یہ سزا اس کے اقرار یا دو عادل گواہوں کی شہادت سے ثابت ہو جائے گی اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو اس کی گواہی کبھی بھی قبول نہیں کی جائے گی
کیونکہ آدمی کا ایک مرتبہ ہی اقرار کر لینا حد لازم کر دیتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے انیسں! اس کی بیوی کے پاس صبح جاؤ:
فإن اعترفت فارجمها
”اور اگر وہ اعتراف (زنا ) کر لے تو اسے رجم کر دینا ۔“
[احمد: 115/4 ، بخاري: 6842 ، 6843 ، مسلم: 1697، 1698 ، ابو داود: 4445 ، ترمذي: 1433 ، ابن ماجة: 2549 ، حميدي: 811]
ارشاد باری تعالٰی ہے کہ :
وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ [الطلاق: 2]
”اور اپنے (ساتھیوں ) میں سے دو عادل گواہ مقرر کر لو ۔“
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :
وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ - إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ ………. [النور: 4 – 5]
”اور کبھی بھی ان (تہمت لگانے والوں ) کی گواہی قبول نہ کرو اور یہی لوگ فاسق ہیں مگر وہ لوگ جنہوں نے اس کے بعد توبہ کر لی (ان کی گواہی قبول کر لو ) ۔“
❀ توبہ کے بعد قاذف کی گواہی قبول ہو گی یا نہیں اس کے متعلق اختلاف باب الشهادات میں گزر چکا ہے ۔
اگر وہ تہمت لگانے کے بعد چار گواہ پیش کر دے تو اس سے حد ساقط ہو جائے گی اور اسی طرح جس پر تہمت لگائی گئی ہے اگر وہ زنا کا اقرار کر لے تو بھی اس سے حد ساقط ہو جائے گی
اس وقت وہ قاذف نہیں ہے کیونکہ چار گواہوں کی موجودگی کی وجہ سے زنا ثابت ہو چکا ہے پھر زانی پر حد لگائی جائے گی ۔
یہی اللہ تعالیٰ کے فرمان کا مفہوم ہے:
ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ [النور: 4]
”یعنی تہمت لگانے والے اگر چار گواہ نہیں لاتے تو انہیں کوڑے لگاؤ ۔“
اور یقیناً اگر وہ گواہ لے آئیں تو پھر انہیں کوڑے نہیں لگائے جائیں گے ۔
پھر اعتراف کرنے والے پر ہی حد لگائی جائے گی قاذف پر نہیں جیسا کہ یہ پیچھے ثابت کیا جا چکا ہے ۔
تحریر: عمران ایوب لاہوری