مضمون کے اہم نکات
توحید فی الحکم اور شرک فی الحکم
توحید فی الحکم یہ ہے کہ دین کے معاملے میں اللہ کے سوا کسی کا حکم نہ مانا جائے، اور چونکہ رسول اللہﷺ کا حکم بھی اللہ ہی کا حکم ہے. (النساء:80) اس لیے دین میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت ہی کا حکم ہے۔ اور یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ رسول اللہﷺ کا راستہ اختیار کرو اور مومنوں کا راستہ اختیار کرو یعنی اہل سنت و الجماعت بنو۔ (النساء:115) اور اسی آیت میں ہے کہ اس راستے سے ہٹنے کا انجام روز رخ ہے:
[وَ مَنۡ یُّشَاقِقِ الرَّسُوۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الۡہُدٰی وَ یَتَّبِعۡ غَیۡرَ سَبِیۡلِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَ نُصۡلِہٖ جَہَنَّمَ ؕ وَ سَآءَتۡ مَصِیۡرًا]
اور جو کوئی رسول (ﷺ) کی مخالفت کرے، بعد اس کے کہ اس پر سیدھی راہ کھل چکی ہو اور سب مسلمانوں کے راستے کے خلاف چلے تو ہم اسے اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا ہے اور اسے دوزخ میں ڈالیں گے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ (النساء:115)
[اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ]
اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں۔ (الأنعام:57)،(يوسف:40)
[اَلَا لَہُ الۡخَلۡقُ وَ الۡاَمۡرُ]
یاد رکھو! وہی خالق ہے اور اس کا حکم ہے۔ (الأعراف:54)
[اَلَا لَہُ الۡحُکۡمُ]
حکم اسی کا ہے۔ (الأنعام:62)
[اِتَّبِعۡ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ]
جو تیرے مالک نے تجھ کو حکم بھیجا اس پر چل۔ (الأنعام:106)
[فَاسۡتَمۡسِکۡ بِالَّذِیۡۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ ۚ اِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ]
پھر آپ مضبوطی سے پکڑیں اسے جو آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے، بے شک آپ سیدھے راستے پر ہیں۔ (الزخرف:43)
اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کا حکم:
[قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ]،[قُلۡ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ ۚ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡکٰفِرِیۡنَ]
[کہہ دے ! اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری راہ پر چلو اللہ بھی تم سے محبت رکھے گا اور تمھارے گناہ بخش دے گا ، اللہ بخشنے والا مہربان ہے]،[ کہہ دیجیے اللہ اور اس کے رسول ( ﷺ) کی اطاعت کرو۔ پھر اگر وہ نہ مانیں تو اللہ منکروں سے محبت نہیں کرتا ] (آل عمران :32،31)
① اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی اطاعت کرنے والوں پر اللہ رحم کرتا ہے، جو اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی اطاعت کرتا ہے وہ جنت میں جائے گا اور جو نافرمانی کرے گا وہ دوزخ میں جائے گا۔ اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی اطاعت کرنے والے وہ ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، جو اطاعت نہیں کرتے وہ منافق ہیں۔ وہ مومن نہیں جو رسول (ﷺ) کا فیصلہ دل و جان سے قبول نہیں کرتا۔ اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی اطاعت کرنے والے نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور نیک لوگوں کے ساتھ ہوں گے۔ (النساء:66 تا 69)
② جس نے رسولﷺ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ (النساء:80)
③ جس نے رسولﷺ اور صحابہ کرام کا راستہ چھوڑ دیا وہ دوزخی ہے۔ (النساء:115)
④ قرآن اور سنت کی پیروی کرو اور اگر ایسا نہ کرو گے تو رسولﷺ پر تو صرف پہنچا دینا ہے۔ (المائدة:92)
⑤ رسولﷺ کی پیروی کرنے والے مراد پانے والے ہیں۔ (الأعراف:158،157)
⑥ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلے کے بعد مومن کو اس معاملہ میں کوئی اختیار نہیں رہتا اور جس نے نا فرمانی کی وہ کھلا گمراہ ہو چکا۔ (الاحزاب:36)
⑦ مومنوں کو چاہیے کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کریں اور اپنے اعمال باطل نہ کریں۔ (محمد:33)
قرآن میں کم از کم 31 جگہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا گیا۔
(آل عمران:132،32،31)،( الأنفال:32)،(النساء:13 ، 14 ، 56 ، 64 ، 65 ، 66 ، 67، 68 ، 69 ، 70 ، 80 ، 115)،(المائدة:92)،(الاعراف:158،157)،(الأنفال:1 ، 13 ،20 ،21 ،24 ، 46)،(التوبة:63)،(النور:52، 54، 56، 63)،(الأحزاب:21، 36، 71)،(محمد:33)،(الفتح:17)،(الحجرات:14)،(المجادلة:13)،(الحشر:7)،(التغابن:12)،(الجن:23)
صحیح بخاری کی حدیث اس سلسلہ میں بہت اہم ہے جس میں رسول اللہﷺ نے فرمایا: میری امت کے تمام لوگ جنت میں داخل ہوں گے سوائے اس کے جو خود جنت میں داخل ہونے سے انکار کر دے ۔ عرض کیا گیا: ”کس نے انکار کیا؟ فرمایا: ”جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا.
[بخاری، كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة، باب الاقتداء لسنن رسول الله ﷺ:7280]
اماموں کی امامت بے شک بجا ہے
مگر اطاعت کے لائق صرف زات مصطفیٰﷺ ہے
جب اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا تو فرمایا: کہ میری طرف سے تم تک میری ہدایت آئے گی تو اس پر چلنا، جو میری ہدایت پر چلیں گے نہ ان کو ڈر ہوگا نہ غم۔ (البقرۃ:38) یعنی وہ ولی ہوں گے۔ (یونس:62 تا 64) کیونکہ ان دونوں مقامات پر ہے۔ [لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ] کہ نہ ان پر خوف ہوگا نہ غم (یعنی) جو اللہ کی ہدایت پر چلتا ہے نہ اس پر خوف ہے نہ غم اور اللہ کے ولی پر بھی نہ خوف ہے نہ غم یعنی اللہ کی ہدایت پر چلنے والا ہی اللہ کا ولی ہے۔ لیکن جس نے اللہ کی ہدایت سے منہ پھیرا اس کو قیامت کے دن اندھا اٹھایا جائے گا۔ (طہ:123 تا 126) ہر نبی نے اپنی امت کو یہی حکم دیا کہ اللہ کی عبادت کرو، اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (الأعراف:59،65،70،73،85)
اور محمدﷺ کی امت کو حکم ہوا: لوگو! جو تمھارے مالک کی طرف سے تم پر اترا (قرآن و حدیث) اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا دوسرے دوستوں کی پیروی مت کرو، تم بہت کم نصیحت لیتے ہو۔ (الأعراف:3)
اور فرمایا: اور نہ خواہش سے وہ (رسولﷺ) بات کرتا ہے، اس (رسولﷺ) کی جو بات ہے وہی ہے جو اس پر وحی کی جاتی ہے، اس کو بہت زور والے فرشتے (جبرائیل) نے سکھائی ہے۔ (النجم:3 تا 5) اور فرمایا:آج میں نے تمھارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی۔ (المائدۃ:3) دین مکمل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے تمام ارکان، فرائض سنن، حدود، احکام، کفر، شرک بیان کر دیے گئے ہیں۔ مندرجہ بالا تینوں آیات سے صاف ظاہر ہے کہ رسول اللہﷺ نے دین کی جو بھی بات بتائی خواہ وہ قرآن ہے یا حدیث، وہ بات وحی کے مطابق ہے۔
دین قرآن و حدیث میں مکمل ہو چکا:
ہمیں نازل کردہ دین (قرآن و حدیث) پر چلنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کے علاوہ کسی اور کی بات نہ ماننے کا حکم دیا گیا ہے۔(الأعراف:3)
اگر کوئی آسمانی ہدایت (قرآن وحدیث) کے علاوہ دوسروں کی پیروی کرتا ہے تو اسے اللہ سے بچانے والا کوئی نہیں۔ (البقرة:120)،(الرعد:37)
اگر کوئی آسمانی ہدایت کے علاوہ دوسروں کی پیروی کرتا ہے تو وہ ظالم ہے۔ (البقرة:145)
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ دین کے مطابق حکم نہ دیں، وہ کافر ہیں، ظالم ہیں، نافرمان ہیں۔ (المائدۃ:44، 47،45تا50)
اپنے رب کی طرف سے آئی ہوئی وحی کی پیروی کرو۔ (الأعراف:3)
اللہ کی طرف سے اتری ہوئی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے، باقی سب گمراہی ہے۔ (البقرة: 38، 39، 137، 285)
آسمانی ہدایت کی پیروی کرنے والوں کو نہ خوف ہو گا نہ غم۔ (البقرة:39،38)
آسمانی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے۔ (آل عمران:73)،(الأنعام:71)
آسمانی ہدایت کے ذریعے اللہ تمھیں اگلے نیک لوگوں کی راہ پر چلانا چاہتا ہے۔(النساء:26)
لیکن افسوس در افسوس کہ امت مسلمہ کی اکثریت نے قرآن و حدیث پر عمل کرنے کے واضح احکامات کے باوجود شرک فی الحکم کیا اور اس سلسلہ میں پہلی امتوں کی پیروی کی اور ان باتوں پر عقیدہ رکھا جن کا قرآن و حدیث میں کوئی وجود تک نہیں، یہی وجہ ہے کہ آج امت مسلمہ کئی فرقوں میں تقسیم ہو چکی ہے اور ان میں سے جو بھی اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت سے منہ پھیر چکا ہے وہ شرک فی الحکم کا مرتکب ہو چکا ہے، کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بجائے دوسروں کے احکامات مانے۔
اللہ کے سوا اور کسی کا فیصلہ نہ تلاش کرو، زمین کے اکثر لوگ تمھیں گمراہ کر دیں گے۔ (الأنعام :114 تا 116)
اہل کتاب (یہود و نصاری) نے مولویوں اور درویشوں کو اپنے رب بنا لیا یعنی انھوں نے شرک فی الحکم کیا، فرمایا:
[اِتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَہُمۡ وَ رُہۡبَانَہُمۡ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ]
ان لوگوں نے اپنے مولویوں اور درویشوں (علماء اور مشائخ) کو اللہ کے سوا اپنے رب بنالیا۔ (التوبة:31)
[اَمۡ لَہُمۡ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوۡا لَہُمۡ مِّنَ الدِّیۡنِ مَا لَمۡ یَاۡذَنۡۢ بِہِ اللّٰہُ ؕ وَ لَوۡ لَا کَلِمَۃُ الۡفَصۡلِ لَقُضِیَ بَیۡنَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ]
کیا ان لوگوں نے ایسے اللہ کے شریک مقرر کر رکھے ہیں جنھوں نے ایسے احکام دین مقرر کر دیے ہیں جو اللہ کے فرمائے ہوئے نہیں ہیں۔ (الشوری:21)
[وَ اِنۡ اَطَعۡتُمُوۡہُمۡ اِنَّکُمۡ لَمُشۡرِکُوۡنَ]
(اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف) اگر تم نے کسی کا کہا مانا تو تم یقیناً مشرک ہو گئے۔ (الأنعام:121)
[مَا لَکُمۡ ٝ کَیۡفَ تَحۡکُمُوۡنَ]،[اَمۡ لَکُمۡ کِتٰبٌ فِیۡہِ تَدۡرُسُوۡنَ]
[تم کو کیا ہو گیا ہے، کیسا حکم لگاتے ہو؟]،[ کیا تمھارے پاس کوئی (آسمانی) کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو؟] (القلم:37،36)
یادر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتیں دی ہیں، اگر انسان اللہ تعالٰی کی نعمتیں گننا شروع کر دے تو وہ ان کو گن نہیں سکتا۔ (مثلاً النحل: 18، 53 تا 55)،(ابراهیم:34)،(لقمان:20) لیکن سب سے بڑی اللہ کی نعمت آسمانی ہدایت ہے جو قرآن و حدیث میں مکمل ہو چکی ہے۔ (الأعراف:3)،(النجم:3 تا 5)،(المائدة:7،3)
لیکن امت مسلمہ کی اکثریت نے پہلی امتوں کی طرح قرآن و حدیث جو حق ہے، میں باطل کو ملا دیا اور اس طرح کئی فرقوں میں تقسیم ہو گئی اور آسمانی ہدایت یعنی نعمت کو خلط ملط کر کے بدل دیا، جیسا کہ پہلی امتوں نے کیا۔ (البقرة:211،42) حالانکہ ان کو پہلی امتوں کے اس طریقہ کو اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (الحديد:16)،(البقرة:145،120)
آسمانی ہدایت ایک نعمت ہے، آسمانی ہدایت کو بدلنا جرم ہے، ایسا کرنے والوں کے لیے سخت عذاب ہے۔ (البقرة:211)
حق کے ساتھ باطل کو مت ملاؤ، حالانکہ حق کا تمھیں پتا ہے۔ (البقرۃ:42) یعنی قرآن اور حدیث میں اور چیزیں نہیں ملانی چاہیں۔
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اہل کتاب کا رویہ اختیار کرنے سے منع فرمایا۔ (الحدید:16)
تاریخ انسانی کا بھیانک ترین المیہ:
انسانی تاریخ سے پتا چلتا ہے، جیسا کہ قرآن مجید بھی ہمیں بتاتا ہے کہ آدم علیہ السلام کو اللہ تعالی نے جب دنیا میں بھیجا تو ان کو حکم دیا کہ آسمانی ہدایت پر چلنا اور جو لوگ آسمانی ہدایت پر نہ چلیں وہ دوزخ میں جائیں گے۔ (طه:123 تا 126) آدم علیہ السلام کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد جب کافی عرصہ گزر گیا تو سیدنا نوح علیہ السلام کے وقت انسانوں کی غالب اکثریت مشرک تھی کیونکہ انھوں نے آسمانی ہدایت (نعمت) سے منہ پھیر لیا تھا۔ (نوح :1 تا 28) پھر اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا غرق کر دی، وہی بچے جو مومن تھے، پھر دنیا ان مومنوں کی اولاد سے آباد ہوئی۔ پھر ابراہیم علیہ السلام کے وقت انسانوں کی غالب اکثریت مشرک تھی، انھوں نے پھر آسمانی ہا پھر آسمانی ہدایت (نعمت) سے منہ پھیر لیا تھا۔ پھرابراہیم علیہ السلام نے اپنی مومنہ بیوی اور بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو مکہ میں آباد کیا اور ان کی نسل سے مکہ آباد ہوا اور قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارے پیارے نبیﷺ کے وقت مکہ والوں کی غالب اکثریت مشرک تھی، کیونکہ انھوں نے آسمانی ہدایت (نعمت) سے منہ پھیر لیا تھا۔ یہی کچھ موسیٰ علیہ السلام اور عیسی علیہ السلام کی امتوں نے کیا۔ انھوں نے بھی آسمانی ہدایت (نعمت) سے منہ پھیر لیا، اس میں باطل کی آمیزش کی اور یہی کچھ امت مسلمہ کی غالب اکثریت اس وقت کر رہی ہے اور آسمانی ہدایت (نعمت) میں باطل یعنی غیر آسمانی ہدایت کی آمیزش کر چکی ہے اور کر رہی ہے، کیونکہ یہ بھی قرآن اور صحیح حدیث کے احکام سے آزاد ہو چکے ہیں اور اپنی من مانیاں کر رہے ہیں اور پھر بھی ہر فرقہ کہتا ہے کہ ہم ٹھیک ہیں، حالانکہ سارے فرقے کیسے ٹھیک ہو سکتے ہیں؟ جماعت تو ایک ہی ٹھیک ہوگی اور ایک ہی جماعت کامیاب ہوگی، یہی اللہ اور اس کے رسولﷺ کا فیصلہ ہے۔
ناجی (کامیاب) گروه کون؟:
اس وقت دنیا میں مسلمانوں کے جتنے فرقے ہیں ان میں سے صرف اہل سنت و الجماعت ہی کامیاب ہوں گے۔ اہل سنت و الجماعت کی تعریف یہ ہے کہ جو لوگ عقیدہ اور عمل میں اس طریقہ پر چلتے ہیں جو طریقہ ہمارے پیارے رسول ﷺنے اختیار کیا اور جو طریقہ صحابہ کرام نے اختیار کیا اور یہ دین ہمارے پیارے نبی ﷺ کی زندگی ہی میں مکمل ہو گیا۔ جو کچھ بعد میں شامل کیا گیا وہ شرک فی الحکم میں آئے گا، اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔ (نیز دیکھیے:صفحہ:623،622)
① اللہ تعالی نے غیر اللہ کو پکارنے سے قرآن مجید میں سختی سے منع فرمایا، رسول اللہﷺ نے بھی منع فرمایا: اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس بات پر سختی سے عمل کیا لیکن کچھ کلمہ گو بلکہ بہت سے کلمہ گو اب غیر اللہ کو پکارتے ہیں۔ ان کا یہ عقیدہ یقینا شرک فی الحکم میں آتا ہے کیونکہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کا اس سلسلہ میں حکم نہ مانا بلکہ اپنے علماء اور مشائخ کا حکم مانا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی صورت حال کے تحت اہل کتاب کے متعلق قرآن مجید میں فرمایا:
[اِتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَہُمۡ وَ رُہۡبَانَہُمۡ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ]
ان لوگوں مانے اپنے مولویوں اور درویشوں (علماء و پیروں) کو اللہ کے سوا رب بنا لیا ہے۔ (التوبة:31)
② اللہ تعالیٰ نے سب انسانوں کو آدم علیہ السلام کی اولاد بنایا اور فرمایا آدم علیہ السلام بشر تھے اور مٹی سے بنائے گئے اور سب انبیاء علیہم السلام، جن میں ہمارے پیارے نبیﷺ بھی شامل ہیں، بشر ہیں، یہ باتیں قرآن مجید میں بہت جگہ بیان ہوئی ہیں اور رسولﷺ نے بھی فرمایا: میں توصرف بشر ہوں اور فرمایا میں قیامت کے دن سب انسانوں کا سردار ہوں۔
[بخاری، کتاب التفسیر، باب ذرية من حملنا مع نوح إنه كان عبدا شكورا:4712]،[مسلم، کتاب الفضائل، باب وجوب امتثال ما قاله شرعًا …. الخ:2362]،[وكتاب الإيمان، باب أدنى أهل الجنة منزلة فيها:194]
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہمانے فرمایا: رسول(ﷺ) بشر ہیں ۔ (ابن حبان:5675) اور یہ قرآن و صحیح حدیث کا متفقہ مسئلہ ہے لیکن آج کچھ کلمہ گو اس بات سے انکاری ہیں، ان کا یہ عقیدہ شرک فی الحکم میں آتا ہے کیونکہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نہ مانی بلکہ اپنے علماء اور درویشوں کی مانی اور یہی کچھ اہل کتاب نے کیا (التوبه:31) اور اللہ تعالیٰ نے ان کو مشرک قرار دیا۔ یاد رہے علماء کی غیر مشروط اطاعت حرام ہے۔ اگر قرآن و صحیح حدیث کے مطابق ہو تو حلال ورنہ حرام ہے۔
اسی طرح کچھ لوگوں نے کسی بزرگ کا نام داتا، مشکل کشا، دستگیر، غریب نواز، غوث الاعظم کسی کا گنج بخش، طوفانوں سے نجات بخشنے والا، کھوٹی قسمت کھری کرنے والا وغیرہ اپنی طرف سے نام رکھ لیے، اللہ تعالیٰ نے ان کی کوئی سند نہیں اتاری اور یہ عقیدے بعد کی پیداوار ہیں اور یہ عقیدے شرک فی الحکم میں آتے ہیں (النجم:23) جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔ یاد رہے شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ بغداد والے کی پیدائش500 ہجری ہے اور علی ہجویری رحمہ اللہ کا سن وفات465 ہجری ہے اور ان کا مکمل شدہ دین اسلام میں کہیں ذکر نہیں ہے۔ ان کے متعلق سب عقائد خود ساختہ ہیں۔ اس کے علاوہ اور بھی بے شمار باتیں ہیں جو بعد میں عقائد میں شامل کی گئیں، جن کا ذکر اپنی اپنی جگہ آئے گا۔
قرآن اور صحیح حدیث اور فقہ حنفی کی معتبر کتابوں میں صاف صاف لکھا ہے کہ دین اسلام قرآن اور حدیث میں مکمل ہو چکا ہے، اگر آج بھی سارے مسلمان اس بات پر متفق ہو جاتا جائیں که دین اسلام قرآن وحدیث میں مکمل ہو چکا ہے اور باقی سب عقیدے باطل ہیں تو سب فر تے ختم ہو کر ایک امت مسلمہ بن سکتی ہے اور سب کلمہ گو توحید فی الحکم پر عمل کر سکتے ہیں اور شرک فی الحکم سے بچ سکتے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرقوں کی بار بار مذمت فرمائی اور فرقوں کی وجہ ضد بازی اور آسمانی ہدایت سے روگردانی بیان فرمائی اور رسولﷺ سے فرمایا۔ فرقہ بندوں سے تیرا کوئی تعلق نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ تَفَرَّقُوۡا وَ اخۡتَلَفُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَہُمُ الۡبَیِّنٰتُ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ]
اور تم ان جیسے نہ بنو جو فرقے فرقے ہو گئے اور واضح دلائل آنے کے بعد آپس میں پھوٹ ڈالی ، یہی ہیں جن کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ (آل عمران:105)
نیز فرمایا:
[اِنَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَ کَانُوۡا شِیَعًا لَّسۡتَ مِنۡہُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ ؕ اِنَّمَاۤ اَمۡرُہُمۡ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ]
یقیناً جنھوں نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور آپس میں مختلف گروہ بن گئے، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں، ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، پھر وہ ان کو ان کے کاموں کانتیجہ بتا دے گا (یعنی سزا دے گا)۔ (الأنعام:159)
اور فرمایا:
[اَنۡ اَقِیۡمُوا الدِّیۡنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوۡا فِیۡہِ]
تم لوگ دین کو سیدھا رکھو اور اس میں فرقے پیدا نہ کرو۔ (الشورى:13)
ان آیات میں ہر وہ فرقہ سازی اور گروہ بندی ممنوع اور مذموم ہے جس سے اصول جدا ہوں، اخوت و محبت غیب ہو اور ایک دوسرے کے ساتھ عداوت و نفرت قائم ہو۔ ان آیتوں کو اہل کتاب (یہود و نصاری) کے ساتھ خاص کرنا ان کی تحریف ہے کیونکہ جو صفت یہود و نصاری وغیرہ کے لیے بری تھی وہی صفت اسلام کے دعوے داروں میں اگر پائی جائے تو بھی بری ہوگی۔ اہل کتاب اور دوسری قوموں کے حالات سے آگاہ کرنے کا مقصد دراصل ان کی بری صفات و عادات سے بچنے کا حکم ہوتا ہے، کیونکہ قرآن کے نزول کا مقصد صرف امتوں اور اشخاص کی تاریخ بیان کرنا نہیں بلکہ تاریخ کے واقعات سے عبرت و نصیحت پکڑنا مقصود ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بار بار فرمایا کہ وہ اختلافات کا فیصلہ قیامت کے دن فرمائے گا۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جب امت مسلمہ کے موجودہ اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا تو فیصلہ ان کے حق میں ہوگا جنھوں نے آسمانی ہدایت کی پیروی کی ہوگی اور ان کے خلاف فیصلہ ہو گا جنھوں نے فرقے بنائے ، ہٹ دھرمی سے کام لیا، آسمانی ہدایت کی بجائے اپنے علماء اور مشائخ کی پیروی کی، آسمانی ہدایت کی بجائے اپنے آباؤ اجداد کے طریقے پر چلے، جس کی قرآن میں بار بار ممانعت آئی ہے:
[وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمُ اتَّبِعُوۡا مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ قَالُوۡا بَلۡ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلۡفَیۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَ لَوۡ کَانَ اٰبَآؤُہُمۡ لَا یَعۡقِلُوۡنَ شَیۡئًا وَّ لَا یَہۡتَدُوۡنَ]
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔ اگر چہ ان کے باپ دادا کچھ بھی عقل نہ رکھتے ہوں اور نہ سیدھی راہ پر ہوں۔ (البقرة:170)
یہ اٹکل پچو پر چلے، اسی لیے اٹکل پچو پر چلنے سے منع فرمایا گیا ہے، ایسے تمام لوگ شرک فی الحکم کے مرتکب ہوئے کیونکہ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں اور یہ سب کے سب خطرے میں ہیں :
[ قُلۡ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَ الۡہُدٰی ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَہۡوَآءَہُمۡ بَعۡدَ الَّذِیۡ جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ ۙ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ]
بے شک ہدایت اللہ ہی کی ہدایت ہے اور اگر تم نے ان کی خواہشوں کی پیروی کی ، اس کے بعد کہ تمھارے پاس علم آچکا تو تمھارے لیے اللہ کے ہاں کوئی دوست اور کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ (البقرة:120)
کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا اور اللہ تعالی پر جھوٹ باندھنے والے قیامت کے دن مجرم ہوں گے کیونکہ انھوں نے ان چیزوں کو دین کا حصہ قرار دیا جن کو اللہ اور اس کے رسولﷺ نے دین کا حصہ قرار نہیں دیا اور یہی اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ (النساء: 50)،(الصف:7) انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو بدلا یعنی آسمانی ہدایت کو بدل دیا۔ انھوں نے خالق کا درجہ مخلوق کو دیا کیونکہ دین سازی کا حق خالق کو ہے مخلوق کو نہیں اور یہی شرک فی الحکم ہے۔ (الأعراف: 54)،(الشورى:21) کیونکہ اللہ کی باتوں (قرآن و حدیث) سے کسی کی بات زیادہ سچ نہیں۔ (النساء: 87) اللہ کی باتیں حق ہیں جو باطل کو مٹا دیتی ہیں۔ (الأنبياء:18) اللہ کی باتیں مومنوں اور مجرموں کے راستوں کو واضح کرتی ہیں ۔ (الانعام:55) اور اللہ کی باتوں میں تضاد نہیں ۔ (النساء:82) رسولﷺ نے دین کے بارے میں جو کچھ بتایا (یعنی قرآن وحدیث) تو وہ وحی کے بغیر نہیں بتایا اور دین مکمل ہو چکا اور یہ اللہ کی طرف سے نعمت ہے۔ قیامت کے دن اسلام کے علاوہ کوئی دین قابل قبول نہ ہو گا۔ (آل عمران:85) جو عمل سنت کے مطابق نہ ہو اللہ تعالی کے ہاں مردود (نا قابل قبول) ہے اور بدعتی کا امت مسلمہ سے کوئی تعلق نہیں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں: کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس نے دین میں کوئی ایسا کام کیا جس کی بنیاد شریعت میں نہیں تو وہ کام مردود ہے۔
[بخاری، کتاب الشهادات، باب إذا اصطلحوا على صلح جور فالصلح مردود:[2698،[مسلم، كتاب الأقضية، باب نقض الأحكام الباطلة ورد محدثات الأمور:1718]
ایک دوسری روایت میں ہے:
((من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد ))
جو شخص ایسا کام کرے جس کے لیے ہمارا حکم نہ ہو تو وہ مردود ہے۔ [بخاری، تعليقا، كتاب البيوع، باب النجش، فوق الحديث:2142]،[مسلم، كتاب الأقضية، باب نقض الأحكام الباطلة ورد محدثات الأمور:18/1718]
یعنی لغو اور مردود ہے، اس سے بچنا چاہیے اور اس پر عمل نہیں کرنا چاہیے۔ یہ تینوں احادیث (تیسری حدیث کا حوالہ آگے آرہا ہے) تمام بدعات اور نئی چیزوں کو جو لوگوں نے ن میں داخل کی ہیں، جامع ہیں اور دوسری حدیث پہلی حدیث سے بھی زیادہ صاف ہے۔ ان تینوں احادیث نے بدعتیوں کا سارا ڈھانچہ توڑ دیا اور ان کا گھر اجڑ گیا کیونکہ انھوں نے دین میں جو نئے کام نکالے یہ احادیث ان سب کو رد کرتی ہیں۔
تیسری حدیث جس کا ذکر ہوا وہ یہ ہے:
سیدنا علی، سیدنا عبد اللہ بن عمر اور سیدنا عثمان بن مظعون رضي اللہ عنہم کے متعلق ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کی بیویوں کے گھر آئے اور آپﷺ کی عبادت کا حال پوچھا، جب ان کو بتلایا گیا تو انھوں نے اس عبادت کو کم خیال کیا ، کہنے لگے ہم کہاں! رسول اللہ (ﷺ) کہاں! ہم لوگ تو گناہ گار ہیں۔ ایک کہنے لگا میں تو ساری عمر رات بھر نماز پڑھتا رہوں گا، دوسرا کہنے لگا میں ہمیشہ روزہ دار رہوں گا اور تیسرا کہنے لگا میں تو عمر بھر عورتوں سے الگ رہوں گا۔ اتنے میں رسول اللہﷺ تشریف لے آئے، فرمایا:”میں روزہ بھی رکھتا ہوں، افطار بھی کرتا ہوں ، رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں، سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں، جو کوئی میرےطریقے کو نا پسند کرے وہ میرا نہیں۔
[بخاری، کتاب النکاح ،باب الترغيب في النكاح:5063]
یاد رہے کہ جس طرح نبی اکرمﷺ کی ذات سب بزرگوں اور اماموں سے اعلیٰ و ارفع ہے اسی طرح آپﷺ کی تعلیم ،،سنت،، طریقہ بھی روئے زمین کے تمام طریقوں سے اعلیٰ و ارفع ہے اور پیغمبر کی بات سب باتوں سے اعلیٰ ہے۔
خلاصہ بحث توحید فی الحکم:
اس باب یعنی توحید فی الحکم اور شرک فی الحکم کے باب میں جو بحث ہوئی اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہر کلمہ گو کو دین میں ثابت شدہ عقائد کے مطابق اپنا عقیدہ رکھنا چاہیے اور جو عقیدہ دین سے ثابت نہیں وہ اس کلمہ گو کے لیے قیامت کے دن مصیبت بن جائے گا اور اس سے خود ساختہ عقائد کے متعلق سوال ہوگا۔ مثلاً تمھیں کس نے کہا علی رضی اللہ عنہ تمھارے مشکل کشا ہیں، بغداد والے کے متعلق یہ عقیدے رکھو، لاہور والا تمھارا داتا ہے، اور فلاں امام کی تقلید کرنا محمدﷺ کے طریقے کو چھوڑ کر اور قبروں پر غیر شرعی کام کرنا۔
تفسیر مراد آبادی میں بھی یہی لکھا ہے (الانعام :56، فائدہ:124) یعنی تمھارا طریقہ اتباع نفس و خواہش ہوا ہے نہ کہ اتباع دلیل، اس لیے اختیار کرنے کے قابل نہیں۔ (الأنعام:121، ف :242) کیونکہ دین میں حکم الہی کو چھوڑنا اور دوسرے کے حکم کو ماننا اللہ کے سوا اور کو حاکم قرار دینا شرک ہے۔ (الأعراف:12، ف :17) نص کے موجود ہوتے ہوئے اس کے مقابل قیاس کرنا جو قیاس کہ نص کے خلاف ہو وہ ضرور مردود ہے ۔
اور لکھا ہے کہ اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے(2/120) ف 219) کے تحت لکھتے ہیں اور وہی قابل اتباع ہے اور اس کے سوا ہر راہ باطل و ضلالت ہے۔ مزید دیکھئے یہی [تفسیر:3/73، ف:137 -6/71،ف:155 تا 158]


