مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

اگر کوئی ثقہ راوی کسی روایت میں منفرد ہو، تو روایت کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

اگر کوئی ثقہ راوی کسی روایت میں منفرد ہو، تو اس کی روایت کا کیا حکم ہے؟

جواب:

اگر کسی روایت یا الفاظ کو بیان کرنے میں ثقہ راوی منفرد ہو، تو محدثین کے اصول کے مطابق وہ روایت صحیح ہوتی ہے، بشرطیکہ علل حدیث کے کسی ماہر امام نے اس پر نقد نہ کیا ہو، کیونکہ ثقہ کی زیادت یا تفرّد قبول ہے۔
❀ امام حاکم رحمہ اللہ (405ھ) فرماتے ہیں:
إذا تفرد الثقة بحديث فهو على أصلهم صحيح
اگر کسی حدیث کو بیان کرنے میں ثقہ راوی منفرد ہے، تو اصول محدثین کے مطابق وہ حدیث صحیح ہوتی ہے۔
(المستدرك: 129/3)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔