مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

ثعلبہ بن حاطب کا واقعہ اور تفسیر سورہ توبہ: حقیقت یا ضعیف روایت؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: احکام و مسائل، تفسیر کا بیان، جلد 1، صفحہ 482

سوال

﴿وَمِنۡهُم مَّنۡ عَٰهَدَ ٱللَّهَ لَئِنۡ ءَاتَىٰنَا مِن فَضۡلِهِۦ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ﴾
— التوبة: 75

ترجمہ:
"اور بعض ان میں ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہمیں اپنے فضل سے کچھ دے گا تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور نیک لوگوں میں شامل ہو جائیں گے۔”

اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر میں ثعلبہ بن حاطب کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے مالدار ہونے کی دعا کروائی تھی۔
سوال یہ ہے: کیا یہ واقعہ صحیح ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ثعلبہ بن حاطب رضی اللہ عنہ سے منسوب یہ واقعہ کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دولت مندی کی درخواست کی تھی اور وعدہ کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ انہیں مال دے گا تو وہ صدقہ کریں گے اور نیک عمل اختیار کریں گے—
یہ واقعہ اگرچہ بہت مشہور ہے، لیکن اس کی سند مضبوط نہیں ہے۔

یعنی:

یہ روایت شہرت رکھنے کے باوجود قابلِ اعتماد ثبوت کی حد تک نہیں پہنچتی۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔