جو مجبوراََ كلمه كفر كہے وه كافر نہيں
ارشاد باری تعالی ہے کہ :
﴿ مَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ﴾
[النحل: 106]
”جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ کے ساتھ کفر کرے بجز اس کے جس پر جبر کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر برقرار ہو (تو وہ کلمہ کفر کہنے سے بھی کافر نہ ہو گا ) ۔ “
ایک ضروری وضاحت
جن روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض افعال کو خود کفر قرار دیا ہے مثلاً:
➊ لا ترجعوا بعدى كفارا يضرب بعضكم رقاب بعض
”میرے بعد کافر بن کر نہ لوٹنا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو ۔“
[بخارى: 6785 ، كتاب الحدود: باب ظهر المومن حمى إلا فى حد أو حق]
➋ سباب المسلم فسوق و قتاله كفر
”مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے ۔“
[بخاري: 6044 ، كتاب الأدب: باب ما ينهى من السباب واللعن]
ان کا مطلب یہ ہے کہ یہ اعمال کفر کو لازم کرنے والے ہیں (یعنی انہیں اختیار کرنے سے کوئی نہ کوئی کفر کا کام سرزد ہو سکتا ہے ) ایسا نہیں ہے کہ ان اعمال کو کرنے والا اسلام سے خارج ہو جائے گا ۔ علاوہ ازیں کسی کو کافر کہنا ہرگز جائز نہیں اِلا کہ اس کا کفر کے ساتھ شرح صدر ہو چکا ہو (یعنی دل مطمئن ہو چکا ہو ) تب ہی تم خطرے کی چوٹ سے بچ سکتے ہو ۔
[السيل الجرار: 579/4]
نیز یہ بھی واضح رہے کہ جو کسی کافر کا قول بیان کرے اس پر کفر کا حکم نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں بے شمار جگہوں پر طاغوتوں اور فرعونوں کا ذکر کیا ہے ۔
[الروضة الندية: 626/2]