تکفیر کے اصول: واضح دلیل اور شرح صدر کی شرط

تحریر: عمران ایوب لاہوری

کسی کو کافر قرار دینے سے پہلے واضح دلیل ناگزیر ہے
امام شوکانیؒ رقمطراز ہیں کہ ”کسی کو کافر قرار دینے سے پہلے ایسی دلیل ضرور ہونی چاہیے جو چڑھتے سورج سے بھی زیادہ واضح ہو ۔
[السيل الجرار: 587/4]
➊ حدیث نبوی ہے کہ :
من قال لأخيه يا كافر فقد باء به أحدهما
”جو شخص اپنے بھائی کو کہے ، اے کافر! تو ان میں سے ایک اس کے ساتھ لوٹے گا (یعنی سامنے والا کافر نہیں تو کہنے والا کافر ہو جائے گا ) ۔“
[بخارى: 6103 ، كتاب الأدب: باب من أكفر أخاه بغير تاويل فهو كما قال]
➋ ایک اور روایت میں یہ لفظ ہیں:
ومن رمى مؤمنا بكفر فهو كقتله
”جو شخص کسی مومن کو کفر کی تہمت لگائے وہ اسے قتل کرنے کی مانند ہے ۔“
[بخارى: 6105 ، كتاب الأدب: باب من كفر أخاه بغير تاويل فهو كما قال]
کافر ہونے کے لیے کفر پر شرح صدر ضروری ہے
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :
وَلَٰكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللَّهِ [النحل: 106]
”لیکن جو کھلے دل سے کفر کریں تو ان پر اللہ کا غضب ہے ۔“

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے