تیمم کے احکام: قرآن و سنت کی روشنی میں مکمل رہنمائی

فونٹ سائز:
قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل جلد 01: صفحہ 62
مضمون کے اہم نکات

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
تیمم کے احکام

الجواب

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اللہ تعالیٰ نے نماز کی درست ادائیگی کے لیے چھوٹی بڑی تمام نجاستوں سےپاک پانی کے ذریعے طہارت حاصل کرنے کا حکم دیا ہے، اور یہ حکم حتی الامکان واجب ہے۔ تاہم بعض اوقات ایسے حالات پیش آ جاتے ہیں کہ پانی حقیقتاً دستیاب نہیں ہوتا، یا پانی موجود تو ہوتا ہے لیکن کسی شرعی عذر کی بنا پر اس کے استعمال کی قدرت نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ نے تیمم کو وضو کا قائم مقام قرار دیا ہے، تاکہ بندوں کے لیے آسانی رہے اور وہ مشقت و دشواری سے محفوظ رہیں۔

قرآن مجید سے تیمم کی مشروعیت

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا قُمتُم إِلَى الصَّلو‌ٰةِ فَاغسِلوا وُجوهَكُم وَأَيدِيَكُم إِلَى المَرافِقِ وَامسَحوا بِرُءوسِكُم وَأَرجُلَكُم إِلَى الكَعبَينِ وَإِن كُنتُم جُنُبًا فَاطَّهَّروا وَإِن كُنتُم مَرضىٰ أَو عَلىٰ سَفَرٍ أَو جاءَ أَحَدٌ مِنكُم مِنَ الغائِطِ أَو لـٰمَستُمُ النِّساءَ فَلَم تَجِدوا ماءً فَتَيَمَّموا صَعيدًا طَيِّبًا فَامسَحوا بِوُجوهِكُم وَأَيديكُم مِنهُ ما يُريدُ اللَّهُ لِيَجعَلَ عَلَيكُم مِن حَرَجٍ وَلـٰكِن يُريدُ لِيُطَهِّرَكُم وَلِيُتِمَّ نِعمَتَهُ عَلَيكُم لَعَلَّكُم تَشكُرونَ ﴿٦﴾ [المائدۃ: 5/6]

ترجمہ:
اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو، اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو، اور اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو غسل کر لو۔ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو، یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آیا ہو، یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کر لو، پس اسے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مل لو۔ اللہ تم پر تنگی ڈالنا نہیں چاہتا بلکہ وہ تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے اور تم پر اپنی نعمت مکمل کرنا چاہتا ہے تاکہ تم شکر گزار بنو۔

① تیمم کی تعریف

◈ لغوی معنی:قصد اور ارادہ
◈ اصطلاحی معنی:پاک مٹی کے ذریعے مخصوص طریقے کے ساتھ چہرے اور ہاتھوں پر مسح کرنا

② تیمم کی شرعی حیثیت

✔ تیمم قرآن مجید، سنتِ رسول ﷺ اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔
✔ تیمم امتِ محمدیہ کی ایک خصوصیت اور اللہ تعالیٰ کی خاص عطا ہے، جو کسی سابقہ امت کو نہیں دی گئی۔
✔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسانی اور رحمت ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

"أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِي الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ فَلْيُصَلِّ” [صحیح البخاری 335، صحیح مسلم 521]
ترجمہ:

مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں:
مجھے ایک ماہ کی مسافت کے برابر رعب کے ذریعے مدد دی گئی،
اور میرے لیے پوری زمین مسجد اور پاکیزگی کا ذریعہ بنا دی گئی،
پس میری امت میں سے جس شخص کو جہاں بھی نماز کا وقت آ جائے، وہ وہیں نماز ادا کر لے۔
مسند احمد کے الفاظ ہیں:

"فعنده مسجده وعنده طَهُوره” [مسند احمد 5/248]
ترجمہ:
پس وہیں اس کی مسجد ہے اور وہیں اس کی طہارت کا ذریعہ ہے۔
اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا:

"وَجُعِلَتْ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُورًا” [صحیح مسلم 522]
ترجمہ:
اور اس (زمین) کی مٹی ہمارے لیے پاکیزگی کا ذریعہ بنا دی گئی ہے۔
شرعی عذر کی حالت میں تیمم وضو کا بدل ہے، لہٰذا تیمم کے ساتھ وہ تمام اعمال جائز ہیں جو وضو کے ساتھ جائز ہوتے ہیں، مثلاً نماز، طواف اور تلاوتِ قرآن۔

③ وہ صورتیں جن میں تیمم مشروع ہے

❀ پانی نہ ملنے کی صورت میں [المائدۃ: 5/6]

❀ پانی موجود ہو مگر صرف پینے یا پکانے کے لیے ہو اور وضو کرنے کی صورت میں جان یا جانور کے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہو۔

❀ پانی استعمال کرنے سے بیماری لاحق ہونے یا بڑھنے کا خوف ہو[المائدۃ: 5/6]

❀ بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے پانی استعمال کرنے پر قدرت نہ ہو اور وضو کروانے والا بھی کوئی نہ ہو، نیز نماز کا وقت نکلنے کا اندیشہ ہو۔

❀ پانی شدید ٹھنڈا ہو اور گرم کرنے کا کوئی ذریعہ نہ ہو اور غالب گمان ہو کہ استعمال سے نقصان ہوگا۔ [النساء: 4/29]

④ تھوڑا پانی میسر ہو

اگر اتنا پانی ہو کہ تمام اعضائے وضو نہ دھل سکیں تو جتنا ممکن ہو پانی سے دھویا جائے اور باقی پر تیمم کیا جائے۔ [التغابن: 64/16]

⑤ زخم کی صورت میں حکم

◈ اگر زخم کو دھونے یا اس پر مسح کرنے سے نقصان کا اندیشہ ہو تو اس حصے پر تیمم کیا جائے اور باقی اعضا دھو لیے جائیں۔ [النساء: 4/29]

◈ اگر زخم پر مسح کرنے سے نقصان نہ ہو تو صرف مسح کافی ہے، تیمم کی ضرورت نہیں۔

⑥ تیمم کے لیے زمین کی قسم

صاف مٹی، ریتلی زمین یا شور زدہ زمین — سب تیمم کے لیے درست ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے صعید طیب فرمایا ہے جو عام ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سفر میں کسی خاص مٹی کا اہتمام نہیں کرتے تھے بلکہ جہاں نماز کا وقت آتا، وہیں زمین سے تیمم کر لیتے تھے۔

تیمم کا مسنون طریقہ

✔ نیت کرے اور بسم اللہ کہے
✔ انگلیاں کھول کر دونوں ہاتھ ایک مرتبہ مٹی پر مارے
✔ ہتھیلیوں سے پورے چہرے پر مسح کرے
✔ پھر ہاتھوں کی پشت پر مسح کرے

اگر کوئی شخص دو مرتبہ ہاتھ مار کر تیمم کرے، ایک سے چہرہ اور دوسری سے ہاتھ، تو یہ بھی جائز ہے۔ [سنن ابی داود 335، 342]

تاہم ایک ضرب والا طریقہ رسول اللہ ﷺ سے زیادہ صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے اور یہی افضل ہے۔ [صحیح البخاری 338، 339]

⑦ تیمم کن چیزوں سے ٹوٹتا ہے

◈ جن امور سے وضو ٹوٹتا ہے، ان سے تیمم بھی ٹوٹ جاتا ہے
◈ حدثِ اکبر (جنابت، حیض، نفاس) سے بھی تیمم باقی نہیں رہتا
◈ پانی مل جانے یا شرعی عذر ختم ہو جانے سے تیمم ختم ہو جاتا ہے

⑧ پانی اور مٹی دونوں نہ ہوں

اگر نہ پانی میسر ہو نہ مٹی، یا بیماری کی وجہ سے وضو یا تیمم دونوں پر قدرت نہ ہو، تو ایسی صورت میں بغیر وضو اور تیمم کے نماز ادا کی جائے گی۔ بعد میں نماز دہرانا لازم نہیں، کیونکہ اس نے حسبِ استطاعت حکم کی تعمیل کی۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا استَطَعتُم﴾ [التغابن: 64/16]
ترجمہ:
پس اللہ سے ڈرو جتنی تم میں طاقت ہو۔
اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:

"وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ” [صحیح البخاری 7288، صحیح مسلم 1337، مسند احمد 2/258]
ترجمہ:
اور جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو اس میں سے جتنا تم سے ہو سکے، اتنا ضرور کر لیا کرو۔

نصیحت

میرے بھائی! یہ تیمم کے چند اہم مسائل تھے۔ اگر کسی مسئلے میں مزید اشکال ہو تو اہلِ علم سے رجوع کریں۔ اپنے دینی امور خصوصاً نماز کے معاملے میں سستی نہ کریں، کیونکہ نماز دین کا ستون ہے اور نہایت اہم فریضہ ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قول و عمل میں حق پر قائم رکھے، اور ہمارے تمام اعمال کو خالص اپنی رضا کے لیے قبول فرمائے۔ بے شک وہی سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔