مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

ثقہ کا مجہول سے روایت لینا جہالت کو رفع کرتا ہے

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

اگر مجہول راوی کسی ثقہ سے روایت کرے تو کیا اس کی جہالت ختم ہوگی؟

جواب:

جس ثقہ راوی کے متعلق یہ معروف ہو کہ وہ ہمیشہ ثقہ سے ہی روایت لیتا ہے، تو اس کا روایت کرنا اس شخص کی جہالت رفع کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ قاعدہ اغلبیت پر محمول ہے۔ البتہ اگر کسی ضعیف راوی سے ثقہ روایت کر لے، تو اس کا ضعف ختم نہیں ہوگا، نہ یہ توثیق ہوگی۔
❀ امام عبد الرحمن بن ابی حاتم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
سألت أبى عن رواية الثقات عن رجل غير ثقة مما يقويه؟ قال: إذا كان معروفا بالضعف لم تقو روايته عنه وإذا كان مجهولا نفعه رواية الثقة عنه
میں نے اپنے والد گرامی (ابو حاتم رازی رحمہ اللہ) سے پوچھا کہ اگر کسی غیر ثقہ راوی سے ثقات روایت لیں، تو کیا اس سے راوی قوی ہو جائے گا؟ فرمایا: اگر وہ راوی ضعف میں معروف ہو، تو ثقہ کے اس سے روایت لینے سے وہ قوی نہیں ہوتا، البتہ اگر وہ مجہول ہے، تو ثقہ کا اس سے روایت لینا اسے فائدہ دیتا ہے۔
(الجرح والتعديل: 36/2)
❀ نیز بیان کرتے ہیں:
سألت أبا زرعة عن رواية الثقات عن رجل مما يقوي حديثه؟ قال: أى لعمري، قلت: الكلبي روى عنه النوري، قال: إنما ذلك إذا لم يتكلم فيه العلماء، وكان الكلبي يتكلم فيه
میں نے امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا ثقات کا کسی راوی سے روایت کر لینا اس کی حدیث کو قوی بناتا ہے؟ فرمایا: جی ہاں۔ میں نے عرض کیا: محمد بن سائب کلبی سے سفیان ثوری رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں۔ فرمایا: یہ قاعدہ اس وقت ہے، جب راوی پر اہل علم نے جرح نہ کی ہو، جبکہ کلبی پر جرح ہے۔
(الجرح والتعديل: 36/2)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔