تیمم کا طریقہ کیا ہے؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

تیمم کا طریقہ کیا ہے؟

جواب:

غسل اور وضو دونوں کے لیے تیمم کا ایک ہی طریقہ ہے۔ نیت کریں ”بسم اللہ “پڑھ کر پاک مٹی پر دونوں ہاتھ ماریں، پھر ہاتھوں کو جھاڑ کر یا پھونک کر چہرے اور ہتھیلیوں کی پشت پر ملیں۔ ان دو اعضا کے علاوہ دیگر اعضا پر ملنا مشروع نہیں۔
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿فَلَمْ تَجِدُوْا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ﴾
(النساء: 43، المائدة: 6)
”پانی میسر نہ ہو تو پاک مٹی سے تیمم کر لیں، چہرے اور ہاتھوں کا مسح کرلیں۔“
❀ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے مجھے کسی کام کی غرض سے بھیجا۔ میں جنبی ہو گیا، پانی نہ ملا تو میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہونے لگا، جیسے کوئی جانور مٹی میں لوٹ لگاتا ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
إنما كان يكفيك أن تضرب بيديك الأرض ، ثم تنفخ ، ثم تمسح بهما وجهك وكفيك.
”آپ کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارتے، انہیں پھونک کر چہرے اور ہتھیلیوں پر پھیر لیتے۔“
(صحيح البخاري: 347 ، صحيح مسلم: 368 ، واللفظ له)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
أجمعوا على أن التيمم مختص بالوجه واليدين سواء تيمم عن الحدث الأصغر أو الأكبر.
”اہل علم کا اجماع ہے کہ تیمم چہرے اور ہاتھوں کے ساتھ خاص ہے، خواہ تیمم وضو واجب ہونے کی صورت میں ہو یا غسل واجب ہونے کی صورت میں ہو۔“
(المجموع: 207/2)
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774 ھ) فرماتے ہیں:
يكفي مسح الوجه واليدين فقط بالإجماع.
”تیمم میں صرف چہرے اور ہاتھوں کا مسح کافی ہے، اس پر اجماع ہے۔“
(تفسير ابن كثير: 319/2)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️ 💾