی نسبت جن میں کہیں صرف سائنس دان ہیں تو کہیں صرف طلبہ اور کہیں صرف ڈاکٹر کہیں صرف سادہ عوام وعلی ہذا القیاس دیگر کانفرنسیں ہوتی ہیں جب کہ اس میں ہر شعبہ اور ہر عمر کے لوگ بیٹھتے ہیں۔

لوگوں کو کسی نتیجہ پر پہنچائیں:

ایک لیکچرار یونیورسٹی یا مدرسہ سکول و کالج میں اور دیگر تعلیمی درسگاہوں میں حاضر ہوتا ہے تو ایک ذمہ دار بن کر اپنے موضوع کو ہر طرح سے کانٹ چھانٹ کر کے نکھارتا ہے اور ایک نتیجہ تک لے جاتا ہے ایسے ہی خطیب کا فرض ہے کہ وہ وقت سے پہلے سوچے میں کیا مخاطبین کو بیان کرنا چاہتا ہوں کیا جدید ذہن دینے جارہا ہوں اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے پھر دیکھے سامعین نے کیا اچھا تاثر لیا ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تعلیم سے نوازتے رہتے تھے اور لوگ اپنے تمام تر تربیتی امور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے لیتے تھے لیکن بروز جمعہ دیگر ایام کی نسبت کیفیت الگ ہو جاتی تھی اور اسے سامعین بھی نئی صورت میں لیتے۔

خطبہ جمعہ، درس تدریس میں فرق ملحوظ خاطر رکھیں:

درس میں بھی تعلیم خطبہ جمعہ بھی تعلیم ہی ہوتی ہے لیکن خطبہ میں ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عام درس سے مختلف نظر آتے ہیں۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ اپنی مشہور کتاب ”زاد المعاد فی ہدی خیر العباد صلی اللہ علیہ وسلم “ میں بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ ارشاد فرماتے آپ کی آنکھیں مبارک سرخ ہو جاتیں، آواز بلند ہو جاتی، غضبناک آواز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایسے ہو جاتے گویا لشکر سے متنبہ فرمارہے ہیں لوگو تم پر صبح صبح یا شام حملہ ہوا چاہتا ہے محتاط ہو جاؤ تیار رہو۔
خطبہ جمعہ میں خطیب سامعین کے خیالات کو نئے جذبات سے ہم آہنگ کر کے انہیں ابھارتا ہے اپنے اشاروں اور بلند آواز سے انہیں اپنے ساتھ ساتھ جدید خیالات میں ڈھل جانے پر اکساتا ہے۔ امید ہے خطیب حضرات ان معروضات کو خاطر میں لاتے ہوئے اپنے خطبات کو مزید موثر بنانے کی جستجو فرمائیں گے۔ واللہ الموفق (بصد شکریہ ”ماہنامہ ترجمان القرآن“ (جامعہ سلفیہ فیصل آباد)، جنوری تا مارچ 2010ء ص 26-27)

خطبہ جمعہ کے دوران زیادہ حرکات نہ کریں:

تمام سامعین کی نظریں آپ کی طرف ہیں۔ لہذا آپ اپنے اوپر ہنسنے کا موقع نہ دیں۔ جذبات پر قابو رکھیں، شدت جذبات سے منہ سے جھاگ نکلنا، عورتوں کی طرح اپنے ہاتھ اور بازو زور زور سے ہلانا جیسے لڑائی ہو رہی ہو۔ بار بار ایڑھیاں اوپر اٹھانا یہ سب غیر سنجیدہ حرکات ہیں۔ خطبہ جمعہ میں بالخصوص ان سے قطعاً اجتناب برتیں۔ انتہائی پر وقار اور سنجیدگی سے پرسوز اور بارعب آواز میں خطبہ دیں۔ سنت کے مطابق اپنی انگشت شہادت اٹھا کر اشارہ کریں۔
دیکھیے: جامع ترمذی، کتاب الصلاۃ، باب ما جاء في كراهية رفع اليدين على المنبر، حدیث نمبر (515)

پرچیوں کا سہارا نہ لیں:

قرآنی آیات، احادیث نبویہ کو خوب یاد کریں۔ اور اپنے سامنے کوئی کتاب، کاپی یا پرچی وغیرہ قطعاً نہ رکھیں۔ اس سے سامعین اچھا تاثر نہیں لیتے۔ اور خطبہ میں بھرپور تسلسل قائم نہیں رہتا۔

اپنے خطبہ کو واقعہ سے مزین کریں:

واقعہ بعض دفعہ وہ اثر دکھاتا ہے جو گھنٹوں کی تقریر سے نہیں ہوتا۔ اس لیے انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات، قرآنی واقعات، حدیث میں وارد شدہ واقعات، قابل قبول اسرائیلی واقعات، سلف صالحین کی مقبول حکایات سے اپنی تقریر کو موثر بنائیں۔ من گھڑت، غیر منقول واقعات سے بالکل اجتناب رکھیں۔

خطبہ جامع اور درمیانہ رکھیں:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بھی درمیانہ ہوتی اور خطبہ بھی درمیانہ ہوتا۔
(جامع ترمذی، حدیث 507)
اس پر پوری زندگی عمل کریں۔ خطبہ نہ تو اتنا طویل کریں کہ کان ہی پک جائیں اور لوگ جان چھڑانے کیلئے آخر میں پہنچنا شروع کریں۔ اور نہ ہی بالکل مختصر کہ خالی ہاتھ اٹھ جائیں۔ لوگوں کو کچھ دیں لیکن اس انداز سے کہ ان کے اندر مزید سننے کی ترغیب باقی رہ جائے۔

جمعہ والے دن نماز فجر میں مسنون قراءت:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ والے دن نماز فجر میں سورۃ الم تنزیل (السجدہ) اور سورۃ ھل اتى على الانسان (یعنی سورۃ دھر) کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔
(صحیح البخاری، کتاب الجمعه، باب ما يقرا فی صلاة الفجر يوم الجمعة، حدیث: 891)

جمعہ والے دن مؤذن اذان کب شروع کرے؟

خطیب جب منبر پر بیٹھ جائے تو مؤذن اذان شروع کرے۔
عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، عہد صدیقی اور عہد فاروقی میں تمام مسلمانوں کا یہی اجتماعی عمل رہا ہے۔
(صحیح بخاری، کتاب الجمعہ، باب التأذين عند الخطبة، حدیث: 916)

منبر کیسا ہونا چاہیے:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر تین سیڑھیوں والا لکڑی کا بنا ہوا تھا۔
(زاد المعاد ص 429، جلد 1)

خطیب بھی منبر پر بیٹھ کر مؤذن کی اذان کا جواب دے اور بعد والی دعا پڑھے :

عموماً خطباء کرام سستی کر جاتے ہیں، نہ مؤذن کی اذان ہی کا ساتھ ساتھ جواب دیتے ہیں اور نہ بعد والی دعا پڑھتے ہیں، جب کہ یہ خلاف سنت ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں یہ باب قائم کیا ہے۔
باب يجيب الإمام على المنبر إذا سمع النداء منبر پر بیٹھے ہوئے امام اذان سن کر جواب دے۔ اور اس کے تحت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا عمل بیان کیا ہے کہ وہ منبر پر تشریف فرما ہوئے، مؤذن نے اللہ اکبر کہا تو انہوں نے بھی اللہ اکبر کہا، اس طرح اذان کا جواب دیا اور پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
يا أيها الناس إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على هذا المجلس حين أذن المؤذن يقول ما سمعتم مني من مقالتي
”اس جگہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مؤذن کی اذان پر وہی کچھ کہتے سنا ہے جو کچھ تم نے مجھ سے سنا ہے۔ “
(صحیح بخاری، کتاب الجمعہ، حدیث نمبر 914)

خطبہ جمعہ کھڑے ہو کر دینا چاہیے، اور دو خطبوں کے درمیان بیٹھنا چاہیے:

خطبہ جمعہ کیلئے خطیب کو چاہیے کہ وہ کھڑا ہو کر خطبہ دے۔ سورۃ الجمعہ میں یہ مسئلہ نص قرآنی سے ثابت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی سنت مبارکہ اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ اجماعی عمل رہا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں:
كان النبى صلى الله عليه وسلم يخطب قائما ثم يقعد ثم يقوم كما تفعلون الآن
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے، پھر بیٹھتے، پھر کھڑے ہو جاتے جیسے کہ اب تم سب کرتے ہو۔ “
(صحیح البخاری، کتاب الجمعة، باب الخطبة قائما، حدیث: 920)

خطبہ کے وقت خطیب ہاتھ میں کیا پکڑے:

خطبہ کے وقت خطیب کا ہاتھ میں لاٹھی پکڑنا سنت سے ثابت ہے البتہ تلوار، بنہ وق یا کوئی اسلحہ وغیرہ پکڑنا عام حالات میں ثابت نہیں۔
(زاد المعاد ص 429، جلد 1)

دو خطبوں کے درمیان قلیل مدت بیٹھنا:

دو خطبوں کے درمیان قلیل مدت بیٹھنا اتنا وقفہ ہو کہ سورۃ الاخلاص بآسانی پڑھی جاسکتی ہو۔
(مسک الختام، نواب صدیق حسن خان، جلد 2، ص 81)
اس جلسہ میں خطیب اعظم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی دعا پڑھنا ثابت نہیں۔

دوران خطبہ جمعہ بارش کیلئے ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرمارہے تھے کہ اس دوران ایک صحابی نے کھڑے ہو کر کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فصلیں تباہ ہوگئیں، جانور ہلاک ہو گئے اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے بارش کی دعا فرمادیجئے!
فمد يديه ودعا
”تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک بلند فرمائے اور دعا فرمائی۔ “
(صحیح البخاری، کتاب الجمعة، باب رفع اليدين في الخطبة، حدیث: 932)
امام بخاری رحمہ اللہ نے درج بالا حدیث سے یہی مسئلہ ثابت کیا ہے۔

دوران خطبہ آنے والے مقتدی سے نیکی کی کوئی بات کہنا:

اگر دوران خطبہ کوئی مقتدی غلط کام کر رہا ہو، یا کسی دینی ضرورت کے پیش نظر کسی مقتدی کو نصیحت کی کوئی بات کہنی پڑے تو خطیب اچھے انداز سے کہ سکتا ہے۔
جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیٹ آنے والے صحابی سے پوچھا تھا:
صليت؟ کیا تو نے تحیۃ المسجد ادا کر لی؟ اس نے کہا نہیں، تو آپ نے ارشاد فرمایا: فصل ركعتين۔ دورکعت (ہلکی پھلکی) ادا کر لو۔
(صحیح بخاری، کتاب الجمعة، حدیث: 931, 930)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ والے دن منبر پر بیٹھ کر صحابہ سے کہا: سب بیٹھ جاؤ! عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد کے دروازے پر تھے وہ وہیں بیٹھ گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا:
تعال يا عبد الله بن مسعود
” عبد اللہ آگے آجاؤ۔“
(سنن ابی داؤد، باب الامام يكلم الرجل فی خطبته، حدیث: 1091)

کسی ایمرجنسی یا ضرورت کے پیش نظر خطبہ روک کر منبر سے نیچے اترنا:

خطیب کیلئے اجازت ہے کہ کسی مجبوری یا فوری شدید ضرورت کے پیش نظر خطبہ روک کر منبر سے نیچے اتر کر آئے اور ضروری پوری ہونے کے بعد دوبارہ شروع کر دے۔
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرمارہے تھے کہ اس دوران حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما سرخ قمیص پہنے گرتے گراتے آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لائے، ان کو پکڑا منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے۔
﴿إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ﴾
”تمہارے اموال و اولاد محض آزمائش ہیں۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
رأيت هذين فلم أصبر
”میں نے ان دونوں کو دیکھا تو رہ نہ سکا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ جاری فرمایا۔
(سنن ابی داؤد، باب الامام يقطع الخطبة للأمر يحدث، حدیث: 1109)

جمعہ کی نماز میں مسنون قراءت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز جمعہ کی رکعات میں سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ الغاشیہ پڑھتے تھے۔
(صحیح مسلم، کتاب الجمعه، حدیث: 878)
”جمعہ کی نماز میں سورۃ جمعہ اور سورۃ منافقون پڑھنا بھی صحیح حدیث سے ثابت ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ نماز جمعہ پڑھائی اور اس میں سورۃ جمعہ اور سورۃ منافقون تلاوت کی اور فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کی نماز میں ان سورتوں کو پڑھتے ہوئے سنا ہے۔“
(صحیح مسلم، کتاب الجمعۃ، حدیث: 877)

جمعہ کی نماز میں سورۃ الاعلیٰ اور الغاشیہ نامکمل پڑھنے کی شرعی حیثیت:

درج بالا حدیث کے پیش نظر ہمارے خطباء کو چاہیے کہ وہ نماز جمعہ میں مسنون قراءت کو معمول بنائیں۔ اور سنت پر تبھی عمل ہو گا جب یہ سورتیں مکمل پڑھی جائیں۔
نامکمل پڑھنے کو ہمیشہ معمول بنا لینا اور سمجھنا کہ میں نے سنت پر عمل کیا ہے۔ یقیناً جاہلانہ طرز عمل ہے۔
البتہ اگر کوئی خطیب کسی وجہ سے ان سورتوں کو نامکمل پڑھتا ہے یا کوئی اور مختصر سورتیں پڑھ لیتا ہے تو اس کے جائز ہونے میں کوئی شبہ نہیں تاہم اس صورت میں وہ سنت پر عمل کے ثواب سے محروم رہے گا۔
بالخصوص اہل حدیث خطباء کرام کو عمل بالحدیث کے خصوصی شغف اور اتباع سنت کی بنا پر ان سنتوں کا احیاء کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ توفیق عمل سے نوازے۔

جب عید اور جمعہ ایک دن میں اکٹھے آجائیں:

جب عید، جمعہ کے دن میں آرہی ہو تو نماز عید امام کے ساتھ ادا کرنے والوں کیلئے جمعہ چھوڑنا جائز ہے۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ امام جمعہ پڑھائے تاکہ جو لوگ جمعہ پڑھنا چاہتے ہیں، پڑھ سکیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے موقع پر ارشاد فرمایا:
قد اجتمع فى يومكم هذا عيدان فمن شاء أجزأه من الجمعة وإنا مجمعون
”آج تمہارے اس دن میں دو عیدیں (جمعہ وعید) اکٹھی ہو چکی ہیں۔ جو چاہے اس کیلئے جمعہ کی جگہ نماز عید ہی کافی ہے۔ لیکن ہم جمعہ پڑھیں گے۔“
(سنن ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب اذا وافق يوم الجمعة يوم عید، حدیث: 1070)
بعض حالات میں امام بھی جمعہ نہ پڑھائے تو یہ صورت بھی جائز ہے۔ بہتر یہی ہے کہ وہ جمعہ پڑھائے۔
(سنن ابی داؤد حدیث: 1072)
نوٹ: یاد رہے کہ جمعہ نہ پڑھنے والوں کیلئے نماز ظہر بہر صورت فرض ہے اور ترک کرنا کبیرہ گناہ ہے۔

خطیب مقتدیوں کو سلام کتنی دفعہ اور کب کہے؟

خطیب و مقتدی جب مسجد میں داخل ہوں تو مسجد میں داخل ہونے کی دعا پڑھیں اور سلام کہیں۔
اس کے علاوہ خطیب خصوصی طور پر دو دفعہ مزید سلام کہے۔
① جب منبر کے قریب پہنچے تو منبر کے پاس بیٹھنے والوں کو سلام کہے۔
② اور جب منبر پر چڑھے تو لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھنے سے پہلے سلام کہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی طریقہ کار تھا۔ جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم كان إذا دنا من المنبر سلم على من عند المنبر ثم صعد فإذا استقبل الناس بوجهه سلم ثم قعد
”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر کے قریب تشریف لاتے تو منبر کے پاس والوں کو سلام کہتے اور پھر منبر پر چڑھتے تب لوگوں کی طرف منہ کر کے سلام کہتے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھتے۔“
(السنن الكبرى للبيهی، 205/3)
یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ خطیب منبر پر چڑھ کر سامعین کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھنے سے پہلے اور اذان سے پہلے سلام کہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ نے اس پر یہ عنوان قائم کیا ہے۔
باب الإمام يسلم على الناس إذا صعد المنبر قبل أن يجلس
”یعنی امام منبر پر چڑھ کر بیٹھنے سے پہلے لوگوں کو سلام کہے۔“
امام ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے بھی یہی موقف اختیار کیا ہے۔
(زاد المعاد ص 173)
ائمہ حرمین کا بھی یہی عمل ہے:
ہمارے ہاں معمول اس سے قدرے مختلف ہے، عموماً خطباء کرام منبر پر بیٹھ جاتے ہیں، مؤذن اذان کہتا ہے۔ اذان کے بعد خطیب کھڑا ہو کر سلام کہہ کر خطبہ شروع کرتا ہے۔ میرے علم کے مطابق مذکورہ مروجہ طریقہ سنت سے ثابت نہیں ہے۔

خطیب کے لیے تحیۃ المسجد کا حکم:

مقامی خطیب کے لیے خطبہ سے پہلے تحیہ المسجد پڑھنا سنت سے ثابت نہیں اور البتہ مسافر خطیب کے لیے تحیۃ المسجد پڑھنا جائز ہے۔
عوام الناس مقامی ہوں یا مسافر ان کے لیے تحیۃ المسجد خطبہ سے پہلے اور خطبہ کے دوران پڑھنا سنت سے ثابت ہے۔

خطبہ کا اختتام کن الفاظ کے ساتھ ہو:

خطیب جب خطبہ ختم کرے تو قرآن کریم کی درج ذیل آیت پڑھے۔
﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ﴾
(سورۃ النحل: آیت 90، پارہ 14)
خلیفہ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے اس آیت مبارکہ کو خطبہ میں شامل کیا تھا۔
تیسیر القرآن از عبدالرحمن کیلانی رحمہ اللہ ص 543، جلد 2