جس شخص کو ماہ رمضان ہو جانے کا علم ہی طلوع فجر کے بعد ہو

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ مُبشر احمد ربانی رحمہ اللہ کی کتاب احکام و مسائل رمضان سے ماخوذ ہے۔

جس شخص کو ماہ رمضان ہو جانے کا علم ہی طلوع فجر کے بعد ہو :۔

سوال :۔

آپ سے اس شخص کے حکم کے متعلق سوال ہے جسے ماہ رمضان کے واقع ہو جانے کا علم ہی طلوع فجر کے بعد ہو وہ کیا کرے؟

فتوی :۔

جس شخص کو ماہ رمضان کے ہو جانے کا علم ہی طلوع فجر کے بعد ہو اس کے لئے لازم ہے کہ وہ باقی دن ان چیزوں سے پرہیز رکھے جو روزہ نہ ہونے کی صورت میں حلال ہوتی ہیں۔ کیونکہ وہ رمضان کا دن ہے اور مقیم کے لئے جائز نہیں کہ وہ مفطرات میں سے کوئی چیز کھائے۔ لیکن اسے اس روزہ کی قضا دینا ہوگی کیونکہ اس نے فجر سے پہلے روزوں کی رات نہیں گزاری اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من لم يجمع الصيام قبل طلوع الفجر فلا صيام له
”جس نے طلوع فجر سے پہلے روزے کی نیت نہ کر لی اس کا روزہ نہیں۔“
(ابوداؤد کتاب الصیام باب النية في الصيام : 2454 ، ترمذی کتاب الصوم باب ما جاء لا صيام لمن لم يعزم من الليل : 730 ، نسائی کتاب الصیام : 3330 ، ابن ماجہ : 1700)
اور ابن قدامہ رحمہ اللہ نے مغنی میں اس کے موافق نقل کیا ہے اور یہ عام فقہاء کا قول ہے اور اس سے مراد فرضی روزے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے حدیث شریف سے ذکر کیا ہے۔
رہے نفلی روزے تو وہ دن کے دوران نیت سے بھی جائز ہیں، بشرطیکہ مفطرات سے کوئی چیز نہ کھائی ہو۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح طور پر ثابت ہے جو اس پر دلالت کرتا ہے۔ ہم اللہ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو اس بات کی توفیق دے جو اسے پسند ہو اور ان سے ان کے روزے اور ان کا قیام قبول فرمائے۔ وہ سننے والا ہے قریب ہے۔