جادو گر کی تصدیق کرنے والے کا انجام
جادو گر کی تصدیق کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔
[احمد: 399/4 ، ابن حبان: 1381 – الموارد ، ابو يعلى: 7248 ، حاكم: 146/4]
کاہن کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں مثلاً:
① جو غیب کی خبریں بتائے جن میں بعض تو درست ہوں لیکن اکثر غلط ہوں ۔
② جو ستاروں کو دیکھ کر حالات معلوم کرے ۔
③ ایسا آدمی جس کے پاس جن ہو اور وہ اسے آسمان سے چرائی ہوئی باتیں بتائے ۔
اسی طرح عرّاف کی تعریف میں بھی اختلاف ہے ۔
① جو گمشدہ یا چوری شدہ چیز کی جگہ بتائے ۔
② کاہن کو ہی عراف اور منجم کہتے ہیں ۔
[نيل الأوطار: 642/4 ، معالم السنن: 229/4 ، النهاية: 215/4]
➊ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أتى كاهنا أو عرافا فصدقه بما يقول فقد كفر بما أنزل على محمد
”جو کاہن یا عراف کے پاس آیا اور اس نے ان کی بات کی تصدیق کی تو اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ تعلیمات کا کفر کر دیا ۔“
[احمد: 429/2]
➋ ایک روایت میں یہ لفظ ہیں:
من أتى عرافا فسأله عن شيئ لم تقبل له صلاة أربعين ليلة
”جس نے عراف کے پاس آ کر کچھ پوچھا ، چالیس دن اس کی نماز قبول نہیں کی جائے گی ۔“
[مسلم: 2230 ، كتاب السلام: باب تحريم الكهانة وإتيان الكهان]
جب کاہن کی تصدیق کرنے والا کفر کا مرتکب ٹھہرتا ہے تو جو اس کا اعتقاد رکھتے ہوئے (اسے پھیلائے اور بے شمار لوگوں کے کفر کا موجب ہو ) وہ تو بالأ ولٰی کافر ہے ۔
[الروضة الندية: 629/2]
اور ایک حدیث میں تو یہ وضاحت بھی موجود ہے کہ علم نجوم بھی جادو کی ہی ایک قسم ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من اقتبس علما من النجوم اقتبس شعبة من السحر زاد ما زاد
”جس نے علم نجوم سیکھا اس نے جادو کا ایک حصہ سیکھا ، جتنا زیادہ علم نجوم سیکھے گا اتنا زیادہ جادو سیکھتا جائے گا ۔“
[حسن: صحيح ابو داود: 3305 ، كتاب الطب: باب فى النجوم ، ابو داود: 3905 ، احمد: 227/1 ، ابن ماجة: 3726 ، عبد بن حميد: 714]
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے لاعلمی کے باعث کہانت کی وجہ سے حاصل شدہ کوئی چیز کھا لی لیکن جب علم ہوا تو گلے میں انگلی ڈال کر قے کر دی ۔
[بخاري: 3842 ، كتاب مناقب الأنصار: باب أيام الجاهلية]
تحریر: عمران ایوب لاہوری