سوال:
تکبیر اولیٰ کے علاوہ رفع الیدین کا کیا ثبوت ہے؟
جواب:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت اور دو رکعتوں سے اٹھ کر رفع الیدین کرتے تھے، یہ آپ کی مبارک سنت اور نماز کا حسن ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام اور ائمہ محدثین اس پر عمل کرتے رہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں رفع الیدین ترک نہیں کیا، بلکہ مسلسل عمل کرتے رہے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يرفع يديه حذو منكبيه إذا افتتح الصلاة، وإذا كبر للركوع، وإذا رفع رأسه من الركوع، رفعهما كذلك أيضا وكان لا يفعل ذلك فى السجود
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت کندھوں تک رفع الیدین کرتے، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت اسی طرح رفع الیدین کرتے تھے، سجدوں کے درمیان رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔“
(صحيح البخاري: 735، 736، 738، صحيح مسلم: 390)
❀ مزکور حدیث کے بارے میں ہے :
”امام علی بن المدینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:میرے نزدیک یہ حدیث انسانوں پر حجت ہے، جو بھی اسے سنے، اس پر لازم ہے کہ اس پر عمل کرے، کیونکہ اس کی سند میں کوئی خرابی نہیں۔“ مزید فرماتے ہیں: ”میں بچپن سے اس پر عمل کرتا آرہا ہوں۔“ امام ابو سعید عثمان بن سعید دارمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ہم بھی اس پر عمل کرتے ہیں۔“ امام ابوالحسن احمد بن محمد بن عبدوس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ہم پر اس پر عمل کرتے ہیں۔“ امام ابو عبداللہ حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ہم بھی اس پر عمل کرتے ہیں۔“ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میں بھی اس پر عمل کرتا ہوں۔“
(الخلافيات للبيهقي: 331/2، وسنده صحيح)
❀ ابو قلابہ تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
إنه رأى مالك بن الحويرث إذا صلى كبر ورفع يديه، وإذا أراد أن يركع رفع يديه، وإذا رفع رأسه من الركوع رفع يديه، وحدث أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صنع هكذا
”انہوں نے سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے دیکھا، آپ اللہ اکبر کہتے اور رفع الیدین کرتے، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے، تو رفع الیدین کرتے اور بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔“
(صحيح البخاري: 737، صحیح مسلم: 391)
صحابی رسول سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے حکم کے مطابق رفع الیدین کرتے تھے اور بیان کر رہے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بھی یہی تھا۔
❀ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے نماز شروع کرتے وقت رفع الیدین کیا اور اللہ اکبر کہا، پھر کپڑا لپیٹا، دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا، رکوع کا ارادہ کیا، تو دونوں ہاتھ کپڑے سے باہر نکالے، پھر رفع الیدین کیا اور اللہ اکبر کہا، جب سمع الله لمن حمده کہا، تو رفع الیدین کیا، سجدہ دونوں ہتھیلیوں کے درمیان کیا۔
(صحیح مسلم: 401)
❀ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هي صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فعله من فعله وتركه من تركه
”یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے، جس نے پڑھی، سو پڑھی اور جس نے چھوڑ دی، سو چھوڑ دی۔“
(المزكيات لأبي إسحاق، ص 65، وسنده صحيح)
واضح رہے کہ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ 9 ہجری میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔
(عمدة القاري للعيني: 274/5)
❀ ایک وقت کے بعد موسم سرما میں بھی آئے اور رفع الیدین کا مشاہدہ کیا۔
(سنن أبي داود: 728، وسنده حسن)
تو اس سے یہ احتمال بھی ختم ہو جاتا ہے کہ آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر عمر میں رفع الیدین ترک کر دیا ہوگا۔
❀ سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے دس صحابہ کرام کی موجودگی میں نماز پڑھی، نماز شروع کرتے وقت، رکوع جاتے، رکوع سے سر اٹھاتے اور دو رکعتوں سے اٹھتے وقت رفع الیدین کیا، تو دس کے دس صحابہ کرام نے بیک زبان کہا:
صدقت، هكذا كان يصلي النبى صلى الله عليه وسلم
”سچ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔“
(مسند الإمام أحمد: 424/5، سنن أبى داود: 730، سنن الترمذي: 304، وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن صحیح“ کہا ہے، جبکہ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ (علل الحديث: 390/2)، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (587)، امام ابن الجارود رحمہ اللہ (192)، امام ابن حبان رحمہ اللہ (1865) اور حافظ خطابی رحمہ اللہ (معالم السنن: 194/1) نے اس حدیث کو ”صحیح“ قرار دیا ہے۔
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ نے بھی اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
(خلاصة الأحكام: 353/1)
❀ علامہ عینی حنفی نے اس حدیث کی سند کو ”صحیح “کہا ہے۔
(نخب الأفكار: 150/4)
اس حدیث کے متعلق :
❀ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) لکھتے ہیں:
”یہ حدیث صحیح ہے، اسے امت نے صحت و عمل کے لحاظ سے قبول کیا ہے، اس میں کوئی علت نہیں، ہاں! ایک قوم نے ایسی علت کے ساتھ معلول کہا ہے، جس سے اللہ نے ائمہ حدیث کو بری کر دیا ہے، ہم ان کی بیان کردہ علتیں ذکر کریں گے، پھر اللہ کی توفیق و مدد سے ان کا فساد اور بطلان واضح کریں گے۔“
(تهذيب السنن: 416/2)
❀ امام محمد بن یحییٰ ذہلی ابو عبداللہ نیسابوری رحمہ اللہ (258ھ) فرماتے ہیں:
من سمع هذا الحديث، ثم لم يرفع يديه يعني إذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع فصلاته ناقصة
”جو شخص یہ حدیث سننے کے بعد، رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین نہ کرے، اس کی نماز ناقص ہے۔“
(صحيح ابن خزيمة: 298/1، وسنده صحيح)
اس کے علاوہ بھی کئی مرفوع اور موقوف روایات ہیں، جو رکوع جاتے، رکوع سے سر اٹھاتے اور دو رکعتوں سے اٹھتے وقت رفع الیدین کی دلیل ہیں۔