سوال:
درج ذیل روایت کا مفہوم کیا ہے؟
❀ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
قال ابن مسعود رضي الله عنه: أين تذهبين بهذا الحلي؟ قالت: أتقرب به إلى الله ورسوله صلى الله عليه وسلم.
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (اپنی بیوی زینب رضی اللہ عنہا سے) کہا: یہ زیور کہاں لے جا رہی ہیں؟ کہنے لگیں: اس کے ذریعے میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تقرب (خوشنودی) چاہتی ہوں۔
(مسند الإمام أحمد: 373/2، صحيح ابن خزيمة: 2461، وسنده حسن)
جواب:
اس حدیث میں تقرب سے مراد خوشنودی ہے کہ اگر میں یہ زیور اللہ کے راستے میں صدقہ کر دوں گی، تو اس سے اللہ تعالیٰ بھی راضی ہو جائے گا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی راضی ہو جائیں گے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو صدقہ کرنے کا حکم فرمایا تھا۔
یہ مراد نہیں کہ یہ صدقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا اللہ کی عبادت کے لیے ہے، عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی جائز ہے، البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرنے کی نیت کی جا سکتی ہے۔