سوال
آپ نے مثالوں کا وعدہ کیا تھا، براہِ مہربانی وہ وعدہ پورا کریں۔
ابن ابی زیاد ثُمَّ لَمْ یَعُدْ کے الفاظ نقل کرتے ہیں، لیکن ھشیم، خالد اور تیسرے راوی (جن کا نام فی الحال یاد نہیں) یہ الفاظ بیان نہیں کرتے۔ براہِ کرم ان تینوں کا حوالہ (کتاب، صفحہ، باب وغیرہ) فراہم کریں تاکہ دیکھا جا سکے کہ وہ ابن ابی زیاد کے برعکس بیان کرتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ سفیان ثوری کے علاوہ بھی ایک جماعت ابن مسعود سے روایت کرتی ہے، لیکن وہ ثُمَّ لَمْ یَعُدْ کے الفاظ بیان نہیں کرتے۔ براہِ مہربانی اس جماعت کے ہر فرد کا نام اور ان کی مروی روایت کا حوالہ فراہم کریں کہ وہ کس کتاب میں موجود ہے۔ ابن ادریس کی روایت تو مجھے معلوم ہے، اس کے علاوہ دیگر بھی بتائیں۔
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
(۱) پہلی اور دوسری مثال
◄ ایک مثال پہلے ذکر کی جا چکی ہے، دوسری مثال یہ ہے:
سلسلۃ الأحادیث الصحیحہ ۲۴۳/۵ میں لکھا ہے:
ثم إن الحدیث نقل الشوکانی عن الترمذی أنہ قال بعد إخراجہ : ہذا حدیث حسن لیس إسنادہ بذاک ۔ ولیس فی نسختنا منہ ہذا : لیس إسنادہ بذاک ۔ واﷲ اعلم ثم رأیتہا فی نسخة بولاق من السنن (۱۵۱/۲) (۲۵۷/۱)۔ ۱ہـ
(۲) ابوداود کا بیان اور راویوں کا فرق
◄ ابوداود لکھتے ہیں:
حدثنا عبد اﷲ بن محمد الزہری نا سفیان عن یزید نحو حدیث شریک لم یقل : ثم لا یعود ۔ قال سفیان : قال لنا بالکوفۃ بعد : ثم لا یعود ۔ قال أبوداود : روی ہذا الحدیث ہشیم ، وخالد ، وابن ادریس عن یزید لم یذکروا : ثم لا یعود 1
حوالہ جات:
◈ ھشیم کی روایت: مصنف ابن ابی شیبہ ۱/۲۳۳
◈ خالد کی روایت: سنن دارقطنی ۱/۲۹۴
◈ سفیان کی روایت: ابوداود نے خود ذکر کی ہے، نیز سنن دارقطنی ۱/۲۹۳ میں بھی موجود ہے۔
◈ شعبہ کی روایت: سنن دارقطنی ۱/۲۹۳
◈ علی بن عاصم کی روایت: سنن دارقطنی ۱/۲۹۴
(۳) تحفۃ الأحوذی اور نصب الرایۃ کا حوالہ
◄ تحفۃ الأحوذی ۲۲۰/۱ میں لکھا ہے:
قال الحافظ الزیلعی فی نصب الرایۃ : قال ابن أبی حاتم فی کتاب العلل : سألت أبی عن حدیث رواہ سفیان الثوری عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الأسود عن علقمۃ عن عبد اﷲ أن النبی صلی الله علیہ وسلم قام فکبر فرفع یدیہ ثم لم یعد فقال أبی : ہذا خطأ ۔ یقال : وہم فیہ الثوری فقد رواہ جماعۃ عن عاصم ، وقالوا کلہم إن النبی صلی الله علیہ وسلم افتتح فرفع یدیہ ثم رکع فطبق وجعلہما بین رکبتیہ ولم یقل أحد ما روی الثوری ۔ انتہی ما فی نصب الرایۃ۔۱ہـ
◄ اس جماعت میں سے مجھے ابن ادریس کا نام اور ان کی روایت معلوم ہے، باقی جماعت کے نام اور روایات یاد نہیں ہیں۔
سنن ابی داود مع عون المعبود ۱/۲۷۳
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب