مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

جس کی عقل زائل ہو چکی ہو، اس کی طلاق کا کیا حکم ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

جس کی عقل زائل ہو چکی ہو، اس کی طلاق کا کیا حکم ہے؟

جواب:

جس کی عقل زائل ہو چکی ہو، اس کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
❀ علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) فرماتے ہیں:
أجمع العلماء على أن طلاق المعتوه لا يجوز.
اہل علم کا اجماع ہے کہ مجنون کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
(تفسير القرطبي: 203/5)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔