مضمون کے اہم نکات
سوال
میں محمد دین ولد قاسم علی کھوکھر سکنہ چک نمبر ۱۵ تحصیل و ضلع اوکاڑہ ہوں۔ مجھے ایک شرعی مسئلہ درپیش ہے جو میں علمائے کرام کی خدمت میں عرض کرتا ہوں:
میری بیٹی مسماۃ صغراں بی بی کو زبردستی اغوا کرکے شوکت علی ولد سراج دین قوم آرائیں سکنہ چک نمبر ۱۲ تحصیل و ضلع اوکاڑہ کے ساتھ تقریباً چھ ماہ قبل نکاح کر دیا گیا۔
بیٹی تقریباً دو ماہ ان کی قید میں رہی۔ محمد اسلم، محمد سلیم اور محمد برکت نے مل کر اغوا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی چچی بہاولپور سے آئی ہے، آپ اسے لے آئیں۔ اس بہانے بیٹی کو لے گئے اور کوئی چیز سونگھا دی۔ اغوا کے بعد مختلف مقامات پر رکھا گیا۔ نکاح فارم پر زبردستی دستخط کروائے گئے جبکہ بیٹی نے ایجاب و قبول نہیں کیا۔
شوکت علی نے بیٹی کو ایک کمرے میں قید رکھا اور باہر جاتے وقت کمرہ تالا لگا دیتا۔ میری بیٹی اس سے سخت نفرت کرتی ہے اور اسے پسند نہیں کرتی۔ وہ مسلسل بیوی پر بلاوجہ تشدد کرتا رہا اور اب بھی جسمانی و ذہنی اذیت دیتا ہے۔ نکاح کے وقت بھی لڑکی کو سخت دھمکی دی گئی کہ اگر نکاح نہ پڑھا تو قتل کر دیا جائے گا۔ ان سب باتوں کا والدین اور دیگر رشتہ داروں کو کوئی علم نہ تھا۔ بعد میں جب والدین کو پتا چلا تو پولیس کی مدد سے لڑکی کو واپس لایا گیا۔ یہ واقعہ ساڑھے چار ماہ قبل کا ہے۔
اب لڑکی بہت پریشان ہے اور کسی صورت بھی شوکت علی کے پاس نہیں جانا چاہتی۔ وہ اس نکاح کو تسلیم نہیں کرتی۔ نکاح فارم پر والد کے انگوٹھے کا کوئی نشان موجود نہیں ہے۔
لہٰذا علمائے کرام سے سوال ہے کہ کیا شرعاً اس طرح زبردستی کیا گیا نکاح، بغیر والدین کی رضا مندی کے، جائز ہے یا نہیں؟ ہمیں مدلل شرعی جواب دیا جائے۔
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
بشرط صحت سوال اگر بیان کردہ صورت حقیقت کے مطابق ہے تو واضح ہو کہ نکاح کے انعقاد کے لئے دو بنیادی شرائط لازمی ہیں:
➊ لڑکی کی رضا مندی
➋ ولی (والد یا شرعی سرپرست) کی اجازت
ان دونوں میں سے اگر کوئی ایک شرط بھی موجود نہ ہو تو شرعاً نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا۔
حدیث صحیح بخاری
(أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، حَدَّثَهُمْ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ تُنْكَحُ الأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلاَ تُنْكَحُ البِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ: «أَنْ تَسْكُتَ»)
(صحیح البخاری، باب لاینکح الا ب وغیرہ البکر والشیب الا برضاھا، ج۲ ص ۷۷۱)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیوہ کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس سے مشورہ نہ لیا جائے، اور کنواری کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس سے اجازت نہ لی جائے۔ صحابہ نے پوچھا: اس کی اجازت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس کا خاموش رہنا اس کی اجازت ہے۔
دوسری حدیث (مسند احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ)
(عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ جَارِيَةً بِكْرًا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّ «أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»)
(رواہ احمد و ابوداؤد ابن ماجة، سبل السلام ج۳ ص ۱۲۲)
ترجمہ: ایک کنواری لڑکی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ میرے والد نے میری مرضی کے بغیر میرا نکاح کر دیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اختیار دے دیا کہ چاہے تو اس نکاح کو باقی رکھے یا ختم کر دے۔
اگرچہ حافظ ابن حجر نے اس کو ضعیف کہا ہے لیکن دیگر اسناد سے یہ حدیث تقویت پاتی ہے اور قابلِ حجت ہے۔
(سبل السلام ج۳ ص ۱۲۲)
ان دونوں احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ:
◄ اگر لڑکی راضی نہ ہو تو شرعی ولی کا نکاح بھی معتبر نہیں ہوتا۔
◄ ایسی لڑکی کو اختیار ہے کہ نکاح کو فسخ کر دے۔
لہٰذا سوال میں مذکور نکاح چونکہ زبردستی اور جبر کے ذریعے کیا گیا ہے، یہ شرعاً نکاح ہے ہی نہیں، یعنی باطل ہے۔
مزید دلائل
(عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ»)
(فقه السنة :ج۲ ص۱۱۲)
ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔”
اسی طرح:
(وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا، فَإِنْ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ»)
(فقه السنة ج۲ص ۱۱۲)
ترجمہ: جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے۔
یہ دونوں احادیث اس بات کو قطعی ثابت کرتی ہیں کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتا۔
حافظ عبداللہ محدث روپڑی فرماتے ہیں:
"اگر عورت عیاش بدکار ہو اور اولیاء اس کی بھلائی چاہتے ہوں تو ایسی حالت میں اولیاء کی اجازت کے بغیر نکاح صحیح نہیں۔ اس صورت میں دوسری جگہ نکاح ہوسکتا ہے، طلاق کی ضرورت نہیں۔”
(فتاویٰ روپڑیہ :ج۲ص۴۱۴)
خلاصہ
* سوال میں بیان کردہ نکاح دو وجوہات کی بنا پر باطل ہے:
➊ لڑکی کو اغوا اور جبر کے ذریعے نکاح پر مجبور کیا گیا جبکہ وہ راضی نہ تھی۔
➋ نکاح میں اس کے والد (ولی) کی اجازت شامل نہیں تھی۔
* محض نکاح فارم پر زبردستی دستخط کروا لینے سے شرعاً نکاح ثابت نہیں ہوتا۔
* اس نکاح کو برقرار رکھنے یا فسخ کرنے کے بارے میں فیصلہ مجاز عدالت کی توثیق سے ہوگا۔
یہ جواب صرف شرعی نقطۂ نظر سے ہے۔ اصل صورتحال اللہ تعالیٰ بہتر جانتے ہیں۔
ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب