جس نے مذاق میں ایک طلاق دی تو کیا حکم ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

جس نے مذاق میں ایک طلاق دی تو کیا حکم ہے؟

جواب:

ہنسی مذاق میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا ایک طلاق واقع ہو گئی ، اب شوہر عدت کے اندر اندر رجوع کر سکتا ہے۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تین چیزوں کی حقیقت تو حقیقت ہے ہی، ان کا مذاق بھی حقیقت ہے: نکاح، طلاق، رجوع۔“
(سنن أبي داود : 2194، سنن الترمذي : 1225 ، سنن ابن ماجه : 2039، شرح معاني الآثار للطحاوي : 58/2 ، سنن الدارقطني : 256/3 ، وسنده حسن)