تین بیویوں کے ہوتے ہوئے سفر کا مسئلہ

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

میری تین بیویاں ہیں، میں تین ماہ کے لیے سفر پر جا رہا ہوں، ایک بیوی کا ساتھ ہونا ضروری ہے، کس کو لے کر جاؤں، جبکہ تمام بیویاں جانے کا کہتی ہیں؟

جواب:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر پر تشریف لے جاتے ، تو اپنی ازواج کے مابین قرعہ ڈالتے ، جس کے نام قرعہ نکل آتا، اسے اپنا ہم سفر بنا لیتے ۔ اسی سنت پر عمل کرتے ہوئے آپ اپنی تینوں ازواج کے مابین قرعہ ڈالیں اور جس کا نام آئے ، اسے اپنے ساتھ سفر پر لے جائیں۔
❀سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أراد سفرا أقرع بين نسائه فأيتهن خرج سهمها خرج بها رسول الله صلى الله عليه وسلم
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جانے کا ارادہ کرتے ، تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ، جس کے نام قرعہ نکل آتا ، اسے ساتھ لے جاتے ۔“
(صحيح البخاري : 2661، صحیح مسلم : 2770)