مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

جمعہ کے خطبہ سے پہلے سنت نمازوں کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ محمدیہ، جلد 1، صفحہ 526

سوال

کیا خطبہ کے دن خطبہ جمعہ سے پہلے نماز ظہر کی طرح نماز جمعہ کی سنتیں احادیث سے ثابت ہیں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نمازِ ظہر کی سننِ رواتب کی طرح خطبۂ جمعہ سے قبل سنتیں احادیث سے ثابت نہیں ہیں۔
البتہ تحیۃ المسجد، تحیۃ الوضوء اور دیگر نوافل احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں۔

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ[ص:12]، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:

«إِذَا كَانَ يَوْمُ الجُمُعَةِ وَقَفَتِ المَلاَئِكَةُ عَلَى بَابِ المَسْجِدِ يَكْتُبُونَ الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ، وَمَثَلُ المُهَجِّرِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي بَدَنَةً، ثُمَّ كَالَّذِي يُهْدِي بَقَرَةً، ثُمَّ كَبْشًا، ثُمَّ دَجَاجَةً، ثُمَّ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ طَوَوْا صُحُفَهُمْ، وَيَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ۔» (صحیح بخاری، کتاب الجمعة، باب الاستماع الی الخطبة)

خلاصۂ کلام

◄ خطبہ جمعہ سے پہلے نماز ظہر کی طرح کوئی سنتیں ثابت نہیں۔
◄ البتہ تحیۃ المسجد، تحیۃ الوضوء اور نوافل پڑھنے کی اجازت اور ثبوت موجود ہے۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔