توحید کی صحیح تعریف اور قرآن میں بیان کردہ 8 توحیدی ثبوت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

توحید کا بیان

توحید کی تعریف:

اللہ تعالی کی ذات، صفات، اختیارات اور حقوق میں اللہ تعالیٰ کو ایک جاننا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ ان چاروں چیزوں میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک (یعنی) ساجھی یا حصے دار نہیں ہے، یہ توحیدہے۔

خالص توحید کا بیان:

ارشاد باری تعالی ہے:

[قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ]،[اَللّٰہُ الصَّمَدُ]،[لَمۡ یَلِدۡ وَ لَمۡ یُوۡلَدۡ]،[وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ]

[کہہ دے وہ اللہ ایک ہے]،[اللہ ہی بے نیاز ہے]،[نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا]،[اور نہ کبھی کوئی ایک اس کے برابر کا ہے]

[سورۃ اخلاص]

اللہ تعالی کی توحید کے آٹھ ثبوت:

ارشاد باری تعالی ہے:

[اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ وَ الۡفُلۡکِ الَّتِیۡ تَجۡرِیۡ فِی الۡبَحۡرِ بِمَا یَنۡفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنۡ مَّآءٍ فَاَحۡیَا بِہِ الۡاَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِہَا وَ بَثَّ فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ دَآبَّۃٍ ۪ وَّ تَصۡرِیۡفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الۡمُسَخَّرِ بَیۡنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ]

[بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں وہ چیزیں لے کر چلتی ہیں جو لوگوں کو نفع دیتی ہیں اور اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیا اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دیے اور ہوائوں کے بدلنے میں اور اس بادل میں جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر کیا ہوا ہے، ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں]۔

[سورۃ البقرۃ:164]

توحید پر مزید دلائل:

ارشاد باری تعالی ہے:

[اَفَلَا یَنۡظُرُوۡنَ اِلَی الۡاِبِلِ کَیۡفَ خُلِقَتۡ]،[وَ اِلَی السَّمَآءِ کَیۡفَ رُفِعَتۡ]،[وَ اِلَی الۡجِبَالِ کَیۡفَ نُصِبَتۡ]،[وَ اِلَی الۡاَرۡضِ کَیۡفَ سُطِحَتۡ]

[تو کیا وہ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے پیدا کیے گئے۔]،[اور آسمان کی طرف کہ وہ کیسے بلند کیا گیا]،[اور پہاڑوں کی طرف کہ وہ کیسے نصب کیے گئے]،[اور زمین کی طرف کہ وہ کیسے بچھائی گئی]

[سورة الغاشية:17 تا 20]

اللہ تعالی کے برابر کوئی نہیں کیونکہ وہ خالق ہے،باقی سب مخلوق ہیں:

[یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ]،[الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً ۪ وَّ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخۡرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزۡقًا لَّکُمۡ ۚ فَلَا تَجۡعَلُوۡا لِلّٰہِ اَنۡدَادًا وَّ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ]

[اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمھیں پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جاؤ]،[ جس نے تمھارے لیے زمین کو ایک بچھونا اور آسمان کو ایک چھت بنایا اور آسمان سے کچھ پانی اتارا، پھر اس کے ساتھ کئی طرح کے پھل تمھاری روزی کے لیے پیدا کیے، پس اللہ کے لیے کسی قسم کے شریک نہ بنائو، جب کہ تم جانتے ہو]

[سورۃ البقرۃ:22،21]

دوسروں کو اللہ کے برابر سمجھنے والا کافر:

ارشاد باری تعالی ہے:

[اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوۡرَ ۬ؕ ثُمَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِرَبِّہِمۡ یَعۡدِلُوۡنَ]

سب تعریف اللہ تعالیٰ ہی کو لائق ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرے اور اجالا بنایا، پھر بھی کافر اپنے مالک کے ساتھ دوسروں کو برابر مانتے ہیں۔ [الأنعام:1]

اصل ایمان عقیدہ توحید ہی ہے:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

[لَیۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَ لٰکِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ وَ الۡکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ]

یہی نیکی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیرو بلکہ اصل نیکی تو اس کی ہے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اور فرشتوں اور کتابوں اور نبیوں پر ایمان لائے۔ [البقرة:177]

عقیدہ توحید پر ایمان:

اللہ کے رسولﷺ اور تمام مومنوں کے لیے عقیدہ توحید پر ایمان لانا ضروری ہے:

[اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مِنۡ رَّبِّہٖ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ؕ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖۦ]

رسول ایمان لایا جو کچھ اس پر اس کے رب کی طرف سے اترا ہے۔ اور مومن بھی ایمان لائے، سب اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ [البقرة:285]

عقیدہ توحید کا انکار:

تمام مومنوں کے لیے عقیدہ توحید پر ایمان لانا ضروری ہے اور توحید کا انکاری کافر اور گمراہ ہے:

[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ الۡکِتٰبِ الَّذِیۡ نَزَّلَ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَ الۡکِتٰبِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ مِنۡ قَبۡلُ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِاللّٰہِ وَ مَلٰٓئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَ رُسُلِہٖ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیۡدًا]

اے ایمان والو! اللہ تعالی پر ایمان لاؤ اور اس کے رسولﷺ پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسولﷺ پر اتاری اور ان کتابوں پر جو پہلے اس نے اتاریں اور جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے پیغمبروں اور قیامت کے دن کا انکار کرے وہ پرلے درجے کا گمراہ ہو گیا۔ [النساء :136]

اللہ تعالی پر ایمان لانے کا مطلب ہے کہ اللہ کو اس کی ذات، صفات، اختیارات اور حقوق میں ایک مانا جائے، ورنہ اللہ تعالیٰ کو تو مشرک بھی مانتے تھے۔

عقیدہ توحید پر ایمان لانے والے ہمیشہ ہمیشہ جنت میں رہیں گے، یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے:

[اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ جَنّٰتُ النَّعِیۡمِ]،[خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقًّا ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ]

بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کیے ان کے لیے نعمت کے باغ ہیں، جہاں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ کا سچا وعدہ ہو چکا اور وہ زبردست حکمت والا ہے۔ [لقمان:9،8]

دلائل توحید:

قرآن میں اللہ تعالی نے جو دلائل توحید بیان فرمائے ہیں، ان میں سے کچھ کا ذکر یہاں کیا جاتا ہے۔ سورۃ النحل کو (سورۃ النعم) بھی کہتے ہیں، کیونکہ اس سورت میں خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کا تفصیلی ذکر فرمایا ہے۔ سورۃ النحل کی دلائل توحید والی آیات کا ترجمہ درج ذیل ہے: اللہ کا حکم آپہنچا، تم اس میں جلدی مت کرو، وہ لوگوں کے شرک سے پاک اور برتر ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کے پاس چاہتا ہے فرشتوں کو وحی دے کر بھیج دیتاہے۔ یہ کہ خبردار کر دو کہ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، پس مجھ سے ڈرتے رہو۔ اس نے آسمانوں اور زمین کو ٹھیک طور پر بنایا ہے، وہ ان کے شرک سے پاک ہے۔ اس نے آدمی کو ایک بوند سے پیدا کیا پھر وہ یکا یک کھلم کھلا جھگڑنے لگا اور تمھارے واسطے چار پایوں کو بھی اس نے بنایا۔ ان میں تمھارے جاڑے کا بھی سامان ہے، اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور تم ان میں سے کھاتے بھی ہو اور تمھارے لیے ان میں زینت بھی ہے، جب شام کو چرا کر لاتے ہو اور جب چرانے لے جاتے ہو اور وہ تمھارے بوجھ اٹھا کر ان شہروں تک لے جاتے ہیں کہ جہاں تک تم جان کو تکلیف میں ڈالنے کے سوا نہیں پہنچ سکتے تھے۔ بے شک تمھارا رب بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے اور گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کیے کہ ان پر سواری کرو اور زینت کے لیے اور وہ چیزیں پیدا کرتا ہے، جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ تک سیدھی راہ پہنچتی ہے اور بعض ان میں ٹیڑھی بھی ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو سیدھی راہ بھی دکھا دیتا۔ وہی ہے جس نے آسمان سے تمھارے لیے پانی نازل کیا، اسی میں سے پیتے ہو اور اسی سے درخت ہوتے ہیں جن میں چراتے ہو۔ وہ تمھارے واسطے اسی سے کھیتی اور زیتون اور کھجوریں اور انگور اور ہر قسم کے میوے اگاتا ہے، بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو غور کرتے ہیں۔ اور رات اور دن اور سورج اور چاند کو تمھارے کام میں لگا دیا ہے۔ اور اس کے حکم سے ستارے بھی کام میں لگے ہوئے ہیں، بے شک اس میں لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو سمجھ رکھتے ہیں اور تمھارے واسطے جو چیزیں زمین میں رنگ برنگ کی پھیلائی ہیں ان میں ان لوگوں کے لیے نشانی ہے جو سوچتے ہیں۔ اور وہ وہی ہے جس نے دریا کو کام میں لگا دیا کہ اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ اور اس سے زیور نکالو جسے تم پہنتے ہو اور تو اس میں جہازوں کو دیکھتا ہے کہ پانی کو چیرتے ہوئے چلے جاتے ہیں اور تاکہ تم اس کے فضل کو تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔ اور زمین پر پہاڑوں کے بوجھ ڈال دیے تا کہ تمھیں لے کر نہ ڈگمگائے اور تمھارے لیے نہریں اور راستے بنا دیے تاکہ تم راہ پاؤ۔ اور نشانیاں بنائیں اور ستاروں سے لوگ راہ پاتے ہیں، پھر کیا وہ جو پیدا کرے اس کے برابر ہے جو کچھ بھی پیدا نہ کرے؟ کیا تم سوچتے نہیں۔ اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننے لگو تو ان کا شمار نہیں کر سکو گے، بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے اور اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔ اور جنھیں اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کچھ بھی پیدا نہیں کرتے اور وہ خود پیدا کیے ہوئے ہیں۔ وہ تو مردے ہیں جن میں جان نہیں اور وہ نہیں جانتے کہ لوگ کب اٹھائے جائیں گے۔ تمھارا معبود اکیلا معبود ہے، پھر جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل نہیں مانتے اور وہ تکبر کرنے والے ہیں۔ ضرور اللہ جانتا ہے جو کچھ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ بے شک وہ غرور کرنے والوں کو پسندنہیں کرتا۔ [النحل:1تا33]

[مزید حوالہ جات کے لیے دیکھیے: [سورۃ النحل:75 تا 93]اور سورۃ الرحمن مکمل اور سورۃ الملک مکمل اور سورة الحديد مكمل]

اللہ کے برابر کوئی نہیں:

اللہ تعالی کے برابر، ہمسر یا شریک کسی بھی غیر اللہ کو ٹھہرانا سخت منع ہے، کیونکہ اللہ تعالی فرماتاہے:

[یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ]،[الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً ۪ وَّ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخۡرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزۡقًا لَّکُمۡ ۚ فَلَا تَجۡعَلُوۡا لِلّٰہِ اَنۡدَادًا وَّ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ]

[اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمھیں پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جاؤ]،[جس نے تمھارے لیے زمین کو ایک بچھونا اور آسمان کو ایک چھت بنایا اور آسمان سے کچھ پانی اتارا، پھر اس کے ساتھ کئی طرح کے پھل تمھاری روزی کے لیے پیدا کیے، پس اللہ کے لیے کسی قسم کے شریک نہ بنائو، جب کہ تم جانتے ہو]

[سورۃ البقرۃ:22،21]

،،انداد،، کا واحد ،،ند،، ہے۔ جس کے معنی ہمسر اور شریک کے ہیں یعنی جب تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے اور نفع و نقصان بھی اس کے قبضہ و قدرت میں ہے تو پھر دوسروں کو اس کا ہمسر کیوں سمجھتے ہو؟ شرک کے بہت سے شعبے ہیں اور رسول اللہﷺ نے اس کا سد باب کرنے کے لیے ہر ایسے قول و فعل سے منع فرمایا ہے جس میں شرک کا شائبہ تک بھی پایا جاتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہﷺ سے کہا : [ما شاء الله وما شئت] جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں۔تو اس پر آپ نے فرمایا: [أجعلتني لله ندا] کیا تو نے مجھے اللہ کا شریک ٹھہرا دیا ؟

[عمل اليوم والليلة للنسائي:988]،[تاریخ بغداد:105/8، ت 4218]،[ابن ماجه، أبواب الكفارات، باب النهى أن يقال ما شاء الله و شئت:2117]

ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ شرک بہت خفی ہے۔ [ثابت نہیں،م] ایک شخص کسی کی جان کی قسم کھاتا ہے،یا یہ کہتا ہے کہ فلاں بطخ نہ ہوتی تو گھر میں چور آجاتے، وغیرہ کلمات بھی ایک طرح سے ،،ند،، کے تحت آجاتے ہیں۔

[ابن كثير، تحت الآية:22 من السورة البقرة:55/1]

یاد رہے کہ اگر کوئی انسان کوئی بھی شرک کرتا ہے تو وہ انسان گویا غیر اللہ کو اللہ کے برابر ٹھہراتا ہے۔

[مزید حوالہ جات کے لیے:[ البقرة:165 تا 167]،[الأنعام:150،1]،[ابراهيم:30]،[الشعرآء:98،97]،[سبا:33]،[الزمر:8]،[حم السجدة:9]،[مريم:65]،[الاخلاص مکمل]

اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں:

ارشاد باری تعالی ہے:

[وَ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ لَمۡ یَتَّخِذۡ وَلَدًا وَّ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ شَرِیۡکٌ فِی الۡمُلۡکِ وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ کَبِّرۡہُ تَکۡبِیۡرًا]

اور کہہ دو سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ سلطنت میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ کمزوری کی وجہ سے اس کا کوئی مددگار ہے اور اس کی بڑائی بیان کرتے رہو۔ [بنی اسرائیل:111]

ایک مقام پر ارشاد باری تعالی ہے:

[ۣالَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ لَمۡ یَتَّخِذۡ وَلَدًا وَّ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ شَرِیۡکٌ فِی الۡمُلۡکِ وَ خَلَقَ کُلَّ شَیۡءٍ فَقَدَّرَہٗ تَقۡدِیۡرًا]

وہ ذات کہ اسی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس نے نہ کوئی اولاد بنائی اور نہ کبھی بادشاہی میں کوئی اس کا شریک رہا ہے اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا، پھر اس کا اندازہ مقرر کیا، پورا اندازہ۔ [الفرقان:2]

اللہ تعالیٰ جیسا کوئی نہیں:

اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا:[لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ] اس جیسا کوئی نہیں (نہ ذات، نہ صفات، نہ اختیارات اور نہ حقوق میں)۔[الشورى:11]

مخلوق خالق کی شریک نہیں ہو سکتی:

ارشاد ربانی ہے:

[اَیُشۡرِکُوۡنَ مَا لَا یَخۡلُقُ شَیۡئًا وَّ ہُمۡ یُخۡلَقُوۡنَ]

کیا ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے اور وہ خود پیدا کیے ہوئے ہیں۔ [الأعراف:191]

[مزید حوالہ جات کے لیے:[ الرعد:12]،[النحل:17]،[الفرقان:2]،[لقمان:8 تا 11] مراد آبادی کی تفسیر میں بھی یہی باتیں لکھی ہیں، دیکھیے احمد رضا خان کا ترجمہ مع تفسیر:

توحید: [بنی اسرائیل:39 ، ف:87] ان آیات کی ابتدا توحید کے حکم سے ہوئی اور انتہا شرک کی ممانعت پر، اس سے معلوم ہوا کہ ہر حکمت کی اصل توحید و ایمان ہے اور کوئی قول و عمل بغیر اس کے قابل پذیرائی نہیں۔ [مزید حوالے: [فاطر:10، ف:36 ]،[الأحقاف:13،ف:34]

اللہ پر ایمان کا مطلب: [البقرة:173، ف:29] معبود صرف ایک ہے، نہ وہ متجزی ہوتا ہے نہ منقسم، نہ اس کے لیے مثل نہ نظیر، الوہیت و ربوبیت میں کوئی اس کا شریک نہیں، وہ یکتا ہے اپنے افعال میں، مصنوعات کو تنہا اس نے بنایا، وہ اپنی ذات میں اکیلا ہے، کوئی اس کا قسیم نہیں، اپنی صفات میں یگانہ ہے، کوئی اس کا شبیہ نہیں۔[مزید حوالہ جات: [البقرة :177،ف:312] ،[التوبه:29 ،ف:21]،[هود:112، ف:229] الوہیت معنی معبود ہونا، ربوبیت معنی داتا ہونا۔

اللہ کا کوئی شریک نہیں: [بنی اسرئیل:111، ف:233]،[الروم:28 تا 30، ف:53 تا 66]،[المؤمنون:90، ف:142]،[الكهف:110 ،ف:223]،[طه:21 ،79] ہماری شریعت میں کسی بھی قسم کا سجدہ غیر اللہ کے لیے جائز نہیں۔ [مراد آبادی:البقرة :34، ف:21]

کوئی چیز اللہ کی شریک نہیں: [النساء:36،ف:109] نہ جاندار کو نہ بے جان کو، نہ اس کی ربوبیت میں نہ اس کی عبادت میں (شریک بناؤ )۔ [الممتحنة:12،ف:45]

توحید کی صحیح تعریف اور قرآن میں بیان کردہ 8 توحیدی ثبوت – Haq-Ki-Talash_page-0085

توحید کی صحیح تعریف اور قرآن میں بیان کردہ 8 توحیدی ثبوت – Haq-Ki-Talash_page-0086

توحید کی صحیح تعریف اور قرآن میں بیان کردہ 8 توحیدی ثبوت – Haq-Ki-Talash_page-0087

توحید کی صحیح تعریف اور قرآن میں بیان کردہ 8 توحیدی ثبوت – Haq-Ki-Talash_page-0088

توحید کی صحیح تعریف اور قرآن میں بیان کردہ 8 توحیدی ثبوت – Haq-Ki-Talash_page-0089