تحریر: عمران ایوب لاہوری
اگر کوئی کسی کا جانور قتل کر دے
تو اسے اس کی قیمت ادا کرنا ہو گی اور اسے زخم پہنچانے کی صورت میں بھی اس کی قیمت کے حساب سے ادائیگی کی جائے گی ۔ اس لیے کہ غلام اور جانور وغیرہ ایسی اشیا ہیں کہ انسان جن کا مالک بن سکتا ہے تو جو انہیں ہلاک کرے گا اس پر ان کی قیمت یا زخموں کا ہرجانہ ادا کر نا لازم ہو گا ۔
[الروضة الندية: 669/2 ، الفقه الاسلامي وأدلته: 5778/7]