جماعت میں قراءت کا مسنون طریقہ صحیح احادیث کی روشنی میں

یہ اقتباس مکتبہ دارالاندلس کی جانب سے شائع کردہ کتاب صحیح نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے جو الشیخ عبدالرحمٰن عزیز کی تالیف ہے۔
مضمون کے اہم نکات

جماعت میں قراءت کا بیان

نماز فجر میں قراءت:

❀ سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا:
میں نے کسی ایسے شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جس کی نماز فلاں شخص سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہو۔
سلیمان بن یسار کہتے ہیں: وہ شخص ظہر کی پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھاتے اور آخری دو رکعتیں ہلکی پڑھاتے اور عصر کی نماز ہلکی پڑھاتے اور وہ مغرب میں قصار مفصل (الزلزال سے الناس تک)، عشاء میں اوسط (الطارق سے البينة تک) اور فجر میں طوال مفصل (ق سے البروج تک) پڑھا کرتے تھے۔
[نسائی، کتاب الافتتاح، باب تخفيف القيام والقراءة: 983۔ صحیح]
❀ ابو برزہ الأسلمي رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں ساٹھ (60) سے سو (100) آیات تک تلاوت کیا کرتے تھے۔
[مسلم، کتاب الصلاة، باب القراءة في الصبح: 461]

نماز ظہر میں قراءت:

❀ سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں تقریباً تیس (30) آیات اور آخری دو میں تقریباً پندرہ (15) آیات پڑھا کرتے تھے۔
[مسلم، کتاب الصلاة، باب القراءة في الظهر والعصر: 452/157]

نماز عصر میں قراءت:

❀ عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سے ہر ایک میں تقریباً پندرہ (15) آیات اور آخری دو میں اس سے آدھی یعنی سات یا آٹھ آیات پڑھی جائیں۔
[مسلم: 452/157]

نماز مغرب میں قراءت:

❀ مغرب کی نماز میں قصار مفصل (الزلزال سے الناس تک) میں سے سورتیں پڑھی جائیں۔
[نسائی، کتاب الافتتاح، باب تخفيف القيام والقراءة: 983۔ صحیح]
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار مغرب کی نماز میں سورۃ الطور اور سورۃ المرسلات جیسی لمبی سورتیں بھی پڑھا کرتے تھے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب القراءة في المغرب: 763، 765۔ مسلم: 363، 362]

نماز عشاء میں قراءت:

❀ عشاء کی نماز میں اوسط مفصل (الطارق سے البينة تک) میں سے سورتیں پڑھی جائیں۔
[نسائی، کتاب الافتتاح، باب تخفيف القيام والقراءة: 983۔ صحیح]

نمازوں میں قراءت کا قاعدہ:

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص لوگوں کی جماعت کرائے اسے ہلکی نماز پڑھانی چاہیے، کیونکہ اس کے پیچھے کمزور، بوڑھے اور بیمار لوگ ہوتے ہیں۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب إذا صلى لنفسه فليطول ما شاء: 703۔ مسلم: 467]
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی رکعت طویل ہوتی تھی اور دوسری رکعت پہلی کی نسبت چھوٹی ہوتی تھی، جبکہ پہلی دو رکعتیں دوسری دو کی نسبت لمبی ہوتی تھیں۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب القراءة في الظهر: 758، 759]

جہری اور سری قراءت:

❀ ظہر اور عصر کی نمازوں میں قراءت آہستہ آواز میں کی جائے۔ ابو معمر نے خباب بن الأرت رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قراءت کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: ہاں! ہم نے کہا: آپ کو قراءت کا کیسے علم ہوتا تھا؟ انھوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی ہلنے سے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب القراءة في الظهر: 760]
❀ رات کی نمازوں میں امام اونچی آواز سے قراءت کرے کہ مقتدی سن سکیں۔
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز مغرب میں سورۃ الطور کی تلاوت سنی۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب الجهر في المغرب: 765]
براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز عشاء میں سورۃ التین کی تلاوت سنی۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب القراءة في العشاء: 769]
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انھوں نے نماز فجر میں واليل إذا عسعس (سورۃ التکویر) کی تلاوت سنی۔
[مسلم، کتاب الصلاة، باب القراءة في الصبح: 456]
❀ اگر رات کی نمازیں دن میں بطور قضا پڑھیں، یا دن کی نمازیں رات کو بطور قضا پڑھیں، تب بھی دن کی نمازوں میں قراءت سری اور رات کی نمازوں میں جہری قراءت کرے، یعنی ان کی اصلی حالت کے مطابق۔

امام کی قراءت کا جواب دینے کا بیان:

❀ فرض نمازوں میں آیات کا جواب دینے کی کوئی دلیل نہیں، تمام احادیث میں نفل نماز میں جواب دینے کا ذکر ہے، لہذا صرف نفل نماز میں جواب دینا چاہیے۔
❀ امام کے قراءت کرنے پر مقتدی کے جواب دینے کی کوئی دلیل موجود نہیں۔
[احکام و مسائل از مبشر احمد ربانی حفظه اللہ: 180]

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️ 💾