مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

جمعہ کی دوسری اذان کے بعد کاروبار کا کیا حکم ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

جمعہ کی دوسری اذان کے بعد کاروبار کا کیا حکم ہے؟

جواب:

جمعہ کی دوسری اذان کے بعد کاروبار حرام ہے۔
فرمان باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا البَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾
(الجمعة: 9)
”مومنو! جب جمعہ کی نماز کے لیے اذان کہہ دی جائے، تو ذکر الہی (خطبہ سننے) کے لیے لپکو اور کاروبار بند کر دو، جان لو تو یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔“
❀ مفسر قرآن، حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) لکھتے ہیں:
اتفق العلماء رضي الله عنهم على تحريم البيع بعد النداء الثاني.
”اہل علم کا اتفاق ہے کہ دوسری اذان کے بعد کاروبار حرام ہے۔“
(تفسير ابن كثير: 122/8)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔