مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

تلاوت میں نبیﷺ کا نام آئے تو درود پڑھنے کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل، جلد 02

سوال

تلاوت کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نماز یا غیر نماز میں آئے تو کیا حکم ہے؟

الجواب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
رَغِمَ اَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ
رسوا ہو وہ آدمی جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ درود نہ پڑھے ، رسوا ہو وہ آدمی جس نے رمضان کا پورا مہینہ پایا اور وہ اپنے گناہ نہ بخشوا سکا ، رسوا ہو وہ آدمی جس کے سامنے اس کے ماں باپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچیں اور وہ ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہوا۔ (صحیح سنن الترمذی للألبانی الجزء الثالث، رقم الحدیث:۲۸۱) الحدیث۔
نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
اَلْبَخِيْلُ الَّذِيْ مَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهٗ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ
’’جس کے سامنے میر انام لیا جائے اور وہ درُود نہ پڑھے تو وہ بخیل ہے۔‘‘ (صحیح سنن ترمذی للألبانی رقم الحدیث:۲۸۱۱) قال الترمذی ھٰذا حدیث حسن صحیح غریب) اہل علم جانتے ہیں کلمہ فاء تعقیب بلا مہملہ کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کا تقاضا ہے کہ فوراً اللهم صلى عليه يا صلى الله عليه کہہ لے ۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔