مرکزی مواد پر جائیں
21 شعبان، 1447 ہجری

جماعت سے پیچھے رہنے والے کا حکم: عذر، گناہ، اور مسجد میں جماعت کے آداب

فونٹ سائز:
قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل نماز کے احکام ومسائل:جلد 01: صفحہ 169
مضمون کے اہم نکات

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جماعت سے پیچھے رہ جانے والے کا حکم

الجواب بعون الوہاب بشرطِ صحتِ سوال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

❀ جو شخص جماعت سے پیچھے رہ جائے اور اکیلا نماز ادا کرے، اس کی دو حالتیں ہیں:

① پہلی حالت

✔ کوئی شخص مرض یا خوف کی وجہ سے معذور ہو، اور بلا عذر ترکِ جماعت اس کی عادت نہ ہو، تو ایسے شخص کو نماز باجماعت کا ثواب مل جائے گا: ان شاء اللہ۔

کیونکہ صحیح حدیث میں ہے:

"إِذَامَرِضَ الْعَبْدُ أَوْ سَافَرَ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا " [صحیح البخاری الجہاد والسیر باب یکتب للمسافر مثل ماکان یعمل فی الاقامۃ حدیث 2996۔]

ترجمہ

جب کوئی بندہ بیمار ہو یا سفر میں ہو تو جو اعمال تندرستی اور اقامت کی حالت میں کرتا تھا، وہ سارے اعمال اس کے اعمال نامہ میں درج ہوں گے۔

✔ اسی طرح اگر کسی شخص کا باجماعت نماز ادا کرنے کا پختہ ارادہ تھا، لیکن کوئی شرعی عذر آڑے آ گیا، تو اسے وہ پورا اجر اور مرتبہ ملے گا جو جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے والوں کو حاصل ہوا، کیونکہ اس کی نیت درست اور اچھی تھی۔

② دوسری حالت

✔ کوئی شخص بلا عذرِ شرعی باجماعت نماز سے پیچھے رہا، تو جب وہ اکیلا نماز ادا کرے گا تو جمہور کے نزدیک اس کی نماز صحیح ہو گی، مگر وہ بڑے اجر و ثواب سے محروم رہے گا۔

◈ کیونکہ باجماعت نماز انفرادی نماز کے مقابلے میں ستائیس درجے فضیلت رکھتی ہے۔
◈ نیز مسجد کی طرف ایک ایک قدم بڑھانے کا جو ثواب تھا، وہ بھی حاصل نہ ہو سکا۔
◈ اس عظیم اجر کے خسارے کے ساتھ وہ گناہ گار بھی ہے، کیونکہ اس نے بلا عذر ایک واجب ترک کیا ہے۔
◈ اور وہ صاحبِ اختیار (ولي الامر) کی طرف سے تادیباً سزا کا حق دار ہے، یہاں تک کہ وہ خیر و بھلائی کی طرف واپس لوٹ آئے۔

جماعت کا اصل مقام: مسجد

✔ باجماعت نماز کا مقام مسجد ہے، یہی اسلامی شعار کے اظہار کی جگہ ہے۔
✔ مساجد کی تعمیر کا مقصد بھی یہی ہے۔
✔ اگر کسی اور جگہ پر جماعت کی اقامت معمول بن جائے تو یہ مساجد کی ویرانی کا سبب ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿فى بُيوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَن تُرفَعَ وَيُذكَرَ فيهَا اسمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فيها بِالغُدُوِّ وَالءاصالِ ﴿٣٦﴾رِجالٌ لا تُلهيهِم تِجـٰرَةٌ وَلا بَيعٌ عَن ذِكرِ اللَّهِ وَإِقامِ الصَّلو‌ٰةِ وَإيتاءِ الزَّكو‌ٰةِ يَخافونَ يَومًا تَتَقَلَّبُ فيهِ القُلوبُ وَالأَبصـٰرُ ﴿٣٧﴾﴾ [النور:24۔36۔37۔]

ترجمہ

ان گھروں میں جن کے ادب واحترام کا اور اللہ کا نام وہاں لیے جانے کا حکم ہے وہاں صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جنھیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کے ذکر سے اور نماز کے قائم کرنے اور زکاۃ ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی، وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں الٹ پلٹ ہو جائیں گی۔

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿إِنَّما يَعمُرُ مَسـٰجِدَ اللَّهِ مَن ءامَنَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ وَأَقامَ الصَّلو‌ٰةَ وَءاتَى الزَّكو‌ٰةَ وَلَم يَخشَ إِلَّا اللَّهَ فَعَسىٰ أُولـٰئِكَ أَن يَكونوا مِنَ المُهتَدينَ ﴿١٨﴾﴾ [التوبہ:9۔18۔]

ترجمہ

اللہ کی مسجدوں کی رونق و آبادی تو ان کے حصے میں ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، نمازوں کے پابند ہوں، زکاۃ دیتے ہوں، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں، توقع ہے کہ یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں۔

✔ ان دونوں آیات میں مساجد اور ان کی آبادی کی اہمیت واضح ہے، آباد کرنے والوں کے لیے اجر و ثواب کی بشارت ہے، اور ضمنی طور پر نماز میں حاضر نہ ہونے والوں کی مذمت بھی ظاہر ہوتی ہے۔

مسجد کے پڑوسی کی نماز

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

"لا صلاة لجار المسجد إلا في المسجد” [(ضعیف)السنن الکبری للبیہقی ابواب فضل الجماعۃ والعذر بترکھا باب ماجاء من التشدید فی ترک الجماعۃ من غیر عذر 3/57۔]

ترجمہ

مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے علاوہ نہیں ہوتی۔

سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے، مگر اس میں یہ اضافہ ہے:

"من سمع المنادي” [(ضعیف)السنن الکبری للبیہقی ابواب فضل الجماعۃ والعذر بترکھا باب ماجاء من التشدید فی ترک الجماعۃ من غیر عذر 3/57۔]

ترجمہ

(مسجد کا پڑوسی وہ ہے) جسے مؤذن کی اذان سنائی دے۔

ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کی وضاحت

ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
“جس نے سنت میں کماحقہ غور کیا اسے معلوم ہو جائے گا کہ نماز کے لیے مسجد میں حاضر ہونا ہر مرد پر فرض ہے، الا یہ کہ کوئی ایسا عارضہ لاحق ہو جس سے ترک جماعت کی رخصت ہو۔ بلا عذر مسجد میں غیر حاضری بلا عذر ترک جماعت کے مترادف ہے۔ اس نقطہ نظر پر احادیث و آثار متفق ہیں۔”
[الصلاۃ واحکام تارکھا لا بن القیم ص:118۔]

مساجد کو ویران کرنے والوں پر وعید

جو شخص مسجدوں کی ویرانی کا سبب بنے اور ذکرِ الٰہی سے روکے، اللہ تعالیٰ نے اسے دھمکی دیتے ہوئے فرمایا:

﴿وَمَن أَظلَمُ مِمَّن مَنَعَ مَسـٰجِدَ اللَّهِ أَن يُذكَرَ فيهَا اسمُهُ وَسَعىٰ فى خَرابِها أُولـٰئِكَ ما كانَ لَهُم أَن يَدخُلوها إِلّا خائِفينَ لَهُم فِى الدُّنيا خِزىٌ وَلَهُم فِى الءاخِرَةِ عَذابٌ عَظيمٌ ﴿١١٤﴾﴾ [البقرۃ:2/114۔]

ترجمہ

اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ کی مسجدوں میں اللہ کے ذکر کیے جانے کو روکے اور ان کی بربادی کی کوشش کرے۔ ایسے لوگوں کو خوف کھاتے ہوئے ہی ان میں جانا چاہیے۔ ان کے لیے دنیا میں بھی رسوائی اور آخرت میں بھی بڑے بڑے عذاب ہیں۔

اگر مسجد سے باہر جماعت کی ضرورت پیش آجائے

✔ اگر باجماعت نماز کا اہتمام مسجد سے باہر عام ہو جائے تو مساجد خالی ہوں گی یا نمازی کم ہو جائیں گے، اور اس کے نتیجے میں دلوں میں نماز کی اہمیت کم ہو گی۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿فى بُيوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَن تُرفَعَ وَيُذكَرَ فيهَا اسمُهُ …﴿٣٦﴾﴾ [النور:24۔36۔]

✔ آیت میں “رفع ذکر” حقیقی اور معنوی دونوں اعتبار سے مطلوب ہے۔
البتہ اگر مسجد سے باہر باجماعت نماز کی کوئی خاص ضرورت پیش آ جائے—مثلاً کچھ نمازی دفتر میں ڈیوٹی پر ہوں—تو اگر وہ اپنی جگہ نماز ادا کر لیں تو یہ ان کے کام کے لحاظ سے زیادہ مناسب ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں وہاں موجود افراد پر لازم ہے کہ وہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں۔ اور اس سے قریبی مسجد کی جماعت معطل نہ ہو، کیونکہ وہاں نماز پڑھنے والے موجود رہتے ہیں۔ ان حالات کے پیش نظر دفتر وغیرہ میں نماز پڑھ لینے میں شاید کوئی حرج نہ ہو۔

جماعت کے لیے کم ازکم افراد

✔ باجماعت نماز کے لیے کم از کم دو افراد ہونا ضروری ہیں، کیونکہ “جماعت” اجتماع سے ماخوذ ہے اور جمع کا اطلاق کم از کم دو افراد پر ہوتا ہے۔

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے:

"الاثْنَانِ فَمَا فَوْقَهُمَا جَمَاعَةٌ” [(ضعیف)سنن ابن ماجہ اقامۃ الصلوات باب الائنان جما عۃ حدیث 972۔]

ترجمہ

دو اور دو سے اوپر جماعت ہے۔

ایک اور روایت میں (ایک مرتبہ جماعت ہو چکی تھی، پھر ایک شخص آیا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اس پر کون صدقہ کرے گا؟” تو ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ نماز پڑھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(هَذَانِ جَمَاعَة ) [مسند احمد 5/254۔269۔]

ترجمہ

یہ دو افراد جماعت ہیں۔

اور ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا:

"ليؤمكما أكبركما” [صحیح البخاری الاذان باب ائنان فما فوقہما جما عۃ حدیث 658۔]

ترجمہ

تم دونوں میں سے عمر میں بڑا امامت کرائے۔

✔ الغرض اگر دو افراد ہوں تو نماز باجماعت کی صحت پر اہل علم کا اجماع ہے۔

عورتوں کا مسجد میں آنا

✔ عورتوں کے لیے مباح ہے کہ وہ اپنے خاوندوں سے اجازت لے کر مساجد میں باجماعت نماز کے لیے حاضر ہوں، بشرطیکہ:
◈ خوشبو استعمال نہ کریں
◈ زینت کا اظہار نہ کریں
◈ مکمل پردہ کریں
◈ مردوں کے ساتھ میل جول سے بچیں
◈ اور مردوں کی صفوں کے پیچھے رہیں، کیونکہ عہد نبوی میں عورتیں ایسا ہی کرتی تھیں۔

✔ خواتین کا وعظ و نصیحت اور علم کی مجالس میں شریک ہونا بھی مسنون ہے بشرطیکہ وہ مردوں سے الگ ہوں۔

عورتوں کی جماعت

✔ عورتیں آپس میں مردوں سے الگ ہو کر باجماعت نماز پڑھ سکتی ہیں، خواہ امام مرد ہو یا عورت، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اُم ورقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لیے ایک مؤذن مقرر کیا تھا اور انہیں حکم دیا تھا کہ اہلِ محلہ کی خواتین کی امامت کیا کرو۔
[مسند احمد 6/405۔وسنن ابی داؤد الصلاۃ باب امامۃ النساء حدیث 592۔]

✔ اور دوسری صحابیات سے بھی یہ عمل منقول ہے۔

جماعت کی فضیلت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"صَلاةُ الْجَمَاعَةِ تَفْضُلُ عَلَى صَلاةِ الْفَرْدِ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً” [صحیح البخاری الاذان باب فضل صلاۃ الجماعۃ حدیث 645۔]

ترجمہ

باجماعت نماز اکیلے کی نماز سے ستائیس گنا زیادہ درجے رکھتی ہے۔

کس مسجد میں نماز افضل؟

✔ مسلمان کے لیے افضل یہ ہے کہ وہ اس مسجد میں نماز ادا کرے جہاں اس کی حاضری کے بغیر باجماعت نماز قائم نہ ہو سکے، تاکہ مسجد کو آباد کرنے کا ثواب بھی ملے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿إِنَّما يَعمُرُ مَسـٰجِدَ اللَّهِ مَن ءامَنَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ…﴿١٨﴾﴾ [التوبہ:9/18۔]

ترجمہ

اللہ کی مسجدوں کی رونق و آبادی تو ان کے حصے میں ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں۔

✔ اس کے بعد اس مسجد میں نماز ادا کرنا افضل ہے جہاں نمازیوں کی تعداد زیادہ ہو، کیونکہ یہ اجرِ عظیم کا سبب ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

"صَلاةُ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلاتِهِ وَحْدَهُ وَصَلاتُهُ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلاتِهِ مَعَ الرَّجُلِ وَمَا كَثُرَ فَهُوَ أَحَبُّ إلَى اللَّهِ تَعَالَى " [سنن ابی داؤد الصلاۃ باب فی فضل صلاۃ الجماعۃ حدیث 554؛ مسند احمد 5/140۔]

ترجمہ

آدمی کی نماز دوسرے آدمی کے ساتھ مل کر اکیلے کی نسبت زیادہ اجر والی ہے، اور دو آدمیوں کے ساتھ نماز ایک آدمی کے ساتھ نماز سے زیادہ اجر والی ہے، اور جماعت میں جتنی کثرت ہو وہ نماز اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنی ہی محبوب اور زیادہ اجر والی ہے۔

✔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ اجتماع میں رحمت و سکینت نازل ہوتی ہے، عمومی دعائیں ہوتی ہیں، اور قبولیت کی امید بڑھ جاتی ہے، خصوصاً جب جماعت میں اہل علم اور نیک لوگ ہوں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿فيهِ رِجالٌ يُحِبّونَ أَن يَتَطَهَّروا وَاللَّهُ يُحِبُّ المُطَّهِّرينَ ﴿١٠٨﴾﴾ [التوبہ: 9/108۔]

ترجمہ

اس میں ایسے آدمی ہیں جو خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں، اور اللہ پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے۔

✔ اس آیت سے طہارت اور کامل وضو کا اہتمام کرنے والے صالحین کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرنے کا استحباب ظاہر ہوتا ہے۔

پرانی مسجد، دور کی مسجد، اور قدموں کا اجر

✔ نئی مسجد کی نسبت پرانی مسجد میں نماز ادا کرنا بہتر ہے، کیونکہ قدیم مسجد کو عبادت و اطاعت میں سبقت حاصل ہوتی ہے۔
✔ پھر قریب کی مسجد کی بجائے دور کی مسجد میں نماز ادا کرنا بھی افضل کہا گیا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلَاةِ أَبْعَدُهُمْ إِلَيْهَا مَمْشًى، فَأَبْعَدُهُمْ” [صحیح البخاری الاذان باب فضل صلاۃ الفجر فی جما عۃ حدیث 651۔]

ترجمہ

نماز کا اجر و ثواب ان لوگوں کے لیے زیادہ ہے جو نماز کے لیے زیادہ دور سے آتے ہیں۔

اور فرمایا:

"وَذَلِكَ أَنَّهُ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رُفِعَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ وفي رواية: "حتى يدخل المسجد”” [صحیح البخاری الاذان باب فضل صلاۃ الجماعۃ حدیث 647؛ والصلاۃ باب الصلاۃ فی مسجد السو ق حدیث 477۔]

ترجمہ

جب تم میں سے کوئی اچھی طرح وضو کرتا ہے اور صرف نماز کی خاطر مسجد میں آتا ہے تو وہ ایک قدم بھی نہیں اٹھاتا مگر اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے۔

اور فرمایا:

"يَا بَنِي سَلِمَةَ دِيَارَكُمْ تُكْتَبْ آثَارُكُمْ” [صحیح البخاری الاذان باب احتساب الاثار حدیث 655؛ صحیح مسلم المساجد باب فضل کثرۃ الخطا الی المساجد حدیث 665 واللفظ لہ۔]

ترجمہ

اے بنو سلمہ! اپنے (موجودہ) گھروں میں رہو، تمہارے (قدموں کے) نشانات لکھے جاتے ہیں۔

قریب والی مسجد کی ترجیح

❀ بعض علماء کے نزدیک دو مسجدوں میں سے قریب تر مسجد میں نماز ادا کرنا زیادہ بہتر ہے، کیونکہ پڑوس کی وجہ سے وہ زیادہ حق دار ہے۔ ایک روایت میں ہے:

"لا صلاة لجار المسجد إلا في المسجد” [(ضعیف)السنن الکبری للبیہقی ابواب فضل جماعۃ والعذر بترکھا باب ماجاء من الشدید 3/57۔]

✔ نیز قریب کی مسجد چھوڑ کر دور مسجد میں جانے سے پڑوسی تعجب کریں گے۔ غالباً یہ رائے زیادہ وزن رکھتی ہے کیونکہ دور کی مسجد میں جانے سے قریب والی مسجد کو نظر انداز کرنا لازم آتا ہے اور قریب مسجد کے امام کے بارے میں بدگمانی پیدا ہو سکتی ہے۔

مقرر امام کی موجودگی میں دوسرا امام

✔ مسجد کے مقرر امام کی موجودگی میں کسی دوسرے شخص کا امامت کروانا ناجائز ہے، الا یہ کہ مقرر امام کی اجازت ہو یا وہ معذور ہو۔

صحیح مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"وَلا يَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ , وَلا يَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلا بِإِذْنِهِ " [صحیح مسلم المساجد باب من احق بالا مامۃ؟ حدیث 673۔]

ترجمہ

کوئی شخص کسی شخص کے دائرہ اختیار و اقتدار میں اس کی اجازت کے بغیر جماعت نہ کرائے۔

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ اس کا مفہوم یوں بیان کرتے ہیں:
“گھر کا مالک صاحبِ مجلس اور مسجد کا مقرر امام اپنی جگہ کا دوسرے سے زیادہ حق دار ہے۔” [شرح مسلم للنووی 5/243۔]

✔ علاوہ ازیں یہ جسارت مقرر امام کو پریشان کرتی ہے، نفرت کا باعث بنتی ہے، اور مسلمانوں میں تفرقہ کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

❀ بعض علماء کے نزدیک اگر کسی نے مقرر امام کی اجازت یا شرعی عذر کے بغیر لوگوں کو نماز پڑھائی تو ان کی نماز صحیح نہ ہو گی، کیونکہ یہ عمل خطرناک اور برے نتائج کا سبب ہے، لہٰذا اس میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔

امام و مقتدی کے حقوق

✔ جماعت کو چاہیے کہ اپنے امام کے حقوق کا خیال رکھے اور اس کے کام میں دخل اندازی نہ کرے۔
✔ امام کو بھی چاہیے کہ مقتدیوں کی عزتِ نفس مجروح نہ کرے، انہیں تکلیف و مشقت میں نہ ڈالے۔
✔ سب ایک دوسرے کا خیال رکھیں تاکہ امام اور مقتدیوں میں وحدت، محبت اور یگانگت پیدا ہو۔

اگر امام تاخیر سے آئے

اگر امام کی آمد میں تاخیر ہو جائے اور وقت کم رہ گیا ہو تو لوگ کسی بھی شخص کو امام بنا کر باجماعت نماز ادا کر لیں:

◈ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز پڑھا دی تھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی عمرو بن عوف کے ہاں صلح کرانے گئے اور دیر ہو گئی۔ [صحیح مسلم الصلاۃ باب تقدیم الجماعۃ من یصلی بھم اذا تاخر الامام حدیث 421۔]

◈ اور ایک سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے دور گئے، واپس آئے تو سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز پڑھا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے آخری رکعت ادا کی اور باقی نماز ان کے سلام کے بعد پوری کی، پھر فرمایا:

"أَحْسَنتُمْ” [صحیح مسلم الصلاۃ باب تقدیم الجماعۃ من یصلی بھم اذا تاخر الامام ھدیث 274۔]

ترجمہ

تم نے جو کیا اچھا کیا۔

نماز پڑھ چکنے کے بعد جماعت مل جائے

✔ اگر کسی نے نماز ادا کر لی، پھر مسجد آیا اور وہی نماز باجماعت کھڑی تھی، تو اس کے لیے دوبارہ جماعت میں شامل ہو کر نماز پڑھ لینا مسنون ہے۔

سیدنا ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"صل الصلاة لوقتها فإن أدركتك الصلاة معهم فصل ولا تقل إني قد صليت فلا أصلي” [صحیح مسلم المساجد باب لراھۃ تاخیر الصلاۃ عن وقتہا المختار حدیث 648۔]

ترجمہ

وقت پر نماز ادا کر لو، پھر اگر مسجد میں تمہیں وہی نماز ان کے ساتھ مل جائے تو دوبارہ پڑھ لو، اور یہ نہ کہنا کہ میں پڑھ چکا ہوں لہٰذا دوبارہ نہیں پڑھتا۔

✔ واضح رہے کہ دوسری (بعد والی) نماز نفل بن جائے گی، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کو فرمایا تھا کہ اگر تم نے گھروں میں نماز پڑھ لی پھر مسجد میں جماعت پا لو تو ان کے ساتھ بھی پڑھ لو، اور بعد والی نماز تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔ [جامع الترمذی الصلاۃ باب ماجاء فی الرجل یصلی وحدہ ثم بدرک الجماعۃ حدیث 219۔]

✔ نیز جب لوگ جماعت سے نماز ادا کر رہے ہوں اور کوئی شخص الگ بیٹھ جائے تو لوگوں کے دلوں میں بدگمانی پیدا ہو سکتی ہے کہ شاید یہ نمازی نہیں۔

اقامت شروع ہو جائے تو نفل شروع کرنے کا حکم

✔ جب مؤذن فرض نماز کی اقامت شروع کر دے تو کسی کے لیے کوئی دوسری نماز الگ طور پر شروع کرنا جائز نہیں، چاہے نفل ہو، تحیۃ المسجد ہو یا کوئی اور نماز، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة” [صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب کراھۃ الشروع فی نافلۃ بعد شروع المؤذن فی اقامۃ الصلاۃ حدیث 710۔]

ترجمہ

جب نماز کی اقامت کہی جائے تو فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہیں ہوتی۔

ایک روایت میں ہے:

"فلا صلاة إلا التي أقيمت” [(ضعیف)مسند احمد 2/352۔]

ترجمہ

پھر کوئی نماز نہیں سوائے اس نماز کے جس کی اقامت کہی گئی ہے۔

✔ لہٰذا اقامت سن کر کوئی دوسری نماز شروع نہ کی جائے۔ بلکہ اگر کوئی نماز میں مشغول ہو تو اسے چھوڑ کر اس نماز میں شامل ہو جائے جس کی اقامت کہی گئی ہے۔

نووی رحمۃ اللہ علیہ کی حکمت

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
“اقامت کے بعد نفل نماز چھوڑ کر امام کے ساتھ شامل ہونے میں یہ حکمت ہے کہ انسان شروع ہی سے فرض نماز کے لیے فارغ ہو کر امام کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے، فرض کی محافظت نفل میں مشغول ہونے سے بہتر ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام سے اختلاف کرنے سے منع کیا ہے۔ ایک حکمت یہ بھی ہے کہ تکبیر تحریمہ حاصل ہو جاتی ہے، اور امام کے ساتھ تکبیر تحریمہ میں شامل ہونے سے تکبیر تحریمہ کا مخصوص اجر ملتا ہے۔”
[شرح للنووی 5/312۔]

اقامت کے بعد نفل میں مشغول ہو تو کیا کرے؟

اگر اقامت ہو جائے اور کوئی شخص نفلی نماز میں مصروف ہو تو اسے توڑنے کی بجائے مختصر کر کے مکمل کرے۔
البتہ اگر جماعت کے نکل جانے کا اندیشہ ہو تو پھر نفل نماز توڑ دے۔
[فاضل مؤلف رحمۃ اللہ علیہ کا یہ موقف صحیح نہیں حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : "إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة” (صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب کراھۃ الشروع فی نافلۃ حدیث710۔ کا تقاضا تو یہی ہے کہ اقامت (تکبیر ) کے شروع ہوتے ہی سنت یا نفل پڑھنے والا اپنی نماز ختم کردے اور جماعت میں شامل ہو جائے اور بعد میں سنتیں ادا کرے کیونکہ اقامت کے بعد پڑھی جانے والی نماز کا شرعاً وجود منفی ہے۔]

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔