جادوگر اور کاہن کا حکم

تحریر: عمران ایوب لاہوری

جادوگر اور کاہن
جادو کفر کی ایک قسم ہے اور اس کا فاعل مرتد ہے اور اس سزا کا مستحق ہے جس کا مرتد ہے ۔
[الروضة الندية: 627/2]
وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ [البقرة: 102]
”اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے نہیں کفر کیا بلکہ شیطانوں نے کفر کیا وہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے ۔“
➋ حضرت جندب رضی اللہ عنہ سے مروی موقوف حدیث میں ہے کہ :
حد الساحر ضربة بالسيف
”جادوگر کی سزا یہ ہے کہ اسے تلوار کے ساتھ مارا جائے ۔“
[ضعيف: الضعيفة: 1446 ، المشكاة: 3551 – التحقيق الثاني ، ترمذى: 1460 ، كتاب الحدود: باب ما جاء فى حد الساحر ، حاكم: 360/4 ، دار قطني: 266/4 ، بيهقى: 136/8]
➌ حضرت بجالہ بن عبدہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی وفات سے تقریبا ایک ماہ پہلے لکھ کر بھیجا تھا:
أن اقتلوا كل ساحر و ساحرة
”کہ ہر جادو گر مرد اور عورت کو قتل کر دو ۔“
(حضرت بجالہ فرماتے ہیں کہ :
فقتلنا فى يوم ثلاثة سوا حر
”ہم نے ایک دن میں تین جادو گر قتل کر دیے ۔“
[صحيح: صحيح ابو داود: 2624 ، كتاب الخراج والإمارة والفيئ: باب فى أخذ الجزية من المجوس ، ابو داود: 3043 ، احمد: 190/1 ، عبد الرزاق: 18745 ، بيهقي: 136/8]
➍ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی جادو کرنے کی وجہ سے اپنی ایک لونڈی کو قتل کروا دیا تھا ۔
[موطا: 871/2 ، عبد الرزاق: 18747 ، بيهقى: 136/8]
(نوویؒ ) جادو کا عمل حرام ہے اور اس پر اجماع ہے کہ یہ کبیرہ گناہ ہے ۔
[شرح مسلم: 432/7]
(احناف ) جادو کرنا کفر ہے ۔
[تبيين الحقائق: 393/3 ، الأم للشافعي: 256/1]
جادو گر کی حد سے متعلق اہل علم نے اختلاف کیا ہے:
(احمدؒ ، مالکؒ ) جادو گر کو قتل کیا جائے گا ۔
(شافعیؒ ) جادو گر کو اس وقت قتل کیا جائے گا جب وہ کوئی جادو کا ایسا عمل کرے جو کفر تک پہنچتا ہو ورنہ اسے قتل نہیں کیا جائے گا ۔
(نوویؒ ) ہمارے نزدیک جادو گر کو قتل نہیں کیا جائے گا ہاں اگر وہ توبہ کرتا ہے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی ۔
(ابو حنیفہؒ ) جادو گر کو قتل کیا جائے گا ۔
(ابن حزمؒ ) جادو گر کو قتل کرنے کے متعلق کوئی صریح نص نہیں ہے ۔
[نيل الأوطار: 638/4 ، شرح مسلم للنووي: 432/7 ، المحلى بالآثار: 419/12 ، تحفة الأحوذى: 853/4 – 854]
(راجح ) امام شافعیؒ کا قول راجح ہے ۔
[الروضة الندية: 628/2 ، السيل الجرار: 374/4 ، نيل الأوطار: 641/4]
جس حدیث میں ہے کہ لبید بن اعصم جادو گر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جادو کر دیا تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل نہیں کروایا تھا ۔
[بخاري: 3175 ، 3268 ، مسلم: 2189 ، ابن حبان: 6583 ، ابن ابي شيبة: 30/8]
وہ درج ذیل وجوہ کی بنا پر گذشتہ دلائل کے مخالف نہیں ہے:
① ممکن ہے یہ واقعہ جادو گر کی حد (قتل) مقرر ہونے سے پہلے کا ہو ۔
② یہودی اس وقت قوت میں تھے اس لیے فتنے کے ڈر سے اسے قتل نہیں کروایا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ان کی قوت کو خاک میں ملا دیا تو پھر خلفائے راشدین نے جادو گروں کو قتل کیا ۔
[الروضة الندية: 628/2 ، السيل الجرار: 374/4 ، نيل الأوطار: 641/4]

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے