تقویٰ کی حقیقت، اہمیت، صفات اور فوائد: قرآن و سنت کی روشنی میں مکمل رہنمائی
ماخذ: خطبات حافظ محمد اسحاق زاہد، مرتب کردہ: توحید ڈاٹ کام
مضمون کے اہم نکات

زیرِ نظر مضمون کا موضوع تقویٰ ہے۔ اس مضمون میں سب سے پہلے تقویٰ کی عظیم اہمیت کو قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے، پھر تقویٰ کی حقیقت اور اس کا مفہوم بیان کیا گیا ہے، اس کے بعد متقین (پرہیزگاروں) کی صفات ذکر کی گئی ہیں اور آخر میں تقویٰ کے عظیم فوائد و ثمرات کو بالتفصیل پیش کیا گیا ہے۔ یہ مضمون خطبۂ جمعہ کے اسلوب میں نہیں بلکہ ایک مکمل اصلاحی و علمی مضمون کی صورت میں ترتیب دیا گیا ہے تاکہ قاری تقویٰ کی حقیقت کو سمجھے اور اپنی عملی زندگی میں اسے اختیار کرنے کی کوشش کرے۔

تقویٰ کی اہمیت

خطبۂ مسنونہ میں تقویٰ کا خصوصی ذکر

یہ بات اہلِ علم کے ہاں معروف ہے کہ نبی کریم ﷺ خطبۂ حاجت میں ہمیشہ تین مخصوص آیات کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے روایت ہے:
سنن النسائی: 1404، وصححہ الألبانی

ان تینوں آیاتِ کریمہ کا آغاز تقویٰ کے حکم سے ہوتا ہے، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے نزدیک تقویٰ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔

پہلی آیت
﴿یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ﴾
(آل عمران 3:102)
ترجمہ:
اے ایمان والو! اللہ سے اس طرح ڈرو جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو۔

دوسری آیت
﴿یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ…﴾
﴿وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآئَ لُوْنَ بِہٖ وَالْاَرْحَامَ﴾
(النساء 4:1)
ترجمہ:
اے لوگو! اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔ اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اور رشتہ داروں کے حقوق کا بھی خیال رکھو۔ بے شک اللہ تم پر نگران ہے۔

تیسری آیت
﴿یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا﴾
﴿یُصْلِحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ﴾
(الأحزاب 33:70-71)
ترجمہ:
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور سیدھی بات کہا کرو۔ اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا، اور جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے گا وہ بڑی کامیابی حاصل کرے گا۔

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ تقویٰ ایمان، اصلاحِ اعمال اور مغفرتِ ذنوب کا بنیادی ذریعہ ہے۔

تمام امتوں کو تقویٰ کی وصیت

اللہ تعالیٰ نے صرف اس امت کو نہیں بلکہ سابقہ امتوں کو بھی تقویٰ کی تاکید فرمائی:

﴿وَلَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَاِیَّاکُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰہَ﴾
(النساء 4:131)
ترجمہ:
اور ہم نے تم سے پہلے اہلِ کتاب کو بھی اور تمہیں بھی یہی وصیت کی ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔

یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ تقویٰ تمام آسمانی مذاہب کا مشترکہ اور بنیادی پیغام رہا ہے۔

انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کا مرکزی نکتہ

قرآنِ مجید میں متعدد انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے، اور ہر جگہ تقویٰ کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

حضرت نوح علیہ السلام
﴿اَلَا تَتَّقُوْنَ ۝ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ﴾
(الشعراء 26:105-109)
ترجمہ:
کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟ پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

حضرت ہود علیہ السلام
﴿اَلَا تَتَّقُوْنَ ۝ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ﴾
(الشعراء 26:123-126)
ترجمہ:
کیا تم نہیں ڈرتے؟ پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

حضرت صالح، لوط اور شعیب علیہم السلام
ان تمام انبیاء کی دعوت میں یہی الفاظ دہرائے گئے:
﴿فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ﴾
(الشعراء 26:141-179)
ترجمہ:
پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام
﴿فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ﴾
(الزخرف 43:63)
ترجمہ:
پس اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

یہ تمام آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ تقویٰ ہر نبی کی دعوت کا مرکزی اور بنیادی نکتہ رہا ہے۔

نبی کریم ﷺ کی دعوت و وصیت میں تقویٰ کی اہمیت

انبیائے کرام علیہم السلام کے بعد اگر ہم امام الانبیاء جناب محمد ﷺ کی دعوت، نصیحت اور وصیتوں پر غور کریں تو واضح ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے بھی تقویٰ کو غیر معمولی اہمیت دی اور بار بار اس کی تلقین فرمائی۔

قرآنِ مجید میں نبی ﷺ کی دعوت اور تقویٰ

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کی ابتدائی سورتوں میں ہی نبی کریم ﷺ کے بارے میں ارشاد فرمایا:

﴿اَرَئَیْتَ اِنْ کَانَ عَلَی الْہُدٰی ۝ اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰی﴾
(العلق 96:11-12)
ترجمہ:
بھلا بتاؤ! اگر وہ (بندہ محمد ﷺ) ہدایت پر ہو اور تقویٰ کا حکم دیتا ہو؟

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا ایک بنیادی ستون تقویٰ کا حکم دینا تھا۔

آخری وصیتوں میں تقویٰ کی تاکید

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

((صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ الصُّبْحَ، فَوَعَظَنَا مَوْعِظَۃً بَلِیْغَۃً… فَقَالَ: أُوْصِیْکُمْ بِتَقْوَی اللّٰہِ…))
سنن ابی داود: 4607، جامع الترمذی: 2676، سنن ابن ماجہ: 42، وصححہ الألبانی
ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی، پھر ایسی مؤثر نصیحت فرمائی کہ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور دل کانپ اٹھے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ نصیحت تو الوداع کہنے والے کی معلوم ہوتی ہے، ہمیں وصیت فرمائیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا:
“میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرتے رہنا۔”

حجۃ الوداع میں سب سے پہلی وصیت: تقویٰ

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر یوم النحر کو منیٰ میں خطبہ دیا اور فرمایا:

(اِتَّقُوا اللّٰہَ رَبَّکُمْ، وَصَلُّوا خَمْسَکُمْ، وَصُوْمُوا شَہْرَکُمْ، وَأَدُّوا زَکَاۃَ أَمْوَالِکُمْ، وَأَطِیْعُوا ذَا أَمْرِکُمْ تَدْخُلُوا جَنَّۃَ رَبِّکُمْ)
مسند احمد: 36/486 (22161)، جامع الترمذی: 616، سنن ابی داود: 1955، وصححہ الألبانی
ترجمہ:
اپنے رب اللہ سے ڈرتے رہو، پانچوں نمازیں قائم کرو، رمضان کے روزے رکھو، اپنے مالوں کی زکاۃ ادا کرو اور اپنے حکمرانوں کی اطاعت کرو، تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔

صحابہ کرام کو خصوصی طور پر تقویٰ کی نصیحت

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

(مَنْ یَّأْخُذُ عَنِّی ہٰؤُلَاءِ الْکَلِمَاتِ…)
’’کون شخص ہے جو مجھ سے یہ باتیں سیکھ لے…‘‘
پھر پانچ باتیں ارشاد فرمائیں:

1️⃣ (اِتَّقِ الْمَحَارِمَ تَکُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ)
’’حرام چیزوں سے بچو، سب سے بڑے عبادت گزار بن جاؤ گے۔‘‘

2️⃣ (وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللّٰہُ لَکَ تَکُنْ أَغْنَی النَّاسِ)
’’اللہ کی تقسیم پر راضی رہو، سب سے زیادہ مالدار بن جاؤ گے۔‘‘

3️⃣ (وَأَحْسِنْ إِلٰی جَارِکَ تَکُنْ مُؤْمِنًا)
’’پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، سچے مومن بن جاؤ گے۔‘‘

4️⃣ (وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِکَ تَکُنْ مُسْلِمًا)
’’لوگوں کیلئے وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو، سچے مسلمان بن جاؤ گے۔‘‘

5️⃣ (وَلَا تُکْثِرِ الضَّحِکَ…)
’’زیادہ نہ ہنسا کرو، کیونکہ زیادہ ہنسی دل کو مردہ کر دیتی ہے۔‘‘
جامع الترمذی: 2305، وحسنہ الألبانی

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کو خصوصی نصیحت
(اِتَّقِ اللّٰہَ حَیْثُمَا کُنْتَ…)
جامع الترمذی: 1987، وحسنہ الألبانی
ترجمہ:
جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرتے رہو، برائی کے بعد نیکی کرو جو اسے مٹا دے، اور لوگوں سے اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آؤ۔

نبی ﷺ کی خصوصی دعا

نبی کریم ﷺ خود بھی تقویٰ کیلئے یہ دعا فرمایا کرتے تھے:

(اَللّٰہُمَّ آتِ نَفْسِی تَقْوَاہَا…)
صحیح مسلم: 2722
ترجمہ:
اے اللہ! میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرما، اور اسے پاک کر دے، تو ہی سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے، تو ہی اس کا دوست اور سرپرست ہے۔

حقیقتِ تقویٰ

عزیزانِ گرامی!
اب تک قرآن و حدیث کی روشنی میں تقویٰ کی عظیم اہمیت واضح ہو چکی ہے۔ اب فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ تقویٰ ہے کیا؟ اس کی حقیقت اور اصل مفہوم کیا ہے؟ آئیے اسے تفصیل سے سمجھتے ہیں۔

تقویٰ کا لغوی معنی

لفظ تقویٰ عربی لفظ وقایہ سے ماخوذ ہے، جس کا معنی ہے:

◈ بچاؤ اختیار کرنا
◈ پرہیز کرنا
◈ خطرناک چیز سے اپنے اور اس کے درمیان رکاوٹ کھڑی کرنا

شرعی اصطلاح میں تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ بندہ اپنے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے درمیان اللہ کے خوف کو حفاظتی دیوار بنا لے۔

تقویٰ کی جامع تعریف

تقویٰ کا خلاصہ یہ ہے کہ:

❀ انسان اپنے پورے جسم کو گناہوں سے بچائے
❀ ظاہر اور باطن دونوں میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے پرہیز کرے
❀ جلوت اور خلوت ہر حال میں اللہ سے ڈرتا رہے

اسی مفہوم کو ایک شاعر نے نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے:

خَلِّ الذُّنُوبَ صَغِیْرَہَا وَکَبِیْرَہَا فَہُوَ التُّقٰی
وَاصْنَعْ کَمَاشٍ فَوْقَ أَرْضِ الشَّوْکِ یَحْذَرُ مَا یَرَی

ترجمہ:
چھوٹے بڑے تمام گناہوں کو چھوڑ دو، یہی تقویٰ ہے،
اور ایسے احتیاط سے چلو جیسے کانٹوں والی زمین پر چلنے والا ہر قدم سوچ سمجھ کر رکھتا ہے۔

تقویٰ اور انسانی اعضاء

امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرنا اور اس کے عذاب سے بچنا چاہتا ہے، اسے اپنے پانچ اعضاء کی خاص حفاظت کرنی چاہیے:
آنکھ، کان، زبان، دل اور پیٹ۔
جب یہ محفوظ ہو جائیں تو امید ہے کہ باقی اعضاء بھی محفوظ رہیں گے، اور یوں وہ جامع تقویٰ کا حامل بن جائے گا۔”

اسی طرح سہل بن عبد اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
(مَنْ أَرَادَ أَنْ تَصِحَّ لَہُ التَّقْوَی فَلْیَتْرُکِ الذُّنُوبَ کُلَّہَا)
“جو یہ چاہتا ہے کہ اس کا تقویٰ درست ہو جائے، وہ تمام گناہوں کو چھوڑ دے۔”

صحابہ کرامؓ کے نزدیک تقویٰ

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول
(اَلتَّقْوَی ہِیَ الْخَوْفُ مِنَ الْجَلِیْلِ، وَالْعَمَلُ بِالتَّنْزِیْلِ، وَالْاِسْتِعْدَادُ لِیَوْمِ الرَّحِیْلِ، وَالْقَنَاعَۃُ بِالْقَلِیْلِ)
ترجمہ:
تقویٰ یہ ہے کہ
اللہ جلیل القدر سے ڈرا جائے،
قرآن و سنت پر عمل کیا جائے،
کوچ کے دن (موت) کی تیاری کی جائے،
اور تھوڑے پر قناعت کی جائے۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تفسیر
اللہ تعالیٰ کے فرمان:
﴿اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ﴾
’’اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے‘‘
(آل عمران 3:102)
کے بارے میں فرماتے ہیں:

(أَنْ یُّطَاعَ فَلَا یُعْصٰی، وَیُذْکَرَ فَلَا یُنْسٰی، وَیُشْکَرَ فَلَا یُکْفَر)
ترجمہ:
اللہ سے کما حقہ ڈرنے کا مطلب یہ ہے کہ
اس کی اطاعت کی جائے، نافرمانی نہ کی جائے،
اسے یاد رکھا جائے، بھلایا نہ جائے،
اس کا شکر ادا کیا جائے، ناشکری نہ کی جائے۔

خلوت میں تقویٰ — حقیقی تقویٰ کی پہچان

برادرانِ اسلام!
حقیقی تقویٰ صرف لوگوں کے سامنے نیک بننے کا نام نہیں، بلکہ اصل تقویٰ وہ ہے جو تنہائی میں ظاہر ہو۔

جب انسان:
◈ اکیلا ہو
◈ کوئی دیکھنے والا نہ ہو
◈ گناہ کے تمام اسباب موجود ہوں
◈ شیطان برائی کو مزین کرے
◈ اور اس وقت صرف اللہ کے خوف کی وجہ سے گناہ چھوڑ دے — یہی حقیقی تقویٰ ہے۔

قرآن کی گواہی: خلوت میں اللہ سے ڈرنے والے متقی ہیں

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُم بِالْغَیْبِ وَہُم مِّنَ السَّاعَۃِ مُشْفِقُونَ﴾
(الأنبیاء 21:49)
ترجمہ:
یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب سے تنہائی میں ڈرتے ہیں اور قیامت سے خوف رکھتے ہیں۔

اسی طرح فرمایا:
﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَیْبِ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ کَبِیْرٌ﴾
(الملک 67:12)
ترجمہ:
جو لوگ اپنے رب سے غائبانہ طور پر ڈرتے ہیں، ان کیلئے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔

اور فرمایا:
﴿إِنَّمَا تُنذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّکْرَ وَخَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ﴾
(یس 36:11)
ترجمہ:
آپ صرف اسی کو ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت کی پیروی کرے اور رحمٰن سے تنہائی میں ڈرے۔

خلوت میں گناہوں کا انجام

جو لوگ لوگوں کے سامنے نیک اور متقی بنتے ہیں، مگر تنہائی میں گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں، ان کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے سخت وعید فرمائی۔

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

(لَأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِی یَأْتُوْنَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالَ جِبَالِ تِہَامَۃَ…)
سنن ابن ماجہ: 4245، وصححہ الألبانی
ترجمہ:
میری امت کے کچھ لوگ قیامت کے دن تہامہ کے پہاڑوں جیسی نیکیاں لے کر آئیں گے، مگر اللہ تعالیٰ انہیں اڑا ہوا غبار بنا دے گا، کیونکہ وہ خلوت میں اللہ کی حرام کردہ چیزوں کا ارتکاب کرتے تھے۔

متقین کی صفات (قرآنِ مجید کی روشنی میں)

عزیزانِ گرامی!
حقیقتِ تقویٰ واضح ہونے کے بعد اب یہ جاننا نہایت ضروری ہے کہ قرآنِ مجید نے متقین (پرہیزگاروں) کی کیا صفات بیان کی ہیں؟ کیونکہ تقویٰ کوئی مبہم چیز نہیں بلکہ اس کے واضح اوصاف اور عملی علامات ہیں، جنہیں اختیار کرکے انسان متقی بن سکتا ہے۔

متقین کیلئے قرآن ہدایت ہے

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ﴾
(البقرۃ 2:2)
ترجمہ:
یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، یہ متقین کیلئے ہدایت ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے متقین کی پانچ بنیادی صفات بیان فرمائیں:

متقین کی پانچ بنیادی صفات

غیب پر ایمان
﴿الَّذِیْنَ یُؤمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ﴾
ترجمہ:
وہ لوگ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔
یعنی:
◈ اللہ پر ایمان
◈ فرشتوں پر ایمان
◈ رسولوں پر ایمان
◈ جنت و جہنم پر ایمان
یہ متقین کی پہلی اور بنیادی صفت ہے۔

نماز قائم کرنا
﴿وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ﴾
ترجمہ:
اور نماز قائم کرتے ہیں۔
یعنی:
◈ وقت کی پابندی کے ساتھ
◈ خشوع و خضوع کے ساتھ
◈ ارکان و شرائط کی رعایت کے ساتھ

اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے خرچ کرنا
﴿وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ﴾
ترجمہ:
اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
یعنی:
◈ زکاۃ
◈ صدقات
◈ خیرات
◈ فی سبیل اللہ خرچ

تمام آسمانی کتابوں پر ایمان
﴿وَالَّذِیْنَ یُؤمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ﴾
ترجمہ:
اور وہ اس چیز پر ایمان رکھتے ہیں جو آپ پر نازل کی گئی اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کی گئی۔

آخرت پر یقین
﴿وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ﴾
ترجمہ:
اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔
یعنی:
◈ موت
◈ قبر
◈ حشر
◈ حساب
◈ جنت و جہنم

ان صفات کا نتیجہ
﴿اُولٰٓئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْ وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴾
(البقرۃ 2:5)
ترجمہ:
یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

نیکی اور تقویٰ کی جامع تعریف

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ…﴾
’’نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے چہرے مشرق یا مغرب کی طرف پھیر لو، بلکہ نیکی تو اس کی ہے جو اللہ پر، یومِ آخرت پر، فرشتوں پر، کتاب پر اور نبیوں پر ایمان لائے…‘‘
(البقرۃ 2:177)
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ نیکی صرف ظاہری اعمال کا نام نہیں بلکہ چند عظیم ایمانی و عملی صفات کا مجموعہ ہے، اور انہی صفات کے حامل لوگ ہی متقی ہیں۔

اس آیت میں بیان کردہ متقین کی صفات:
➊ اللہ، آخرت، فرشتوں، کتاب اور انبیاء پر ایمان
➋ مال کی محبت کے باوجود اللہ کی راہ میں خرچ کرنا
➌ نماز قائم کرنا
➍ زکاۃ ادا کرنا
➎ وعدوں کو پورا کرنا
➏ تنگی، بیماری اور جنگ میں صبر کرنا

پھر فرمایا:
﴿اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ﴾
ترجمہ:
یہی لوگ سچے ہیں اور یہی لوگ متقی ہیں۔

متقین کی مزید صفات (آل عمران)

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَسَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ…﴾
’’اور اپنے رب کی مغفرت اور اُس جنت کی طرف دوڑو جس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے…‘‘
(آل عمران 3:133-136)

متقین کی نمایاں صفات:
❀ خوشحالی اور تنگدستی دونوں میں خرچ کرنا
❀ غصہ پی جانا
❀ لوگوں کو معاف کر دینا
❀ گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ کرنا
❀ جان بوجھ کر گناہ پر اصرار نہ کرنا

پھر فرمایا:
﴿اُولٰٓئِکَ جَزَآؤُھُمْ مَّغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ وَجَنّٰتٌ﴾
ترجمہ:
ایسے لوگوں کیلئے ان کے رب کی طرف سے مغفرت اور جنتیں ہیں۔

تقویٰ کے فوائد و ثمرات

محترم قارئین!
جب تقویٰ کی اہمیت، اس کی حقیقت اور متقین کی صفات واضح ہو گئیں تو اب مناسب ہے کہ تقویٰ کے عظیم فوائد و ثمرات کو قرآنِ مجید کی روشنی میں تفصیل سے بیان کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا و آخرت کی ہر بھلائی تقویٰ کے ساتھ وابستہ ہے۔

مشکلات سے نجات اور غیر متوقع رزق

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہُ مَخْرَجًا ۝ وَیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ﴾
(الطلاق 65:2-3)
ترجمہ:
اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے (ہر مشکل سے) نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔

ہر معاملے میں آسانی

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہُ مِنْ اَمْرِہٖ یُسْرًا﴾
(الطلاق 65:4)
ترجمہ:
اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے ہر معاملے میں آسانی پیدا فرما دیتا ہے۔

گناہوں کی معافی اور عظیم اجر

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یُکَفِّرْ عَنْہُ سَیِّـَٔاتِہٖ وَیُعْظِمْ لَہُ اَجْرًا﴾
(الطلاق 65:5)
ترجمہ:
اور جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے گناہ مٹا دیتا ہے اور اسے بہت بڑا اجر عطا فرماتا ہے۔

حق و باطل میں فرق کی صلاحیت

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا﴾
(الأنفال 8:29)
ترجمہ:
اے ایمان والو! اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ تمہیں حق و باطل میں فرق کرنے کی قوت عطا فرمائے گا۔
اسی آیت میں گناہوں کی معافی کا بھی وعدہ ہے۔

اللہ تعالیٰ کی محبت

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ﴾
(التوبۃ 9:7)
ترجمہ:
بے شک اللہ تعالیٰ متقی لوگوں سے محبت کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی معیت اور مدد

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَالَّذِیْنَ ھُمْ مُّحْسِنُوْنَ﴾
(النحل 16:128)
ترجمہ:
یقیناً اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور نیکی کرنے والے ہیں۔

اعمال کی قبولیت

اللہ تعالیٰ کا واضح اعلان ہے:
﴿اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ﴾
(المائدۃ 5:27)
ترجمہ:
اللہ تعالیٰ تو صرف متقی لوگوں ہی کے اعمال قبول فرماتا ہے۔

دنیا و آخرت میں خوشخبری

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ﴾
(یونس 10:63-64)
ترجمہ:
ان کیلئے دنیا کی زندگی میں بھی خوشخبری ہے اور آخرت میں بھی۔

عذابِ الٰہی سے نجات

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَاَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ﴾
(النمل 27:53)
ترجمہ:
اور ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے تھے۔

اللہ کی رحمت کے مستحق

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿فَسَاَکْتُبُھَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ﴾
(الأعراف 7:156)
ترجمہ:
میں اپنی رحمت ان لوگوں کیلئے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔

آخرت میں متقین کیلئے عظیم انعامات

محترم قارئین!
دنیاوی فوائد کے بعد اب آئیے دیکھتے ہیں کہ آخرت میں متقین کیلئے اللہ تعالیٰ نے کیا کچھ تیار کر رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آخرت مکمل طور پر متقین ہی کیلئے ہے۔

آخرت صرف متقین کیلئے

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَالْاٰخِرَۃُ عِنْدَ رَبِّکَ لِلْمُتَّقِیْنَ﴾
(الزخرف 43:35)
ترجمہ:
اور آخرت تو آپ کے رب کے ہاں صرف متقین کیلئے ہے۔

جنت متقین کیلئے مخصوص

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُھَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ﴾
(القصص 28:83)
ترجمہ:
یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کیلئے بناتے ہیں جو زمین میں بڑائی اور فساد نہیں چاہتے، اور اچھا انجام متقین ہی کیلئے ہے۔

جہنم سے نجات اور جنت میں داخلہ

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَاِنْ مِّنْکُمْ اِلَّا وَارِدُھَا… ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا﴾
(مریم 19:71-72)
ترجمہ:
تم میں سے ہر ایک کا جہنم پر گزر ہوگا، یہ تمہارے رب کا طے شدہ فیصلہ ہے، پھر ہم متقین کو نجات دیں گے اور ظالموں کو وہیں چھوڑ دیں گے۔

متقین کیلئے امن، جنتیں اور دائمی نعمتیں

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍ ۝ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ﴾
(الدخان 44:51-52)
ترجمہ:
بے شک متقین امن کی جگہ میں ہوں گے، باغات اور چشموں میں۔

اور فرمایا:
﴿وَسِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّھُمْ اِلَی الْجَنَّۃِ زُمَرًا﴾
(الزمر 39:73-74)
ترجمہ:
اور جن لوگوں نے اپنے رب سے ڈر رکھا تھا انہیں گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔

متقین کیلئے دو جنتیں

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ﴾
(الرحمٰن 55:46)
ترجمہ:
اور جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا، اس کیلئے دو جنتیں ہیں۔

جنت کے وارث صرف متقین

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿تِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ کَانَ تَقِیًّا﴾
(مریم 19:63)
ترجمہ:
یہ وہ جنت ہے جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے صرف انہیں بناتے ہیں جو متقی ہوں۔

نتیجہ

یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہو چکی ہے کہ دنیا و آخرت کی کامیابی کا واحد راستہ تقویٰ ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے اوامر پر عمل کرے، نواہی سے بچے، ظاہر و باطن کو پاک رکھے اور ہر حال میں اللہ سے ڈرتا رہے، وہی حقیقی متقی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچا تقویٰ نصیب فرمائے، متقین کی صفات اختیار کرنے کی توفیق دے اور ہمیں جنت کا وارث بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے