مضمون کے اہم نکات
سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جماعت کے دوران میں شامل ہونے والے کے احکام
الجواب
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اہلِ علم کے راجح اور صحیح قول کے مطابق جو شخص نمازِ باجماعت کی کم از کم ایک رکعت امام کے ساتھ پا لے، وہ گویا مکمل جماعت کا اجر و ثواب پا لیتا ہے۔ اور جو شخص ایک رکعت سے کم پائے، اسے شرعاً جماعت میں نماز ادا کرنے والا شمار نہیں کیا جائے گا، تاہم اسے چاہیے کہ جتنا حصہ بھی امام کے ساتھ ملے، اسی حالت میں شامل ہو جائے، اور اپنی نیک نیت کی وجہ سے اسے جماعت کا ثواب مل جائے گا، جیسے اس شخص کو ملتا ہے جو جماعت ختم ہونے کے بعد پہنچتا ہے، کیونکہ مختلف احادیث کے مفہوم کے مطابق:
"جس نے نیکی کی نیت کر لی لیکن کسی عذر کی بنا پر اس پر عمل نہ کر سکا تو اسے نیکی کا اجر عطا کر دیا جاتا ہے۔”
رکوع پانے سے رکعت حاصل ہونا
رکوع میں امام کے ساتھ شامل ہونے سے رکعت حاصل ہو جاتی ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
"مَنْ أَدْرَكَ الرُّكُوعَ فَقَدْ أَدْرَكَ الرَّكْعَةَ”
"جس نے رکوع پالیا اس نے رکعت پالیا۔” [المغنی والشرح الکبیر 1/580، الارواء للالبانی 2/266]
نیز صحیح بخاری میں سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ مذکور ہے کہ وہ رکوع کی حالت میں جماعت میں شامل ہوئے، تو نبی کریم ﷺ نے انہیں وہ رکعت لوٹانے کا حکم نہیں دیا، بلکہ فرمایا:
"ولا تعد”
یعنی دوبارہ ایسا نہ کرنا۔
اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ رکعت شمار ہو گئی تھی۔ [صحیح البخاری، کتاب الاذان، باب اذا رکع دون الصف، حدیث 783]
رکوع کی حالت میں شامل ہونے کا طریقہ
اگر امام رکوع کی حالت میں ہو تو آنے والا شخص:
◈ پہلے کھڑے ہو کر تکبیرِ تحریمہ کہے
◈ پھر دوسری تکبیر کہہ کر رکوع میں چلا جائے
یہ طریقہ افضل اور زیادہ مناسب ہے۔
اگر کوئی شخص صرف تکبیرِ تحریمہ کہہ کر رکوع میں چلا جائے تو یہ بھی درست ہے، البتہ تکبیرِ تحریمہ کا کھڑے ہو کر کہنا بہر صورت ضروری ہے، جبکہ رکوع والی تکبیر اس کے بعد کہنا مستحب اور افضل ہے۔
امام کو جس حالت میں پائے اسی میں شامل ہونا
جماعت میں شامل ہونے والا شخص امام کو جس حالت میں پائے، تکبیرِ تحریمہ کہہ کر اسی حالت میں شامل ہو جائے، کیونکہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"إِذَا جِئْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ وَنَحْنُ سُجُودٌ فَاسْجُدُوا وَلَا تَعُدُّوهَا شَيْئًا”
"جب تم نماز کے لیے آؤ اور ہم سجدے میں ہوں تو تم بھی سجدہ کر لو، مگر اسے رکعت شمار نہ کرو۔” [سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ، باب الرجل یدرک الامام ساجداً، حدیث 893]
امام کے سلام کے بعد بقیہ نماز کی ادائیگی
جب امام دونوں طرف سلام پھیر لے، اس کے بعد مسبوق (دیر سے شامل ہونے والا) کھڑا ہو اور اپنی بقیہ نماز مکمل کرے۔ امام کے ایک طرف سلام پھیرتے ہی کھڑا ہونا درست نہیں، بلکہ دوسرے سلام کا انتظار کرنا واجب ہے۔
[تنبیہ: صارم]
امام کے ساتھ ملی ہوئی رکعات کی حیثیت
صحیح قول کے مطابق مقتدی کو امام کے ساتھ جو رکعات ملیں، وہ اس کی ابتدائی رکعات شمار ہوں گی، اور امام کے سلام کے بعد جو رکعات ادا کرے گا، وہ اس کی آخری رکعات ہوں گی، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
"وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا”
"جو نماز تم سے فوت ہو جائے، اسے بعد میں مکمل کرو۔” [صحیح البخاری، کتاب الاذان، باب لا یسعی الی الصلاۃ، حدیث 636]
ایک دوسری روایت میں ہے:
"وَمَا فَاتَكُمْ فَاقْضُوا”
"جو نماز فوت ہو جائے اس کی قضا ادا کرو۔” [سنن ابی داؤد 573، سنن النسائی 862]
یہ دونوں روایات باہم متعارض نہیں، کیونکہ یہاں "قضا” کا مطلب اصطلاحی قضا نہیں بلکہ پورا کرنا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے:
﴿فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ﴾
"جب نماز پوری کر لی جائے۔” [سورۃ الجمعۃ 62:10]
اور فرمایا:
﴿فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ﴾
"جب تم مناسکِ حج پورے کر لو۔” [سورۃ البقرۃ 2:200]
جہری نماز میں مقتدی کی قراءت
جب نماز جہری ہو تو مقتدی پر لازم ہے کہ وہ امام کی قراءت کو توجہ سے سنے، خود قراءت نہ کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾
"اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔” [سورۃ الاعراف 7:204]
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت نماز کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اس پر اجماع ہے۔ [مجموع الفتاوی لابن تیمیہ 22/295]
امام کی قراءت کے بعد مقتدی کا "آمین” کہنا، قراءت کے قائم مقام ہے، جیسا کہ سیدنا موسیٰ اور سیدنا ہارون علیہما السلام کے واقعے سے واضح ہے:
﴿قَدْ أُجِيبَتْ دَعْوَتُكُمَا﴾ [سورۃ یونس 10:89]
حالانکہ دعا موسیٰ علیہ السلام نے کی تھی اور ہارون علیہ السلام نے آمین کہی تھی۔ [سورۃ یونس 10:88]
سری نماز یا آواز نہ پہنچنے کی صورت
اگر نماز سری ہو یا مقتدی تک امام کی آواز نہ پہنچ رہی ہو تو اس صورت میں مقتدی سورۃ فاتحہ پڑھ لے، یہی تطبیق کی بہترین صورت ہے۔
[ارشاد الساری 2/402، ابو زید]
امام کی اقتدا اور اس سے آگے بڑھنے کی حرمت
باجماعت نماز کے اہم احکام میں سے یہ بھی ہے کہ مقتدی امام کی مکمل اقتدا کرے۔ امام سے آگے بڑھنا حرام ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"أَمَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ”
"کیا تم میں سے کوئی اس بات سے نہیں ڈرتا کہ امام سے پہلے سر اٹھانے پر اللہ اس کا سر گدھے کا سر بنا دے؟” [صحیح البخاری 691، صحیح مسلم 427، مسند احمد 2/504]
اور فرمایا:
"إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ”
"امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے۔” [سنن ابی داؤد 603، مسند احمد 2/341]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امام سے سبقت کرنے والے شخص کو سزا دی اور فرمایا:
"تم نے نہ اپنے امام کی اقتدا کی اور نہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھی۔” [مجموع الفتاوی 3/337]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام سے سبقت تمام ائمہ کے نزدیک بالاتفاق حرام ہے۔ [مجموع الفتاوی 23/336]
اختتامیہ
امام سے سبقت ایک شیطانی فتنہ ہے جو نماز میں خلل ڈالتا ہے، اس سے کوئی فائدہ نہیں بلکہ شدید وعید کا باعث ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں محتاط رہے اور امام کی مکمل پیروی کرے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں دین کا صحیح فہم عطا فرمائے اور اس کے احکام پر عمل کی توفیق دے۔ بے شک وہی سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔