جمرہ عقبہ کی رمی کا وقت: ادائیگی اور قضا کی وضاحت
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
جمرہ عقبہ کی رمی کے اوقات اور ان کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
1. رمی جمرہ عقبہ کا وقت ادا (ادائیگی کا وقت)
✿ عید کے دن رمی
جمرہ عقبہ کی رمی عید کے دن کی جاتی ہے۔
اس دن کی رمی کا وقت عید کی رات کے نصف سے ان لوگوں کے لیے شروع ہو جاتا ہے جو کمزور ہوں یا رش کا سامنا کرنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔
✿ عام حاجیوں کے لیے رمی کا وقت
عام حاجیوں کے لیے رمی کا وقت عید کے دن طلوع فجر سے شروع ہو کر گیارہویں تاریخ کے طلوع فجر پر ختم ہو جاتا ہے۔
2. ایامِ تشریق میں رمی کا وقت
✿ ایام تشریق کی رمی (یعنی 11، 12، اور 13 ذوالحجہ کو تینوں جمرات کی رمی) کا وقت:
◈ زوال آفتاب کے بعد شروع ہوتا ہے
◈ اور اس دن کی رات کے طلوع فجر تک جاری رہتا ہے
✿ لیکن اگر ایام تشریق کا آخری دن ہو (یعنی 13 ذوالحجہ):
◈ تو رات کو رمی کرنا جائز نہیں
◈ کیونکہ ایام تشریق غروب آفتاب کے ساتھ ہی ختم ہو جاتے ہیں
3. رمی کا وقتِ افضل
✿ رمی دن کے وقت کرنا افضل ہے
البتہ آج کل حاجیوں کی بہتات اور ایک دوسرے کی پرواہ نہ کرنے کی وجہ سے:
◈ اگر ہلاکت یا شدید نقصان کا خدشہ ہو تو رات کو رمی کرنے میں کوئی حرج نہیں
◈ یہاں تک کہ اگر ایسا اندیشہ نہ بھی ہو، تب بھی رات کو رمی کی اجازت ہے
◈ لیکن افضل یہی ہے کہ رات کو رمی نہ کی جائے، احتیاط کی خاطر
◈ البتہ اگر حاجت یا ضرورت ہو تو رات کو رمی کرنے میں کوئی حرج نہیں
4. رمی کا وقت قضا (قضا کا وقت کب ہوتا ہے؟)
✿ جب دوسرے دن کی فجر طلوع ہو جاتی ہے تو پچھلے دن کی رمی کا وقت قضا ہو جاتا ہے
یعنی:
◈ اگر کسی نے عید کے دن رمی نہ کی ہو اور گیارہویں تاریخ کی فجر طلوع ہو جائے، تو اب وہ رمی قضا ہو چکی ہے۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب