جاہلیت، کفر، شرک اور بدعت کی حقیقت اور وضاحت

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ علمائے حدیث
مضمون کے اہم نکات

سوال

جاہلیت اور کفر، شرک اور بدعت کیا ہے؟ وضاحت فرمائیں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جاہلیت

◄ اسلام اور ایمان میں داخل ہونے سے پہلے انسان جس حالت میں ہوتا ہے، اسے جاہلیت کہا جاتا ہے۔
◄ اسی طرح جاہل ہونا یا جاہل کی طرف منسوب ہونا بھی جاہلیت کہلاتا ہے۔

کفر

◄ قرآنِ مجید کی کسی آیت یا کسی آیت کے حصے کا انکار کرنا۔
◄ اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ کی کسی حدیث و سنت یا اس کے کسی حصے کا انکار کرنا۔
◄ دیگر ایمانیات یا دینیات میں سے کسی چیز کا انکار کرنا۔
◄ ارکانِ اسلام میں سے کسی رکن کو ترک کرنا۔
◄ کفار کی امتیازی خصوصیات میں سے کسی خصوصیت کو اپنانا۔

یہ سب کفر کہلاتا ہے۔

◄ کفر کا لفظ کبھی ’’دون کفر‘‘ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، یعنی ہر معصیت و گناہ پر بھی بولا جاتا ہے، بالخصوص کبائر پر۔

شرک

◄ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا شرک ہے۔
◄ یہ شرکت درج ذیل میں سے کسی چیز میں ہوسکتی ہے:
✿ ذات میں
✿ اسماء و صفات میں
✿ عبادت و اطاعت میں
✿ حکم و تصرف میں
✿ یا کسی اور پہلو میں

بدعت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«وَكُلُّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ، وَكُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ، وَكُلُّ ضَلَالَۃٍ فِي النَّارِ»
(1۔ مسلم؍ الجمعۃ؍ باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ، حدیث: ۸۶۸
2۔ نسائی؍ کتاب الجمعۃ؍ باب و کیفیۃ الخطبۃ)

ترجمہ:
’’دین میں ہر نئی چیز بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے، اور ہر گمراہی دوزخ میں لے جانے والی ہے۔‘‘