تفسیر ابن عباس (تنویر المقباس) کی حقیقت محدثین کی نظر میں

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ علمیہ، جلد 3: اصول، تخریج الروایات اور ان کا حکم، صفحہ 245
مضمون کے اہم نکات

تفسیر ابن عباس (تنویر المقباس) کے علمی مقام کا تحقیقی جائزہ

سوال

آج کل "تفسیر ابن عباس” کے نام سے مشہور کتاب "تنویر المقباس” سے بعض اہلِ بریلوی اور اہلِ دیوبند اپنی تحریروں اور تقریروں میں دلائل پیش کرتے ہیں۔ اس تفسیر کی علمی حیثیت کیا ہے؟ برائے مہربانی تحقیق اور ثبوت کے ساتھ وضاحت فرمائیں۔

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

"تنویر المقباس” کے نام سے مشہور تفسیر جو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منسوب کی جاتی ہے، اس کی روایت ابو طاہر محمد بن یعقوب الفیروز آبادی الشیرازی الشافعی (متوفی 817ھ) کے ذریعے منقول ہے۔ تاہم، اس تفسیر کی سند میں آخری راوی درج ذیل ہیں:

"محمّد بن مروان السدي الصغير عن الكلبي عن أبي صالح”

یہ سند، جو "السدی عن الکلبی” پر مشتمل ہے، محدثین کے نزدیک سلسلۃ الکذب یعنی جھوٹ کی زنجیر قرار دی گئی ہے۔ اس بنا پر یہ تفسیر علمی اور شرعی طور پر ناقابلِ اعتماد ہے۔

تفصیلی تحقیق کے لیے ملاحظہ ہو:

ماہنامہ الحدیث حضرو، عدد 24، صفحات 49 تا 61

اہلِ بریلوی اور اہلِ دیوبند کے فتاویٰ سے شواہد

➊ احمد رضا خان بریلوی کا فتویٰ:

احمد رضا خان بریلوی نے اس تفسیر کے بارے میں درج ذیل فتویٰ دیا:

"(3) یہ تفسیر کہ منسوب سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے، ان کی کتاب ہے نہ ان سے ثابت۔ بسند "بن مروان عن الکلبی عن ابی صالح” مروی ہے اور آئمہ دین اس سند کو فرماتے ہیں کہ یہ "سلسلۃ الکذب” ہے۔”

اس پر تفسیر اتقان شریف کی عبارت پیش کی گئی:

"وأوهى طرقه طريق الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس فإن. (2/497). انضم إلى ذلك رواية محمد بن مروان السدي الصغير فهي سلسلة الكذب”

یعنی:

"ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرنے والے طریقوں میں سب سے کمزور طریقہ کلبی کا ابو صالح سے اور اس کا ابن عباس سے روایت کرنا ہے، اور اگر اس میں محمد بن مروان السدی الصغیر کی روایت بھی شامل ہو جائے تو یہ جھوٹ کی زنجیر (سلسلۃ الکذب) بن جاتی ہے۔”

(فتاویٰ رضویہ، جلد 29، صفحہ 396)

➋ مولانا محمد تقی عثمانی دیوبندی کا فتویٰ:

مولانا محمد تقی عثمانی نے اس بارے میں فرمایا:

"رہے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سواگرچہ وہ باتفاق مفسرین کے امام ہیں، لیکن اول تو ان کی تفسیر کتابی شکل میں کسی صحیح سند سے ثابت نہیں ہے۔ آج کل "تنویر المقابس” کے نام سے جو نسخہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف منسوب ہے، اس کی سند نہایت ضعیف ہے۔ کیونکہ یہ نسخہ "محمد بن مروان السدی الصغیر عن الکلبی عن ابی صالح” کی سند سے ہے اور اس سلسلہ سند کو محدثین نے "سلسلۃ الکذب” قرار دیا ہے۔”

(فتاویٰ عثمانی، جلد 1، صفحہ 215)

نتیجہ

❖ "تنویر المقباس” کے نام سے موسوم تفسیر کا انتساب حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف صحیح سند سے ثابت نہیں ہے۔

❖ اس تفسیر کی بنیاد "سلسلۃ الکذب” پر ہے۔

❖ لہٰذا، اہلِ بریلوی اور اہلِ دیوبند کے نزدیک بھی اس کتاب سے استدلال کرنا باطل اور ناقابلِ قبول ہے۔

تاریخِ تحریر: 12 جولائی 2011ء

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب