جمعہ میں دو اذانوں کی حقیقت اور شرعی حیثیت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف (بانی دارالحدیث جامعہ کمالیہ) کی کتاب تحفہ جمعہ سے ماخوذ ہے۔

اذان جمعہ

جمعۃ المبارک کی صرف ایک ہی اذان ہے:

عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين (الحدیث)
جمعۃ المبارک کی صرف ایک ہی اذان ہے۔
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾
”جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑے چلے آؤ۔“
(سورۃ الجمعہ: آیت نمبر 9)
اذان کا مطلب ہے مخصوص الفاظ کے ساتھ نماز کے وقت کے داخل ہونے کی اطلاع دینا۔
اذان اور مؤذن کی رسول امین کے ارشادات عالیہ میں بہت زیادہ فضیلت اور عظمت بیان ہوئی ہے۔
کہیں ارشاد ہے کہ مؤذن کی گردن قیامت کے دن سب سے لمبی ہو گی۔ کہیں فرمان گرامی ہے صف اول اور مؤذن کے لیے فرشتے دعاء رحمت کرتے ہیں تو کسی جگہ فرمایا کہ اگر تمہیں صف اول اور اذان کے اجر کا پتہ چل جائے (تو تم اس اجر کو حاصل کرنے کے لیے) قرعہ اندازی کرو۔
تو کسی موقع پر زبان نبوت سے مؤذن کے لیے دعائے مغفرت نکلتی ہے۔
اللهم اغفر للمؤذنين أو كما قال
تفصیلات کے لیے کتب حدیث کی طرف رجوع فرمائیں۔ یہ عظیم عمل مدینہ منورہ میں سن ہجری کے پہلے ہی سال مشروع ہوا جس کی مشروعیت کا سبب صحیح احادیث میں بیان ہوا ہے۔ اور اس کی کیفیت اور الفاظ بھی صحیح احادیث میں وارد ہیں۔ جس میں کمی بیشی کا کسی کو کوئی اختیار نہیں۔ کیونکہ اذان ایک شرعی مسئلہ ہے اور شریعت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل ہو چکی ہے کیونکہ خالق کائنات نے بذریعہ وحی مطلع فرما دیا ہے۔
اليوم أكملت لكم دينكم.
جس کا اعلان عام پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے مجمعہ عام میں فرما دیا تھا اور قیامت تک قرآن الکریم کی یہ شہادت لوگوں کی زبانوں پر جاری وساری رہے گی۔ جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔
سیرت طیبہ سے بالکل واضح ہے کہ ہر فرضی نماز کے لیے ایک ہی اذان مشروع ہے۔ کسی بھی نماز کے لیے دو اذانیں صاحب شریعت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں تو اسی طرح جمعہ المبارک کی نماز بھی ایک مستقل فرض نماز ہے جس کے لیے ایک ہی اذان مشروع ہے۔ جس کی وضاحت امام بخاری رحمہ اللہ نے اس طرح فرمائی۔
باب الآذان يوم الجمعة :
عن السائب بن يزيد قال كان النداء يوم الجمعة أوله إذا جلس الإمام على المنبر على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر رضي الله عنهما فلما كان عثمان رضى الله عنه وكثر الناس زاد النداء الثالث على الزوراء
”سیدنا حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں امام کا کائناتاور (خلیفہ اول) سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور (خلیفہ ثانی) سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مبارک ادوار میں جمعہ کی اذان اس وقت ہوتی جب امام منبر پر بیٹھ جاتا۔ لیکن دور عثمانی رضی اللہ عنہ میں جب اہل اسلام کی کثرت کی وجہ سے مقام زوراء پر ایک اذان کا اضافہ کر دیا گیا۔“
صحیح بخاری حدیث 912، مکتبہ داراسلام

راوی حدیث:

سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو یزید کندی ہے ان کی ولادت سن 2 ہجری میں ہوئی۔ حجۃ الوداع میں اپنے والد کے ہمراہ آئے اس وقت ان کی عمر سات سال تھی۔ ان سے امام زہری رحمہ اللہ اور محمد بن یوسف رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں سن 91 ہجری میں ان کا انتقال ہوا۔ سب سے آخری صحابی ہیں جو مدینہ منورہ میں فوت ہوئے۔
ان کی احادیث بہت کم ہیں ایک حدیث متفق علیہ ہے پانچ احادیث میں امام بخاری رحمہ اللہ منفرد ہیں۔
قال أبو عبد الله الزوراء موضع بالسوق بالمدينة
امام المحدثین حضرت امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں زوراء بازار مدینہ کی ایک جگہ کا نام ہے۔
مذکورہ حدیث سے مسئلہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ سید البشر اور شیخین کریمین کے مبارک ادوار میں جمعۃ المبارک کی ایک ہی اذان ہوا کرتی تھی اور وہ بھی اس وقت جب خطیب منبر پر بیٹھ جاتا تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے مبارک دور میں جب مسلمان بہت زیادہ ہو گئے تو خلیفہ وقت نے ضرورت محسوس کی کہ لوگوں کو بروقت مسجد میں جمعہ کے لیے اکٹھا کرنے کے لیے ایک اذان شروع کی جائے۔ اسی ضرورت کے تحت سیدنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اذان کا اضافہ کیا جو کہ مسجد سے باہر بازار میں اونچی جگہ پر دی جاتی تو آج بھی کہیں کسی مقام پر ایسی صورت حال پیدا ہو تو سنت عثمانی پر عمل جائز ہوگا۔ البتہ مسجد کے اندر اور پھر اس ترقی یافتہ دور میں جس میں انسانی آواز کو دور سے دور پہنچانے کے لیے جدید آلات معرض وجود میں آچکے ہیں۔ اور میلوں دور بآسانی انسانی آواز کو سنا جاسکتا ہے۔ ان حالات کے اندر اگر اضافی اذان دی جائے تو سنت عثمانی نہیں ہوگی بلکہ بدعت کے زمرہ میں آئے گی۔ کیونکہ مساجد کے اندر لاؤڈ اسپیکر کا انتظام موجود ہے اور پھر ہر آدمی کے پاس وقت معلوم کرنے کا آلہ بھی موجود ہے۔ یقیناً ایسے حالات میں سنت نبوی پر عمل کرنا ہی افضل ہے۔ اضافی اذان بدعت ہی شمار ہوگی۔
جس کی وضاحت مفسر قرآن اور برصغیر کے نامور محدث مولانا عبدالستار محدث دہلوی رحمہ اللہ نے اپنے ترجمۃ القرآن کے حواشی میں بدعت ہی سے کی ہے۔
ملاحظہ فرمائیں:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ﴾ کے حاشیہ میں۔
تحریر فرماتے ہیں کہ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں صرف اس وقت اذان ہوتی تھی جب امام منبر پر آجاتا عبد عثمانی رضی اللہ عنہ میں بوجہ کثرت مسلمانوں کے ایک اذان مسجد سے باہر مقام زوراء (پہاڑی) پر زیادہ کی گئی۔ جمعہ کے دن مسجد میں جمعہ کی دو اذانیں دینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ہرگز ثابت نہیں لیکن آج کل جمعہ کی مسجد میں دو اذانیں ہوتی ہیں اس رواج کو ترک کرنا چاہیے۔ کیونکہ یہ بدعت ہے۔
(فوائد ستاریہ صفحہ 781، دار السلام مسجد برنس روڈ کراچی)
اسی طرح برصغیر کے ممتاز عالم دین مترجم صحیح بخاری شریف مولانا محمد داؤد رازی رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کی سیدنا حضرت سائب بن یزید والی روایت جس میں یہ الفاظ ہیں۔
أمر عثمان يوم الجمعة بالأذان الثالث فأذن به على الزوراء فثبت الأمر على ذلك
(صحیح بخاری مترجم ص 91، حدیث نمبر 916)
کی شرح پر رقم طراز ہیں:
تیسری اس کو اس لیے کہا کہ تکبیر بھی اذان ہے سیدنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد پھر یہی طریقہ جاری ہو گیا کہ جمعہ میں پہلی اذان ہوتی ہے پھر جب امام منبر پر جاتا ہے تو دوسری اذان دیتے ہیں پھر نماز شروع کرتے وقت تیسری اذان یعنی تکبیر کہتے ہیں۔ گو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا فعل بدعت نہیں ہو سکتا اس لیے کہ وہ خلفائے راشدین میں سے ہیں۔ مگر انہوں نے یہ اذان ایک ضرورت سے بڑھائی کہ مدینہ کی آبادی دور دور تک پہنچ گئی تھی اور خطبہ کی اذان سب کے جمع ہونے کے لیے کافی نہ تھی آتے آتے ہی نماز ختم ہو جاتی مگر جہاں یہ ضرورت نہ ہو وہاں ہم وجب سنت نبوی صرف خطبہ ہی کی اذان دینا چاہیے اور خوب بلند آواز سے نہ کہ جیسے جاہل لوگ خطبہ کے وقت آہستہ آہستہ اذان دیتے ہیں اس کی کوئی اصل نہیں ہے۔ ابن ابی شیبہ نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نکالا ہے کہ تیسری اذان بدعت ہے یعنی ایک نئی بات ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں نہ تھی اب سنت نبوی کو سوائے اہل حدیث کے کوئی بجا نہیں لائے جہاں دیکھو سنت کا رواج ہے (مولانا وحید الزماں) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جو اسے بدعت کہا اس کی توجیہ میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔
فيتحمل أن يكون ذلك على سبيل الأنكار ويتحمل أن يريد أنه لم يكن فى زمن النبى صلى الله عليه وسلم وكل ما لم يكن فى زمنه يسمى بدعة
یعنی احتمال ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے انکار کے طور پر ایسا کہا ہو اور یہ احتمال بھی ہے کہ ان کی مراد یہ ہو کہ یہ اذان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک نہ تھی اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نہ ہو اس کو ( لغوی حیثیت سے ) بدعت یعنی نئی چیز کہا جاتا ہے۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ
بلغني أن أهل المغرب الأدنى الآن لا تأذين عندهم سوى مرة
یعنی مجھے خبر پہنچی ہے کہ مغرب والوں کا عمل اب بھی صرف سنت نبوی یعنی ایک ہی اذان پر ہے۔
جمہور علمائے اہل حدیث کا مسلک بھی یہی ہے کہ سنت نبوی پر عمل بہتر ہے اور اگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ جیسی ضرورت محسوس ہو تو مسجد سے باہر کسی مناسب جگہ پر اذان کہہ دی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
(صحیح بخاری مترجم صفحه 91، حدیث 916، مکتبہ قدوسیہ لاہور)
قرآن کریم میں ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ﴾
”اے ایمان والو جب جمعہ کے دن اذان دی جائے۔“
(الجمعة:9)
قرآنی الفاظ کے معانی سے خوب واضح ہو رہا ہے کہ جمعہ کی اذان صرف اور صرف ایک ہی ہے۔
دنیا جہاں کے تراجم قرآن اٹھا کر دیکھ لیں کسی بھی ترجمہ میں یہ نہیں کہ جب اذانیں دی جائیں بلا اختلاف ہر ترجمہ قرآن کے مذکورہ الفاظ کا یہی ترجمہ ہو گا جب جمعۃ المبارک کی اذان دی جائے۔
صاحب وحی علیہ السلام اور اللہ تعالیٰ کے درمیان نعوذ باللہ کوئی مقابلہ ہے؟ اللہ جل شانہ فرماتے ہیں کہ جب اذان دی جائے اور آپ دو اذانیں کہتے ہیں اور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت بھی ایک اذان ہے۔
غور فرمائیں جب قرآن کریم نازل ہوتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی جلدی پڑھتے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى﴾
”ہم آپ کو پڑھائیں گے پھر آپ بھولیں گے نہیں۔“
(سورۃ الأعلى: آیت نمبر 6)
یعنی آپ کو ایسی شریعت سے نوازیں گے جو بالکل آسان معتدل اور سیدھی ہوگی جس میں کسی قسم کی کوئی عسر اور تنگی نہیں ہوگی۔
خالق کائنات جل شانہ کا فرمان ہے:
﴿وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾
”یہ ذکر ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے کہ لوگوں کی جانب جو نازل فرمایا گیا آپ اسے کھول کر بیان کر دیں شاید کہ وہ غور و فکر کریں۔“
(سورۃ النحل: آیت نمبر 44، پارہ 14)
فرمان رب جلیل ہے:
﴿ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ﴾
”پھر اس کا واضح کر دینا ہمارے ذمہ ہے۔“ (یعنی تفسیر)
(سورۃ القيامة: آیت 19، پارہ 29)
یعنی اس کے مشکل مقامات کی تشریح اور حلال وحرام کی توضیح یہ بھی ہمارے ذمے ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے مجملات کی جو تفصیل، مہمات کی توضیح اور اس کے عمومات کی جو تخصیص بیان فرمائی ہے۔ جسے حدیث کہا جاتا ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی الہام اور سمجھائی ہوئی باتیں ہیں۔ اس لیے انہیں بھی قرآن کی طرح ماننا ضروری ہے۔

زبدۃ الکلام:

سید ولد آدم شاہ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ قرآن مقدس کی عملی تفسیر ہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دوسرے قرآن ہیں اسی لیے آپ کی پوری زندگی میں اذان جمعہ ایک ہی ہوتی رہی۔ خلیفہ الرسول سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی آپ کی اتباع میں ایک ہی اذان کہتے رہے۔
عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين
سے بعض حضرات مغالطہ دینے کی ناکام کوشش کرتے ہیں کہ دوسری اذان مسجد میں سنت الخلفاء الراشدین ہے حالانکہ یہ صاف اور واضح ہے کہ علیکم بسنتی امام کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنت کو مقدم رکھا ہے یہ مغالطہ دینے کی یہ روایت بالکل منشا پوری نہیں کرتی اگر روایت میں علیکم بسنتی کے الفاظ نہ ہوتے تو پھر ان کا مقصد پورا ہوتا اور پھر سنت راشدین مراد ہوتی۔ قابل غور بات ہے کہ جہاں صاحب وحی کی سنت نہ ہو وہاں سنت راشدین حجت ہوگی اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علیکم بسنتی پہلے ارشاد فرمایا ہے۔
(مرقاۃ المفاتیح ص:307، 308)
حاصل کلام یہ ہے کہ دوسری اذان مسجد میں کہی جائے یہ سنت عثمانی نہیں بلکہ سنت مروانی ہے اگر بیرون مسجد اذان دی جائے بلا شبہ سنت عثمانی ہوگی۔