توحید کی اہمیت اور فضیلت: شرک سے نجات اور جنت کا راستہ

فونٹ سائز:
ماخذ: خطبات حافظ محمد اسحاق زاہد، مرتب کردہ: توحید ڈاٹ کام
مضمون کے اہم نکات

توحید: دینِ اسلام کی بنیاد

ہمیں خوب جان لینا چاہیے کہ:

❀ توحید دینِ اسلام کی بنیاد ہے۔
❀ توحید سب سے پہلا فرض ہے جس کا اقرار و قبول ہر مسلمان پر لازم ہے۔
❀ توحید کے بغیر کوئی شخص دائرۂ اسلام میں داخل نہیں ہوسکتا۔
❀ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء و رسل علیہم السلام کو اسی لیے بھیجا کہ لوگ غیر اللہ کی بندگی چھوڑ کر صرف ایک اللہ کی عبادت کریں۔
❀ توحید ہی کی وجہ سے حق و باطل کے درمیان جنگیں ہوئیں اور بے شمار مسلمانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
❀ توحید ہی وہ معیار ہے جو مسلمان اور کافر میں فرق کرتا ہے۔
❀ جو شخص توحید کو کما حقہ قبول کرے، اس کے تقاضے پورے کرے اور اسی پر مرے تو اس کے لیے جنت کا وعدہ ہے؛ اور جو اسے قبول نہ کرے اس کے لیے جہنم کی وعید ہے اور جنت حرام ہے۔

توحید کی تعریف

جب توحید انسان کی نجات کے لیے اتنی بنیادی ہے تو پہلے جان لیجیے کہ توحید ہے کیا؟

① علامہ الجرجانی فرماتے ہیں:
(التَّوحيدُ ثلاثةُ أشياءَ: مَعرِفةُ الله تعالى بالرُّبوبيَّةِ، والإقرارُ بالوحدانيَّةِ، ونفيُ الأندادِ عنه جملةً) (التعريفات:ص:69)
ترجمہ: توحید تین چیزوں کا نام ہے: اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی پہچان، اس کی وحدانیت کا اقرار، اور اس سے تمام شریکوں کی کلی نفی کرنا۔

② امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
(التَّوحيدُ هُوَ إفرادُ اللهِ سُبحانَه بالعِبادةِ) (مجموعة التوحيد۔ الرسالة الثالثة:ص:70)
ترجمہ: توحید اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو عبادت میں اکیلا کرنے کا نام ہے۔

③ شیخ ناصر العمر کہتے ہیں:
(التوحيد شرعا: إفراد الله بحقوقه، وهو لله ثلاثة حقوق: حقوق ملك، وحقوق عبادة، وحقوق أسماء وصفات) (التوحيد أولا:ص:15)
ترجمہ: شریعت میں توحید یہ ہے کہ اللہ کے حقوق صرف اسی کے لیے خاص کیے جائیں، اور اللہ کے تین حقوق ہیں: ملکیت کا حق، عبادت کا حق، اور اسماء و صفات کا حق۔

ان تعریفات کا خلاصہ یہ ہے کہ:
◈ اللہ تعالیٰ کو خالق و مالک مانا جائے،
◈ تمام عبادات صرف اسی کے لیے کی جائیں،
◈ اور اسماء و صفات میں بھی اسی کو یکتا تسلیم کیا جائے۔

کلمۂ توحید “لا إله إلا الله” کا مفہوم

کلمۂ توحید وہ کلمہ ہے جس کی طرف تمام انبیاء و رسل علیہم السلام دعوت دیتے رہے۔ اس کے دو حصے ہیں:

(لا إله) : تمام باطل معبودوں کی نفی

(إلا الله) : صرف اللہ تعالیٰ کے معبودِ برحق ہونے کا اثبات

یعنی معنی یہ ہوا کہ اللہ کے سوا ہر معبود کا انکار اور صرف اللہ کو عبادت کا مستحق ماننا۔

قرآن سے دلیل

﴿وَإِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَٰحِدٌ ۖ لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلرَّحْمَٰنُ ٱلرَّحِيمُ﴾ (سورة البقرة:163)
ترجمہ: اور تم سب کا معبود ایک ہی ہے، اس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ بیحد رحم والا اور بڑا مہربان ہے۔

اسی طرح:
﴿ذَٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ هُوَ ٱلْبَٰطِلُ وَأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْعَلِىُّ ٱلْكَبِيرُ﴾ (سورة الحج:62)
ترجمہ: یہ اس لیے کہ اللہ ہی برحق ہے اور اس کے سوا جس کو بھی یہ پکارتے ہیں وہ باطل ہے اور یقیناً اللہ بہت بلند اور بڑی شان والا ہے۔

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکینِ مکہ کو اس کلمے کی دعوت دی تو انہوں نے تعجب کیا:
﴿أَجَعَلَ ٱلْـَٔالِهَةَ إِلَٰهًا وَٰحِدًا ۖ إِنَّ هَٰذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌ﴾ (سورة ص:5)
ترجمہ: کیا اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔

اور کہنے لگے:
﴿أَئِنَّا لَتَارِكُوٓا۟ ءَالِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونِۭ﴾ (سورة الصافات:36)
ترجمہ: کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی بات پر چھوڑ دیں؟

لہٰذا صرف اتنا مان لینا کافی نہیں کہ اللہ عبادت کے لائق ہے، بلکہ غیر اللہ کے تمام معبودوں سے براءت اور انکار بھی لازمی ہے۔ جیسا کہ فرمایا:
﴿قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِىٓ إِبْرَٰهِيمَ وَٱلَّذِينَ مَعَهُۥٓ… حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَحْدَهُۥٓ﴾ (سورة الممتحنة:4)
ترجمہ: (مسلمانو!) تمہارے لیے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہہ دیا: ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سے بیزار ہیں… یہاں تک کہ تم اللہ وحدہٗ پر ایمان لے آؤ۔

توحید کی اہمیت

① توحید تمام انبیاء و رسل علیہم السلام کی دعوت ہے

حضرت نوح علیہ السلام:
﴿لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِۦ…﴾ (سورة الأعراف:59)
ترجمہ: ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے فرمایا: اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں۔

حضرت ہود علیہ السلام:
﴿يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ…﴾ (سورة الأعراف:65)
ترجمہ: اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں۔

حضرت صالح علیہ السلام:
﴿يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ…﴾ (سورة الأعراف:73)
ترجمہ: اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں۔

حضرت شعیب علیہ السلام:
﴿يَٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ…﴾ (سورة الأعراف:85)
ترجمہ: اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں۔

حضرت یوسف علیہ السلام کی دعوت:
﴿يَٰصَٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ ءَأَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ…﴾ (سورة يوسف:39تا40)
ترجمہ: اے میرے قید کے ساتھیو! کیا کئی مختلف معبود بہتر ہیں یا اکیلا اللہ جو سب پر غالب ہے؟… حکم صرف اللہ کا ہے، اس نے حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، یہی سیدھا دین ہے، مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔

عمومی اصول:
﴿وَمَآ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ…﴾ (سورة الأنبياء:25)
ترجمہ: اور ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھی بھیجا اس پر یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، پس تم میری عبادت کرو۔

﴿وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا…﴾ (سورة النحل:36)
ترجمہ: اور ہم نے ہر امت کی طرف ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔

② توحیدِ الٰہی کی گواہی خود اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں نے دی ہے

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿شَهِدَ ٱللَّهُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ وَأُو۟لُوا۟ ٱلْعِلْمِ قَآئِمَۢا بِٱلْقِسْطِ ۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ﴾ (سورة آل عمران:18)
ترجمہ: اللہ گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور فرشتے اور اہلِ علم بھی گواہی دیتے ہیں۔ وہ عدل پر قائم ہے، اس کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ وہ غالب اور حکمت والا ہے۔

یہ آیت اس حقیقت پر واضح دلیل ہے کہ توحید اللہ تعالیٰ کے نزدیک انتہائی اہم فریضہ ہے، اور اس کے بغیر کسی انسان کی نجات ممکن نہیں۔

③ توحید دینِ اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے

دینِ اسلام کے دو بنیادی اصول ہیں:

❀ پہلا اصول: صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے، تمام عبادات اسی کے لیے ہوں، اور عبادت میں کسی کو شریک نہ بنایا جائے۔
❀ دوسرا اصول: عبادت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق کی جائے اور آپ کے اسوۂ حسنہ کی روشنی میں ہو۔

یہ دونوں اصول کلمۂ شہادت سے اخذ ہوتے ہیں:
(أشْهَدُ أنْ لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وأشْهَدُ أنَّ مُحَمَّدًا رَسولُ اللَّهِ)
یعنی معلوم ہوا کہ توحید دینِ اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک عظیم اصول ہے۔

④ توحید ہر داعی کی دعوت کا نقطۂ آغاز ہے

ہم ذکر کر چکے کہ ہر نبی نے اپنی دعوت کا آغاز توحید سے کیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس قوم کو سب سے پہلے دعوت دی وہ بت پرستی میں مشہور تھی۔ وہ بتوں کو حاجت روا، مشکل کشا اور نفع و نقصان کا مالک سمجھتی تھی، انہی سے محبت کرتی اور انہی کے لیے نذر و نیاز پیش کرتی تھی۔ چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت کا آغاز ان الفاظ سے فرمایا:

(قُولوا: لا إلهَ إلا اللهُ، تُفلِحوا)
ترجمہ: تم کہو: اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، تم کامیاب ہوجاؤ گے۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے اسی دعوتِ توحید کے لیے تکلیفیں برداشت کیں، اذیتیں سہیں، ہجرت کی، پھر توحید ہی کے لیے کفار و مشرکین سے جنگیں لڑیں، اور توحید ہی کو بلند کرنے کے لیے سفر کیے۔

فتح مکہ کے دن جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں فاتحانہ داخل ہوئے تو خانۂ کعبہ میں نصب تین سو ساٹھ بت توڑ دیے اور فرمایا:
﴿جَآءَ ٱلْحَقُّ وَزَهَقَ ٱلْبَٰطِلُ ۚ﴾
ترجمہ: حق آگیا اور باطل مٹ گیا۔

یہاں “حق” سے مراد توحید اور “باطل” سے مراد بت اور ان کی پوجا ہے۔

اسی حقیقت کو مزید واضح کرنے کے لیے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو انہیں سب سے پہلی دعوت توحید ہی کی دینے کا حکم دیا:

(إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللهِ… ) (صحيح مسلم:19)
ترجمہ: تم اہلِ کتاب کی ایک قوم کے پاس جا رہے ہو، لہٰذا سب سے پہلے انہیں اس بات کی طرف بلانا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ پھر اگر وہ مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں… پھر اگر وہ مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے زکاۃ فرض کی ہے جو مالداروں سے لے کر فقراء کو دی جائے گی… پھر اگر وہ مان لیں تو ان کے عمدہ مال لینے سے بچنا اور مظلوم کی بددعا سے بچنا کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔

دوسری روایت میں ہے:
(إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ أَهْلِ كِتَابٍ فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ فَإِذَا عَرَفُوا اللَّهَ فَأَخْبِرْهُمْ…) (صحيح البخاري:1458)
ترجمہ: تم ایک اہلِ کتاب قوم کے پاس جا رہے ہو، پس سب سے پہلی بات جس کی طرف انہیں دعوت دینا وہ اللہ کی عبادت ہے، پھر جب وہ اللہ کو پہچان لیں تو انہیں (آگے احکام) بتانا…

اس سے ثابت ہوا کہ ہر داعی کی دعوت کا نقطۂ آغاز توحید ہے۔

⑤ توحید دینِ اسلام کا پہلا رکن ہے

اسلام جن پانچ ارکان پر قائم ہے ان میں سب سے پہلا رکن توحید ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(بُنِيَ الإسْلَامُ علَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أنْ لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وأنَّ مُحَمَّدًا رَسولُ اللَّهِ…) (صحيح البخاري:8)
ترجمہ: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: (١) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں… الخ۔

⑥ توحید اللہ تعالیٰ کا بندوں پر پہلا حق ہے

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا تھا… پھر آپ نے فرمایا:

(هل تدري ما حَقُّ اللهِ على العِبادِ؟)
ترجمہ: کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا حق کیا ہے؟

میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(حَقَّ اللهِ على العِبادِ أن يعبُدوه ولا يُشْرِكوا به شيئًا)
ترجمہ: بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔

پھر فرمایا:
(هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟)
ترجمہ: کیا تم جانتے ہو کہ اگر وہ یہ کرلیں تو اللہ پر بندوں کا حق کیا ہے؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(حَقَّ العِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لاَ يُعَذِّبَ)
ترجمہ: بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔
(‌صحيح البخاري:2856 وصحيح مسلم:30)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سب سے پہلا اور سب سے بڑا حق یہ ہے کہ بندے صرف اللہ کی عبادت کریں اور شرک نہ کریں۔ اور اگر بندے اللہ کا حق ادا کر دیں تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں عذاب سے بچا کر جنت میں داخل فرماتا ہے۔

⑦ ایمان کا آغاز توحیدِ الٰہی سے ہوتا ہے

حضرت مسیّب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ابو طالب کی وفات کا وقت آیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے… اور فرمایا:

(يَا عَمِّ! قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، كَلِمَةً أَشْهَدُ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللهِ)
ترجمہ: اے چچا جان! لا إلہ إلا اللہ کہہ دیں، یہ ایسا کلمہ ہے کہ اس کی بنیاد پر میں اللہ کے ہاں آپ کے حق میں گواہی دوں گا۔

لیکن ابو جہل اور عبد اللہ بن ابو امیہ نے کہا: کیا تم عبد المطلب کے دین کو چھوڑ دو گے؟ ابو طالب نے عبد المطلب کے دین پر رہنے کا کہا اور کلمہ پڑھنے سے انکار کر دیا۔
(صحيح البخاري:3884 وصحيح مسلم:24)

اس سے ثابت ہوا کہ ایمان کی ابتداء توحید سے ہوتی ہے اور کلمۂ توحید کے اقرار ہی سے غیر مسلم اسلام میں داخل ہوتا ہے۔

توحید کے فضائل

① توحید کا دل سے اقرار کرنے والے کے لیے جنت ہے

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللهُ، دَخَلَ الْجَنَّةَ) (صحيح مسلم:26)
ترجمہ: جو شخص اس حال میں مرا کہ اسے یقین تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ جنت میں داخل ہوگا۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا: دو واجب کرنے والی چیزیں کون سی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ) (صحيح مسلم:93)
ترجمہ: جو اس حال میں مرا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا، وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جو اس حال میں مرا کہ شرک کرتا تھا، وہ جہنم میں داخل ہوگا۔

ایک قصہ: “لا إله إلا الله” کی گواہی پر جنت کی بشارت

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے… آپ کچھ دیر کے لیے تشریف لے گئے اور واپس نہ آئے… پھر میں تلاش کرتے ہوئے بنو النجار کے باغ پہنچا، اندر داخل ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مل گئے… آپ نے مجھے اپنے جوتے دیے اور فرمایا:

(اذْهَبْ بِنَعْلَيَّ هَاتَيْنِ، فَمَنْ لَقِيتَ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْحَائِطَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ، فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ) (صحيح مسلم:31)
ترجمہ: میرے یہ دونوں جوتے لے جاؤ، اور باغ کی دیوار کے پیچھے جو شخص بھی تمہیں ایسا ملے جو دل کے یقین سے لا إلہ إلا اللہ کی گواہی دیتا ہو، اسے جنت کی بشارت دے دو۔

آگے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ملے… انہوں نے یہ سن کر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو واپس لوٹا دیا اور کہا کہ مجھے اندیشہ ہے لوگ اسی پر بھروسہ کر کے عمل چھوڑ دیں گے… رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “انہیں عمل کرنے دو”。

اس قصے میں اہلِ توحید کے لیے جنت کی عظیم بشارت ہے۔

② توحید پرست پر جہنم حرام ہے

ابو عبد اللہ عبد الرحمن بن عسیلۃ الصنابحی بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عبادۃ بن صامت رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں ان کے پاس حاضر ہوا۔ میں ان کی حالت دیکھ کر رو پڑا۔ انہوں نے فرمایا: کیوں روتے ہو؟ اللہ کی قسم! اگر مجھ سے گواہی طلب کی گئی تو میں تمہارے حق میں گواہی دوں گا، اور اگر مجھے شفاعت کی اجازت دی گئی تو میں تمہارے لیے شفاعت کروں گا، اور جہاں تک ممکن ہوا تمہیں نفع پہنچاؤں گا۔

پھر انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے جو آج تمہیں سناتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ النَّارَ) (صحيح مسلم:29)
ترجمہ: جس شخص نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں تو اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کو حرام کر دیتا ہے۔

③ روزِ قیامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت اہلِ توحید کے لیے ہوگی

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! قیامت کے دن آپ کی شفاعت کا سب سے زیادہ مستحق کون ہوگا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(أَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِي يَوْمَ القِيَامَةِ، مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، خَالِصًا مِنْ قَلْبِهِ، أَوْ نَفْسِهِ) (صحيح البخاري:99)
ترجمہ: قیامت کے دن میری شفاعت کا سب سے زیادہ مستحق وہ شخص ہوگا جس نے دل کی گہرائیوں سے خالصتاً لا إلہ إلا اللہ کہا ہو۔

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(أَتَانِي آتٍ مِنْ عِنْدِ رَبِّي فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يُدْخِلَ نِصْفَ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ وَهِيَ لِمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا) (جامع الترمذي:2441)
ترجمہ: میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور اس نے مجھے اختیار دیا کہ یا تو میری نصف امت جنت میں داخل ہو جائے یا مجھے شفاعت عطا کی جائے۔ میں نے شفاعت کو اختیار کیا، اور میری شفاعت اس شخص کے لیے ہے جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا۔

④ اہلِ توحید کی شفاعت بھی قبول ہوگی

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَقُومُ عَلَى جَنَازَتِهِ أَرْبَعُونَ رَجُلًا لَا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا إِلَّا شَفَّعَهُمْ اللَّهُ فِيهِ) (صحيح مسلم:948)
ترجمہ: جو مسلمان فوت ہو جائے اور اس کی نمازِ جنازہ میں چالیس ایسے افراد شریک ہوں جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں ان کی شفاعت قبول فرما لیتا ہے۔

⑤ توحید کی وجہ سے بڑے گناہ بھی معاف ہو سکتے ہیں

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ایک شخص پہلی امتوں میں ایسا تھا جس نے کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا، البتہ وہ توحید پر قائم تھا۔ جب اس کی وفات کا وقت آیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا: مجھے جلا دینا، پھر راکھ کو پیس کر تیز ہوا میں اڑا دینا۔

جب ایسا کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے جمع کیا اور پوچھا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے کہا: اے میرے رب! تیرے خوف کی وجہ سے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کر دیا۔
(مسند أحمد:2/304، واصله في الصحيحين)
ترجمہ: اس نے کوئی نیکی نہ کی تھی مگر توحید پر تھا، اسی وجہ سے اللہ نے اسے بخش دیا۔

⑥ کبیرہ گناہوں والے اہلِ توحید کو جہنم سے نکال لیا جائے گا

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(يعذَّبُ ناسٌ مِن أَهْلِ التَّوحيدِ في النَّارِ حتَّى يَكونوا فيها حَممًا ، ثمَّ تُدرِكُهُمُ الرَّحمةُ ، فيَخرُجونَ… ثمَّ يُدخَلونَ الجنَّةَ) (سنن الترمذي:2597)
ترجمہ: کچھ اہلِ توحید کو ان کے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں عذاب دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ کوئلہ ہو جائیں گے، پھر اللہ کی رحمت انہیں پا لے گی، انہیں جہنم سے نکالا جائے گا، جنت کے دروازوں پر ڈال دیا جائے گا، ان پر پانی ڈالا جائے گا تو وہ ایسے اگیں گے جیسے سیلاب کے کوڑے میں گھاس اگتی ہے، پھر وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔

کلمۂ توحید کی فضیلت میں دو عظیم احادیث

① ننانوے رجسٹروں والی حدیث

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

قیامت کے دن ایک شخص کو بلایا جائے گا اور اس کے سامنے ننانوے رجسٹر کھولے جائیں گے، ہر رجسٹر حدِ نگاہ تک پھیلا ہوگا۔ پوچھا جائے گا: کیا تم ان میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہو؟ وہ کہے گا: نہیں۔

پھر اس کے لیے ایک کارڈ نکالا جائے گا جس میں لکھا ہوگا:
(أشْهَدُ أنْ لا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وأنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ ورَسولُهُ)

ترجمہ: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔

جب کارڈ کو ایک پلڑے میں اور باقی رجسٹروں کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تو کارڈ والا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔
(سنن الترمذي:2641، ابن ماجه:4300، مسند احمد:2/213، أحمد شاكر: إسناده صحيح)

② “لا إله إلا الله” کا وزن

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھے کوئی ایسا ذکر سکھا دے جس سے میں تجھے یاد کروں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: لا إله إلا الله پڑھا کرو۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: یہ تو سب بندے پڑھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور لا إله إلا الله دوسرے پلڑے میں ہو تو لا إله إلا الله والا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔
(عمل اليوم والليلة للنسائي:834، ابن حبان:2324، قال الحافظ في الفتح 11/175: أخرجه النسائي بسند صحيح)

اقسامِ توحید

توحید کی تین اقسام ہیں:

① توحیدِ ربوبیت
② توحیدِ الوہیت
③ توحید الاسماء والصفات

پہلی دو اقسام کی وضاحت ہو چکی، اب تیسری قسم ملاحظہ فرمائیں۔

③ توحید الاسماء والصفات

اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات میں بھی اسے یکتا مانیں۔ جو نام اور صفات اللہ نے خود اپنے لیے بیان فرمائے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیے، ہم انہیں بغیر تشبیہ، بغیر تمثیل، بغیر تحریف اور بغیر تعطیل تسلیم کریں۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَلِلّٰهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ﴾ (سورة الأعراف:180)
ترجمہ: اور اللہ ہی کے لیے بہترین نام ہیں، پس تم انہی ناموں سے اسے پکارو، اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں، انہیں ان کے اعمال کی سزا دی جائے گی۔

اسی طرح فرمایا:
﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾ (سورة الشورى:11)
ترجمہ: اس جیسی کوئی چیز نہیں، اور وہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔

اس آیت میں دو باتیں ہیں:
❀ تشبیہ کی نفی (کوئی اس جیسا نہیں)
❀ صفات کا اثبات (وہ سننے اور دیکھنے والا ہے)

لہٰذا ہم مانتے ہیں کہ اللہ سنتا اور دیکھتا ہے، لیکن اس کا سننا اور دیکھنا مخلوق جیسا نہیں۔

امام مالک رحمہ اللہ سے ﴿الرَّحْمَٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى﴾ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:
الاستواء معلوم، والكيف مجهول، والسؤال عنه بدعة، والإيمان به واجب
ترجمہ: استواء کا معنی معلوم ہے، کیفیت مجہول ہے، اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے اور اس پر ایمان لانا واجب ہے۔

نتیجہ

ہمیں چاہیے کہ ہم توحید کو صحیح طور پر سمجھیں، شرک کی ہر قسم سے بچیں، اپنی عبادات کو خالص اللہ کے لیے کریں، اور اسی پر اپنی زندگی گزار کر اسی پر خاتمہ کی دعا کریں۔

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خالص توحید پر قائم رکھے، شرک سے محفوظ رکھے، اور ہمارا خاتمہ ایمان و توحید پر فرمائے۔ آمین۔