جو کسی جانور سے برائی کرے تو اسے بھی سزا دی جائے
➊ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من وقـع عـلـى بهيمة فاقتلوه واقتلوا البهيمة
”جو شخص کسی جانور سے برائی کرے تو اسے اور جانور کو قتل کر دو ۔“
[صحيح: صحيح ابن ماجة: 2564 ، احمد: 269/1 ، ترمذي: 1455 ، كتاب الحدود: باب ما جاء فيمن يقع على البهيمة ، ابو داود: 4464 ، ابن ماجة: 2564]
حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی سند میں کلام ہے البتہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی آئندہ اس کے مخالف حدیث زیادہ صحیح ہے ۔
[تلخيص الحبير: 55/4]
➋ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أتى بهيمة فلا حد عليه
”جو کسی جانور سے بدفعلی کرے اس پر کوئی حد نہیں ۔“
[حسن: صحيح ابو داود: 3748 ، ترمذي: 1455 ، كتاب الحدود: باب ما جآء فيمن يقع على البهيمة ، ابو داود: 4465]
اس کی سزا کے متعلق علما نے اختلاف کیا ہے:
(حسن بصریؒ) ایسا شخص زانی کے درجے میں ہی ہے ۔
(حاکمؒ ) اسے حد (زنا ) سے کم کوڑے لگائے جائیں گے ۔
(ابو یوسفؒ ) اس پر حد (زنا ) لگائی جائے گی ۔
(ابو حنيفہؒ ، مالكؒ ، احمدؒ ) اس پر صرف تعزیر لگائی جائے گی ۔
(صدیق حسن خانؒ ) جس حدیث میں قتل کا حکم ہے وہ قابل حجت نہیں ہے اس لیے ظاہر تعزیر ہی ہے ۔
(ملا علی قاریؒ ) قتل کا مطلب یہ ہے کہ اسے سخت مار ماری جائے یا اس سے وعید یا ڈانٹنا مقصود ہے ۔
[نيل الأوطار: 569/4 ، تحفة الأحوذى: 845/4 ، بيهقى: 234/8 ، الروضة الندية: 593/2 ، المرقاة: 163/7 ، سبل السلام: 1689/4]
(راجح ) اسے صرف تعزیر ہی لگائی جائے گی ۔
[تلخيص الحبير: 55/4]
❀ جانور کے متعلق حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ چوپائے کو کس لیے قتل کیا جائے گا؟ تو انہوں نے فرمایا میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں سنا البتہ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ بدفعلی کی وجہ سے اس کا گوشت کھانے یا اس سے فائدہ حاصل کرنے کو مکروہ سمجھا ہے ۔
[حسن صحيح: صحيح ترمذي ، ترمذي: 1455 ، كتاب الحدود: باب ما جآء فيمن يقع على البهيمة]
(ابو حنیفہؒ ، ابو یوسفؒ ) جس جانور سے بدفعلی کی گئی ہو اس کا گوشت کھانا مکروہ تنزیہی ہے ۔
[نيل الأوطار: 569/4]
ایک اور روایت سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ جانور کو قتل نہیں کرنا چاہیے اور وہ یہ ہے:
أن النبى صلى الله عليه وسلم نهي عن ذبح الحيوان إلا لأ كله
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جانور ذبح کرنے سے منع فرمایا ہے مگر صرف اسے کھانے کے لیے (ذبح کرنا جائز ہے ) ۔“
[تلخيص الحبير: 121/3 ، موطا: 447/2 ، ابو داود فى المراسيل: 316]
(راجح) مفعول بہ جانور کو قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ اگر اس کے متعلق حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کوئی حدیث معلوم ہوتی تو وہ اس حدیث کی مخالفت نہ کرتے ، البتہ اس کا گوشت کھانا کراہت سے خالی نہیں ۔ والله اعلم
[معالم السنن: 288/3 ، تحفة الأحوذي: 846/4]