مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

تیسری طلاق کے بعد نان و نفقہ کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

جس عورت کو تیسری طلاق ہو جائے اور وہ ابھی عدت میں ہو، تو کیا دوران عدت اس کا نان و نفقہ شوہر کے ذمہ واجب ہے یا نہیں؟

جواب:

شوہر پر اس وقت نان و نفقہ واجب ہے، جب عورت طلاق رجعی کی عدت میں ہے۔ اگر تیسری طلاق ہو چکی ہے، تو اس کے بعد چونکہ رجوع کا حق ختم ہو جاتا ہے، لہذا طلاق بائن کی عدت میں اس پر نان و نفقہ واجب نہیں۔
❀ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنما النفقة والسكنى للمرأة إذا كان لزوجها عليها الرجعة.
”رجعی طلاق میں ہی عورت کے لیے نفقہ و سکونت ہے۔“
(سنن النسائي: 3403، وسنده صحيح)
اس پر مسلمانوں کا اجماع و اتفاق ہے۔
❀ حافظ بغوی رحمہ اللہ (516ھ) لکھتے ہیں:
لا خلاف بين أهل العلم فى المعتدة الرجعية أنها تستحق النفقة، والسكنى على زوجها.
”اہل علم کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ طلاق رجعی کی عدت گزارنے والی عورت کا نفقہ و سکونت خاوند کے ذمہ ہے۔“
(شرح السنة: 302/9)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔