تلبیہ کے صحیح الفاظ اور عمرہ و حج میں ختم کرنے کا وقت

ماخوذ : فتاویٰ ارکان اسلام
مضمون کے اہم نکات

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تلبیہ کے ثابت شدہ الفاظ اور اس کے ختم کرنے کا وقت

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تلبیہ کے ثابت شدہ الفاظ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو تلبیہ کے الفاظ صحیح احادیث میں منقول ہیں، وہ درج ذیل ہیں:

«لَبَّيْکَ اَللّٰهُمَّ لَبَّيْکَ لَبَّيْکَ لَا شَرِيْکَ لَکَ لَبَّيْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِيْکَ لَکَ»
(صحیح البخاری، الحج، باب التلبیۃ، حدیث: ۱۵۴۹، وصحیح مسلم، الحج، باب التلبیۃ وصفہا، حدیث: ۱۱۸۴)

ترجمہ:
"میں حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔ بے شک تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے ہی لیے ہیں، اور بادشاہی بھی تیرے ہی لیے ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔”

امام نسائی رحمہ اللہ نے اس میں ایک اور جملہ بھی بیان کیا ہے:

«لَبَّيْکَ اِلٰهَ الْحَقِّ»
(سنن النسائی، المناسک، باب کیف التلبیۃ، حدیث: ۲۷۵۳)

ترجمہ:
"اے سچے معبود! میں حاضر ہوں۔”

اس روایت کی سند "حسن” ہے۔

عمرہ اور حج میں تلبیہ ختم کرنے کا وقت

عمرہ کے لیے:

عمرہ کرنے والا تلبیہ اس وقت بند کرے جب وہ طواف شروع کرے۔ اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درج ذیل روایت ملتی ہے:

«اَنَّهَ كَانَ يُمْسِكُ عَنِ التَّلْبِيَةِ فِي الْعُمْرَةِ إِذَا اسْتَلَمَ الْحَجَرَ»
(سنن ابی داؤد، المناسک، باب متی یقطع المعتمر التلبیۃ، حدیث: ۱۸۱۷، جامع الترمذی، الحج، باب ما جاء متی تقطع التلبیۃ فی العمرة، حدیث: ۹۱۹)

ترجمہ:
"آپ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ میں تلبیہ اس وقت بند کر دیتے تھے جب حجر اسود کو بوسہ دیتے۔”

امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو "صحیح” قرار دیا ہے، اگرچہ اس کی سند میں راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ہیں جن کو اکثر محدثین نے "ضعیف” قرار دیا ہے۔

حج کے لیے:

حج کرنے والا عید کے دن جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ جاری رکھے۔ اس سلسلے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت موجود ہے:

«لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ»
(صحیح البخاری، الحج، باب الرکوب والارتداف فی الحج، حدیث: ۱۵۴۳)

ترجمہ:
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک تلبیہ کہتے رہے۔”

فقہی اقوال

امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک عمرہ میں تلبیہ حرم میں پہنچنے کے بعد بند کر دینا چاہیے۔ بعض اہل علم کے مطابق بیت اللہ کے قریب پہنچ کر یا اسے دیکھنے کے بعد تلبیہ بند کر دینا چاہیے۔

تلبیہ کا مفہوم

لفظ "لبیک” کا مطلب ہے:

◈ اطاعت قبول کرنا

◈ دعوت کو لبیک کہنا

یہ لفظ اگرچہ تثنیہ (دو بار کہا جاتا ہے) کے طور پر بولا جاتا ہے، لیکن اس میں کثرت اور شدت سے حاضر ہونے کا مفہوم شامل ہوتا ہے۔

ھٰذا ما عندي، والله أعلم بالصواب

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️