مضمون کے اہم نکات
توحيد في الصفات اور شرک فی الصفات
اللہ تعالٰی اپنی صفات میں واحد اور بے مثل ہے، ان میں اس کا کوئی ہمسر نہیں، اس عقیدہ کو توحید فی الصفات کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں کسی اور کو شریک کرنا شرک فی الصفات کہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بے شمار نام ہیں، ان میں سے اللہ اس کا ذاتی نام ہے، ننانوے صفاتی نام تو ترمذی کی ایک روایت میں بھی مذکور ہیں، یہ سب صفاتی نام ہیں اور یہ صفات کسی مخلوق میں نہیں ہیں۔
آیت الکرسی میں اللہ تعالیٰ کی جو صفات بیان ہوئی ہیں وہ کسی مخلوق میں نہیں ہیں:
[اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۚ اَلۡحَیُّ الۡقَیُّوۡمُ ۬ۚ لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّ لَا نَوۡمٌ ؕ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ ؕ یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ ۚ وَ لَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ وَسِعَ کُرۡسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ ۚ وَ لَا یَـُٔوۡدُہٗ حِفۡظُہُمَا ۚ وَ ہُوَ الۡعَلِیُّ الۡعَظِیۡمُ]
اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے، ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے، نہ اسے کچھ اونگھ پکڑتی ہے اور نہ کوئی نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے، کون ہے وہ جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے، جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو سمائے ہوئے ہے اور اسے ان دونوں کی حفاظت نہیں تھکاتی اور وہی سب سے بلند، سب سے بڑا ہے۔ [البقرۃ:255]
سورہ حشر میں اللہ تعالٰی کی کچھ صفات بیان ہوئی ہیں جو کسی مخلوق میں نہیں:
[وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، ہر چھپی اور کھلی چیز کو جاننے والا ہے، وہی بے حد رحم والا، نہایت مہربان ہے]،[ وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہ ہے، نہایت پاک، سلامتی والا،امن دینے والا،نگہبان، سب پر غالب، اپنی مرضی چلانے والا، بے حد بڑائی والا ہے، پاک ہے اللہ اس سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں]،[ وہ اللہ ہی ہے جو خاکہ بنانے والا، گھڑنے ڈھالنے والا، صورت بنادینے والا ہے، سب اچھے نام اسی کے ہیں، اس کی تسبیح ہر وہ چیز کرتی ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے] (الحشر: 22 تا 24)
سورہ اخلاص میں اللہ تعالیٰ کی صفات بیان ہوئی ہیں، یہ صفات کسی مخلوق میں نہیں:
یاد رہے کہ سورہ اخلاص صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق تہائی قرآن کے برابر ہے :
[قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ]،[اَللّٰہُ الصَّمَدُ]،[لَمۡ یَلِدۡ ۬ۙ وَ لَمۡ یُوۡلَدۡ]،[وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ]
کہہ دیجیے! وہ اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور اس کے برابر کا کوئی نہیں ہے۔
[(الإخلاص)]
اللہ تعالی کے برابر کوئی نہیں (ذات میں نہ صفات میں نہ اختیارات میں، نہ حقوق میں) اللہ تعالیٰ نے سب مخلوق کو پیدا کیا، زمین اور آسمان بنائے، زمین سے میوے نکالے ( یہ صفات کسی مخلوق میں نہیں)۔ (البقرۃ:22)
بطور مالک اللہ کے برا بر کسی سے محبت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ تمام طاقت اللہ کے پاس ہے۔ (البقرۃ: 165 تا 167) جو اللہ کے برابر کسی اور کو جانے وہ کافر ہے۔ (الانعام:1 تا 3)،(سباء:33)،(حم السجدة:9) جو اپنے مالک کے برابر دوسروں کو جانے اس کی پیروی نہیں کرنی چاہیے۔ (الأنعام:150) جو اللہ کے برابر دوسروں کو جانے وہ دوزخی ہے۔ (ابراهیم:30)،(الزمر:8) جو سارے جہاں کے مالک کے برابر دوسروں کو سمجھے وہ صاف گمراہ ہے۔ (الشعراء:97 تا 99) اللہ کے جوڑ کا کوئی نہیں، وہ ہر چیز کا داتا ہے۔ (مریم:65) اللہ تعالیٰ ،،كن فيكون،، کا مالک ہے (اور کوئی نہیں):
[بَدِیۡعُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ اِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ]
آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اور جب کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے بس یہی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے۔ [البقرۃ:117]
مزید حوالہ جات کے لیے دیکھیے: (آل عمران: 40، 47، 59)،(الأنعام:73)،( النحل:40) اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (اور کوئی نہیں) اللہ تعالی عرش پر ہے پھر بھی ناظر ہے، یعنی دیکھ رہا ہے، سن رہا ہے (یہ صفت اور کسی میں نہیں):
[وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ] اور اللہ دیکھتا ہے جو وہ کرتے ہیں۔ (البقرة:96)
(مزید حوالہ جات کے لیے دیکھیے:(النساء :1، 32، 33، 35، 58، 70، 108) جب تین آدمی ہوں تو اللہ ان کا چوتھا ہوتا ہے، جب پانچ آدمی ہوں تو اللہ ان کا چھٹا ہوتا ہے۔(وہ ناظر ہے):
[یَوۡمَ یَبۡعَثُہُمُ اللّٰہُ جَمِیۡعًا فَیُنَبِّئُہُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ؕ اَحۡصٰہُ اللّٰہُ وَ نَسُوۡہُ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ]،[اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ مَا یَکُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰی ثَلٰثَۃٍ اِلَّا ہُوَ رَابِعُہُمۡ وَ لَا خَمۡسَۃٍ اِلَّا ہُوَ سَادِسُہُمۡ وَ لَاۤ اَدۡنٰی مِنۡ ذٰلِکَ وَ لَاۤ اَکۡثَرَ اِلَّا ہُوَ مَعَہُمۡ اَیۡنَ مَا کَانُوۡا ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُہُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ]
[جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا، پھر انھیں بتا ئے گا جو انھوں نے کیا۔ اللہ نے اسے محفوظ رکھا اور وہ اسے بھول گئے اور اللہ ہر چیز پر گواہ ہے]،[ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ کوئی تین آدمیوں کی کوئی سرگوشی نہیں ہوتی مگر وہ ان کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ کوئی پانچ آدمیوں کی مگر وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم ہوتے ہیں اور نہ زیادہ مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں بھی ہوں، پھر وہ انھیں قیامت کے دن بتائے گا جو کچھ انھوں نے کیا۔ یقینا اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے]۔ [المجادلۃ:7،6]
ہر جگہ ناظر ہونا اور یہ صفت کسی اور میں رکھنا اللہ کی صفت میں برابری ہے، اس کی وضاحت ہم نے پیچھے بیان کر دی ہے۔ اور یہ شرک ہے، کیونکہ اللہ کے برابر کوئی نہیں اور اللہ جیسا کوئی نہیں: [لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ]۔ [الشورى:11] اور فرمایا :
[ہَلۡ تَعۡلَمُ لَہٗ سَمِیًّا] کیا تو جانتا ہے اس کا کوئی ہم نام؟ [مریم:65]
اللہ کی سب صفات جو اس باب میں مذکور ہیں، یہ اللہ کے لیے خاص ہیں، ان صفات میں سے کسی ایک کو بھی اللہ کی طرح کسی اور میں تسلیم کرنا شرک فی الصفات ہوگا۔
اور ان صفات میں دلائل توحید والی صفات بھی آتی ہیں جو قرآن میں جگہ جگہ مذکور ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی زمین و آسمان میں پیدا کردہ چیزوں اور انسانوں پر کیے گئے انعامات کا ذکر ہے۔ (ابراهیم: 32 تا 34)،( بنی اسرائیل:70،12)۔
[سبحان الله و بحمدہ] (جو فرشتوں اور مومنوں کی تسبیح ہے) (بخاری:817)،(مسلم:484) کا بھی یہی مطلب ہے کہ اللہ اپنی صفات میں شرک سے پاک ہے۔ سبحان الله! جہاں بھی قرآن یا حدیث میں آیا ہے۔
اس کے صرف دو معنی ہیں،
①اللہ تعالیٰ شرک سے پاک ہے،
② اللہ تعالی مخلوق کے نقائص سے پاک ہے۔
جس نے اللہ کی کسی صفت کو مخلوق کی کسی صفت کے مشابہ کیا تو وہ کافر ہے۔ (فقہ اکبر۔ مقدمہ ہدایہ:4/1)
توحید فی الصفات کے بارے میں شرکیہ امور:
امور کائنات اور نظم کا ئنات کی تدبیر میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے نبی، ولی، غوث، قطب یا ابدال کو شریک سمجھنا شرک ہے۔ (یونس:3)،(الرعد:2) زمین و آسمان کے تمام خزانوں میں تصرف کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، اس میں کسی نبی، ولی غوث، قطب یا ابدال کو شریک سمجھنا شرک ہے۔ (المنافقون:7)،(الانعام:50) قیامت کے روز کسی کو سفارش کرنے کی اجازت دینے یا نہ دینے، سفارش قبول کرنے یا نہ کرنے، کسی کو ثواب یا عذاب دینے ، کسی کو پکڑنے یا چھوڑنے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہو گا، اللہ تعالیٰ کے اس اختیار میں کسی کو بھی شریک سمجھنا شرک ہے۔ (الزمر: 43، 44) غیب کا علم رکھنے والا اور ہر جگہ ناظر صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، کسی اور کو عالم الغیب یا ناظر سمجھنا شرک ہے۔ (النمل:65) اللہ ہی دلوں کے چھپے بھید جانتا ہے۔ (الملك:14،13) دلوں کو پھیرنے والا، ہدایت دینے والا، نیکی کی توفیق دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ (الانفال :24)،( القصص:52) رزق کی تنگی یا فراخی، صحت اور بیماری، نفع اور نقصان، زندگی اور موت دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، کسی بھی اور کو اس پر قادر سمجھنا شرک ہے:
[وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَکُمۡ خَشۡیَۃَ اِمۡلَاقٍ ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُہُمۡ وَ اِیَّاکُمۡ ؕ اِنَّ قَتۡلَہُمۡ کَانَ خِطۡاً کَبِیۡرًا]
اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم ہی انھیں رزق دیتے ہیں اور تمھیں بھی۔ بے شک ان کا قتل ہمیشہ سے بہت بڑا گناہ ہے۔ [بني اسرائيل:31]
[قُلۡ اِنَّ رَبِّیۡ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ وَ یَقۡدِرُ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ]
کہہ دے بے شک میرارب رزق فراخ کرتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور تنگ کر دیتا ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ [سبا:36]
( مزید حوالہ جات کے لیے دیکھیے:(القصص:78 تا 82)،( الشورى:50/49)،(الاعراف:190/189)،( آل عمران:27/26)،( الملك:14/13)،(آل عمران:154/119)
اولاد دینے والا یا نہ دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، کسی بھی اور کو اس پر قادر سمجھنا شرک ہے:
[لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ؕیَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ الذُّکُوۡرَ]،[اَوۡ یُزَوِّجُہُمۡ ذُکۡرَانًا وَّ اِنَاثًا ۚ وَ یَجۡعَلُ مَنۡ یَّشَآءُ عَقِیۡمًا ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌ قَدِیۡرٌ]
[آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے]،[یا انھیں ملا کر بیٹے اور بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے، یقینا وہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے]۔ [الشوری:50،49]
دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہیں، کسی بھی اور کو اس میں شریک سمجھنا شرک ہے۔ دلوں میں چھپے راز اور بھید صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے، کسی بھی اورکے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا شرک ہے۔ (الملك:14،13)،(آل عمران:119 ،154)
اور نعیم مراد آبادی صاحب نے بھی یہی لکھا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے نہ مثل نہ نظیر، الوہیت و ربوبیت میں کوئی اس کا شریک نہیں، وہ یکتا ہے، اپنی صفات میں یگانہ ہے، کوئی اس کا شبیہ نہیں۔ دیکھئے: (البقرة:255،171،163 فوائد:531،312،292)،(الأنعام:101،100 فوائد:211 تا 214)،(الحشر:22 تا 24 فوائد:67 تا 75)

