مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

جائز کام کے لیے کمیشن دینا اور آمدنی کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، جلد 2، صفحہ 223

سوال

جائز واجبات کے لئے کمیشن دینا کیسا ہے؟

میں ایک انجینئر ہوں اور میرا ذاتی کاروبار ہے۔ مختلف سرکاری یا غیر سرکاری محکموں سے اپنے جائز واجبات وصول کرنے کے لیے اکثر ہمیں کمیشن دینا پڑتا ہے۔ بغیر کمیشن دیے ہمارا کام مکمل ہونا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ ہم صرف اپنا جائز منافع اور محنت کی اُجرت لیتے ہیں، لیکن جب ایک بالکل جائز کام کے لیے بھی کمیشن دینا پڑے، تو کیا ایسی صورت میں ہماری یہ آمدنی قرآن و حدیث کی روشنی میں حلال تصور ہوگی؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر کمیشن دینے کی اس صورت میں:

✿ کسی دوسرے کے حق کو تلف نہ کیا جا رہا ہو،
✿ کیا جانے والا کام جائز ہو،
✿ شریعت کی کسی بھی قسم کی مخالفت نہ ہو،

تو اس طرح کمیشن دینا جائز ہے۔ لہٰذا، ایسی صورتحال میں آپ کی یہ آمدنی شرعی طور پر حلال ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔