مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

جاہلیت کی رسوم والی جگہ پر قربانی کی ممانعت کی حدیث

فونٹ سائز:

سوال

کیا ایسی حدیث موجود ہے جس میں ذکر ہو کہ قربانی کا جانور وہاں ذبح نہ کیا جائے جہاں جاہلیت کی رسومات ہوتی تھیں؟ اگر ہے، تو اس کا حوالہ درکار ہے؟

جواب از فضیلۃ الباحث افضل ظہیر جمالی

جی ہاں، اس بارے میں سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث موجود ہے:

نَذَرَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَةَ…
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بوانہ (ایک مخصوص جگہ) پر اونٹ ذبح کرے گا۔ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور اپنی نذر کے بارے میں بتایا۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی؟
لوگوں نے جواب دیا: نہیں۔
پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا وہاں کفار کی عیدوں میں سے کوئی عید منائی جاتی تھی؟
لوگوں نے کہا: نہیں۔
تو آپ ﷺ نے فرمایا:
اپنی نذر پوری کرلو، البتہ گناہ کی نذر پوری کرنا جائز نہیں اور نہ ایسی نذر جائز ہے جس کا انسان مالک نہیں ہوتا۔
[سنن ابی داؤد: 3313]

حدیث سے حاصل ہونے والے نکات

◄ وہ جگہ جہاں جاہلیت کی رسوم ادا کی جاتی ہوں یا کفار کی عیدیں منائی جاتی ہوں، وہاں قربانی یا کوئی نیکی کا عمل کرنا ناجائز ہے۔
◄ شرعی نذر وہی معتبر ہے جو اللہ کی اطاعت اور اس کے احکام کے مطابق ہو، اور گناہ یا غیر شرعی مقامات پر نذر پوری کرنا جائز نہیں۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔