سوال:
تلقین قبول کرنے والے راوی کی حدیث کا کیا حکم ہے؟
جواب:
تلقین قبول کرنا حافظہ میں خرابی کی علامت ہے۔ ایسے راوی کی وہ روایات قبول ہوں گی، جو اس سے قبل از تلقین روایت کی گئی ہوں۔ جن شاگردوں نے تلقین کے بعد سنا ہوگا، ان کی روایات قبول نہیں ہوں گی۔
اسی طرح جن شاگردوں نے تلقین سے پہلے اور بعد دونوں میں سماع کیا ہو اور دونوں طرح کی روایات میں تمیز ممکن نہ ہو، تو وہ تمام روایات ضعیف ہوں گی، کیونکہ اس میں شبہ واقع ہو چکا ہے۔ البتہ اگر تلقین سے پہلے اور بعد والی روایات میں تمیز ہو جائے یا کوئی قرینہ پایا جائے، تو تلقین سے پہلے والی روایات قبول ہوں گی اور بعد والی رد ہو جائیں گی۔
❀ امام ابو حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
من لقن فتلقن التلقين يرد حديثه الذى لقن فيه وأخذ عنه ما أتقن حفظه إذا علم أن ذلك التلقين حادث فى حفظه لا يعرف به قديما فأما من عرف به قديما فى جميع حديثه فلا يقبل حديثه ولا يؤمن أن يكون ما حفظ مما لقن
جس راوی کو تلقین کی گئی اور اس نے تلقین قبول کر لی، تو اس کی وہ حدیث رد ہو جائے گی، جس میں اسے تلقین کی گئی اور وہ حدیث قبول کر لی جائے گی، جس میں اس کا حافظہ مضبوط تھا۔ جب یہ معلوم ہو جائے کہ یہ تلقین اس کے حفظ میں طاری ہوئی ہے، پہلے وہ تلقین قبول نہیں کرتا تھا۔ البتہ جو تلقین قبول کرنے میں پہلے سے ہی تمام احادیث میں معروف ہو، تو اس کی حدیث قبول نہیں، یہ شبہ حل نہیں ہو سکتا کہ کن احادیث میں اس کا حفظ مضبوط رہا اور کن احادیث میں اسے تلقین کی گئی۔
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 34/2)