مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

جس مرد کی نانی کا دودھ عورت نے پیا ہو، کیا اس سے نکاح جائز ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

ایک عورت نے اس مرد سے نکاح کیا، جس کی نانی کا دودھ اس عورت نے پیا تھا، کیا ان کا نکاح جائز ہے؟

جواب:

اگر اس عورت نے مرد کی نانی کا دودھ مدت رضاعت میں کم از کم پانچ بار پیا ہے، تو حرمت رضاعت ثابت ہے، کیونکہ وہ عورت اس مرد کی رضاعی خالہ ہے۔ تو جس طرح نسبی خالہ سے نکاح جائز نہیں، اسی طرح رضاعی خالہ سے نکاح بھی جائز نہیں۔ اگر نکاح کر لیا ہے، بعد میں رضاعت کا علم ہوا، تو دونوں میں جدائی کرائی جائے گی۔
وَخَالَاتُكُمْ
(النساء: 23)
اور تمہاری خالاؤں کو بھی تم پر حرام کر دیا گیا ہے۔
نسبی اور رضاعی خالاؤں کا ایک ہی حکم ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔