سوال:
جس جوتے کا تلا ناپاک ہو، اس میں نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب:
جس جوتے کا تلا ناپاک ہو، تو معلوم ہونے کے بعد اس میں نماز پڑھنا جائز نہیں، اگر دوران نماز معلوم ہو کہ جوتا ناپاک ہے، تو اسے اتار دیا جائے۔
❀ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے پہن کر نماز پڑھائی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی جوتوں سمیت نماز ادا کی، پھر دوران نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے اتار دیے، یہ دیکھ کر صحابہ نے بھی جوتے اتار دیے، نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ نے جوتے کیوں اتارے؟ صحابہ نے عرض کیا، اللہ کے رسول! آپ کو دیکھا تو اتار دیے، فرمایا: مجھے جبریل نے بتایا تھا کہ جوتا نجاست آلود ہے، آپ مسجد آنے سے قبل جوتا دیکھ لیا کریں، اس میں نجاست ہو، تو اتار دیا کریں، ورنہ اسی میں نماز ادا کر لیا کریں۔“
(مسند الطيالسي، ص 286، مسند الإمام أحمد: 20/3، سنن أبي داود: 650، مسند ابن حميد: 880، مسند أبي يعلى: 1194، السنن الكبرى للبيهقي: 406/2، وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ (1017) اور امام ابن حبان (2185) نے ”صحیح “کہا ہے، حافظ حاکم (260/1) نے اسے امام مسلم کی شرط پر ”صحیح “کہا ہے، حافظ ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔
❀ حافظ نووی نے بھی اس کی سند کو ”صحیح “کہا ہے۔
(خلاصة الأحكام: 319/1)