جاہلانہ رسومات کی قسم پوری نہ ہو تو کیا کفارہ لازم ہے؟ قرآن کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

ایک شخص نے شادی میں جاہلانہ رسومات ترک کرنے کی قسم کھائی، پھر ان رسومات کو ادا کر لیا، تو کیا حکم ہے؟

جواب:

اس نے قسم توڑ دی ہے، اس پر کفارہ قسم لازم آئے گا۔ اسے چاہیے کہ جو کام مستحب ہو اسے پورا کیا جائے۔
❀ فرمان باری تعالیٰ ہے:
﴿وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾
(المائدة: 89)
”اپنی (جائز) قسموں کی حفاظت کرو، اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیات کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم شکر گزاری کرو۔“