سوال:
جس شخص پر غشی طاری ہو، اس کے سامنے اذان کہنا کیسا ہے؟
جواب:
اگر شیاطین کی وجہ سے غشی طاری ہے، تو اس کے سامنے اذان کہنا درست ہے، کیونکہ شیاطین اذان کی آواز سے بھاگتے ہیں۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا نودي للصلاة أدبر الشيطان، وله صراط، حتى لا يسمع التأذين، فإذا قضى النداء أقبل
”جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے، تو شیطان پاد مارتے ہوئے اتنی دور بھاگتا ہے، جہاں اسے اذان سنائی نہ دے، جب اذان مکمل ہوتی ہے، تو واپس لوٹ آتا ہے۔“
(صحيح البخاري: 608، صحيح مسلم: 389)
❀ امام ابو عوانہ رحمہ اللہ اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں:
هذا دليل على أن الرجل إذا أحس بالغول أو أشرف على المصروع، ثم أذن ذهب عنه ما يجد من ذلك
”یہ حدیث دلیل ہے کہ جب کوئی آدمی جن بھوت محسوس کرے یا کسی ایسے شخص کے قریب ہو، جس میں جن داخل ہو گیا ہو، پھر وہ (اس کے قریب) اذان دے، تو جن بھوت کا اثر جاتا رہے گا۔“
(مستخرج أبي عوانة تحت الحديث: 977)