مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

تیسری نسل میں دودھ شریک رشتہ داروں کا نکاح کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ صفحہ نمبر 439

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اور عمر ماموں، بھانجا ہیں۔ دونوں کی اولاد نے ایک عورت کا دودھ پیا یعنی وہ دودھ شریک بھائی ہوئے۔ اب دو نسلیں چھوڑ کر تیسری نسل میں وہ آپس میں رشتہ داری وغیرہ کرسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
یہ بات معلوم ہونی چاہئے کہ یہ دونوں تیسری نسل میں آپس میں نکاح وغیرہ کرسکتے ہیں۔ کیونکہ درمیان میں ایک نسل کا فرق آگیا ہے۔ اس لئے ان کے آپس میں نکاح وغیرہ کے ناجائز ہونے کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔