سوال:
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إنه قال: يا رسول الله إني نذرت فى الجاهلية أن أعتكف ليلة فى المسجد الحرام، فقال له: أوف بنذرك
انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجد حرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: اپنی نذر پوری کریں۔
(صحيح البخاري: 6697، صحیح مسلم: 1656، المنتقى لابن الجارود: 941)
پوچھا جاتا ہے کہ جاہلیت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کافر تھے، تو حالت کفر میں مانی گئی نذر کا کیا اعتبار؟ کفر میں مانی گئی نذر کو پورا کرنے کی کیا ضرورت؟
جواب:
حالت کفر میں مانی گئی نذر کو پورا کرنے کے متعلق اہل علم کا اختلاف ہے، راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ حالت کفر میں مانی گئی وہ نذر، جو اسلامی تعلیمات کے موافق ہو، اسے پورا کیا جا سکتا ہے اور جو نذر اسلامی تعلیمات کے مخالف ہو، مثلاً کسی بت پر چڑھاوا چڑھانے کی نذر ماننا وغیرہ، تو ایسی نذر کو پورا کرنا جائز نہیں، کیونکہ یہ گناہ کی نذر ہے۔
❀ سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
نذر رجل على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ينحر إبلا ببوانة، فأتى النبى صلى الله عليه وسلم، فقال: إني نذرت أن أنحر إبلا ببوانة، فقال النبى صلى الله عليه وسلم: هل كان فيها وثن من أوثان الجاهلية يعبد؟ قالوا: لا، قال: هل كان فيها عيد من أعيادهم؟، قالوا: لا، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أوف بنذرك، فإنه لا وفاء لنذر فى معصية الله
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک شخص نے بوانہ نامی مقام پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: میں نے بوانہ نامی مقام پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مان لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اس جگہ جاہلیت کا کوئی بت تھا، جس کی عبادت کی جاتی ہو؟ صحابہ کرام نے عرض کیا: نہیں۔ فرمایا: کیا اس جگہ اہل جاہلیت کا کوئی میلہ لگتا تھا؟ عرض کیا: نہیں۔ فرمایا: اپنی نذر پوری کر لیں۔ اللہ کی نافرمانی میں کوئی نذر پوری کرنا جائز نہیں۔
(سنن أبي داود: 3313، المعجم الكبير للطبراني: 2/75-76، وسنده صحيح)